غزل: راہِ خدا میں جاکے سکینہ تلاش کر

ہر وقت میرے یار نہ دنیا تلاش کر
راہِ خدا میں جاکے سکینہ تلاش کر

امراض جو ہیں ان کا مداوا تلاش کر
مل جاۓ گر کوئی تو مسیحا تلاش کر

صحراٶں میں بھٹکنے سے کچھ فاٸدہ نہیں
منزل پہ لے کے جاۓ وہ رستہ تلاش کر

بس ماحضر پہ تکیہ بھی کرنا نہیں ہے زیب
آۓ جو کام کل بھی وظیفہ تلاش کر

دنیاوآخرت کے سبھی مسٸلے ہوں حل
سیدھا سا کوٸی ایک طریقہ تلاش کر

انگشتری میں جس سے کہ لگ جاۓ چارچاند
ایسا حسین کوئی نگینہ تلاش کر

درجہ ضرور ہوگابلند ایک دن ترا
سچی طلب سے علمی خزینہ تلاش کر

فہرست دوستوں کی اگرچہ نہ ہو طویل
لازم ہے ایک یار تو سچا تلاش کر

دریا عبور کرنے میں جس سے مدد ملے
عاجز کوئی بےعیب سفینہ تلاش کر

ازقلم: سید عزیزالرحمٰن عاجز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے