خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزار پر

میری ڈائری: سفر نامہ دہلی (قسط نمبر ١٠)

ازقلم: ابن الفظ، جھارکھنڈ

امیر خسرو کے مزار سے نکل کر تھوڑا آگے کی اور چلے ایک چھوٹی سی گلی نے ہمارا استقبال کیا گلی میں وہی پھول مالا کا تماشا تھا اونچی شلوار اور غالب کی ٹوپی سر پر سجائے ہاتھ میں پھولوں اور مالوں سے سجی پلیٹ لئے خریدنے کی گوہار لگا رہا تھا، گلی سے سیدھے نکل کر مزار پر پہںنچے ہر طرف وہی شرک و بدعت کا تماشا پسرا ہوا تھا، عقل و خرد رکھنے والے مرد ہاتھ پھیلائے ہوئے آنکھیں نم کئے ہوئے ۔۔ یا خواجہ یا خواجہ۔۔ کی دہائی دے رہے تھے، ادھر عورتیں مزار کی جالی کے قریب بنے چیوبترے میں بیٹھ کر ماتھا پٹخ رہی تھیں کچھ تو وہ تھیں جو اس قدر سر دھن رہی تھیں کہ بال دائیں بائیں جھپاٹے دے رہا تھا ، چیوبترے کے کنارے لگی گھیراونی تار پر رسیاں اور تالے لٹکے ہوئے تھے ۔۔ میری معلومات رسیوں اور دھاگوں کے باندھنے تک تھی لیکن تالا دیکھ کر حیرت ہوئی میں نے اپنے ساتھی ۔۔۔ محمد وسیم ندوی۔۔ سے اس بارے میں دریافت کی تو بتایا کہ یہ سب منت کا تالا ہے،۔ سن کر عقل تماشائی بن کر رہ گئی، دل نے تربت پر حاضری دینے کی خواہش ظاہر کی لیکن لوگوں کی قابل ترس حالت اور عقیدت میں شرک تک کی رسائی دیکھ کر غیرت ایمانی نے اندر جانے سے منع کردیا ، دل افسردہ تھا کیونکہ قبر مبارک کی زیارت نہیں ہوسکی قبر کے پاس بیٹھ کر اس قدر شرک کا تماشا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ، مزار کے دروازہ کے دائیں جانب کچھ سفید لباس زیب تن کئے سر پر ٹوپی چہرے پر داڑھی سجائے ہاتھ میں خواجہ کے نام کی رسید لئے الگ تماشا دکھا رہا تھا ، گویا خواجہ کو بھی کارو بار کا دھندا بنا لیا ، وہیں پر ایک جماعت ڈھول تاشا لئے ہوئے بے خود ہوکر سر دھن کر گارہی تھی ارد گرد خلقت کا ہجوم تھا ،
یہ سب منظر میرے لئے قابل ترس تھا اس سوچ میں ڈوب گیا کہ یہاں میں زیارت کیلئے اور روحانیت کے حصول کیلیے حاضر ہوا تھا لیکن زمینی حقائق کچھ اور تھی ، کیا خواجہ نظام الدین اولیاء کا یہی پیغام تھا کہ اس کے مزار پر شرک کے اڈے قائم کئے جائیں ، کیا محبت کا یہی تقاضا ہے کہ اس کے نام پر خرافات کو گڑھ کر ہوا دی جائے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے طور طریق پر کار بند ہوکر زندگی کو صحیح راہ پر لے جاکر گزاری جائے ، مگر افسوس اور صد افسوس ،۔

نظام الدین اولیاء

|

سلطان المشائخ، محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ چشتی سلسلے کے ایک ایسے بزرگ ہیں جن کے ذریعہ تصوف کی بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت ہوئی۔ آپ نے اپنی زندگی کے بیشتر ایام دلی میں گزارے اور یہیں آپ کی آخری آرامگاہ بھی ہے۔ آپ کے آبا و اجداد بخارا کے رہنے والے تھے۔ یہ شہر وسط ایشیا میں واقع ہے اور ماضی میں یہ علم و فن اور اسلامی ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔اس کی خاک سے بڑے بڑے علمائ، مشائخ اٹھے جنہوں نے ایک عالم کو فیضیاب کیا۔ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے اجداد نے ہندوستان میں بدایوں کو اپنے قیام کے لیے منتخب فرمایا اور یہیں محبوبِ الٰہی کی ولادت با سعادت ہوئی۔

ولادت

ایک روایت کے مطابق ۲۷؍ صفر ۶۳۶ھ آپ کی تاریخ پیدائش ہے۔ آپ کی والدہ کا نام بی بی زلیخا تھا جنہوں نے آپ کی پرورش کی۔ والد خواجہ احمد علی الحسین بخاری کا انتقال تب ہو چکا تھا جب آپ کی عمر پانچ سال کے قریب تھی۔ بدایوں کو ماضی میں علمی اور سیاسی اعتبار سے اہمیت حاصل رہی ہے۔ دلی سلطنت کا ایک گورنر یہاں بھی رہتا تھا اور کئی اہل علم یہاں بستے تھے۔ اسی شہر میں اساتذۂ وقت کے ہاتھوں حضرت نظام الدین اولیاء کی تعلیم و تربیت شروع ہوئی۔ یہیں رسمی علوم کی تکمیل ہوئی اور یہیں دستار فضیلت آپ کے سر باندھی گئی۔ اسی شہر میں پہلی بار آپ نے حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ابو بکر قوال سے سنا۔

حسب و نسب

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ حسب و نسب سے سید تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب بنت رسول حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا تک پہنچتا ہے جو نبی محترم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی تھیں۔

تعلیم و تربیت

حضرت محبوب الٰہی کی تعلیم و تربیت پر آپ کی والدہ نے خصوصی توجہ دی اور آپ کو علماء وقت کی نگرانی میں تعلیم کے لیے بھیجا۔ بے حد ذہین تھے لہٰذا سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا اور ساتوں قرأتوں میں مہارت پیدا کر لی۔ بارہ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے مختلف عقلی و نقلی علوم سے فارغ ہو گئے۔ علم تفسیر، حدیث، فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ ہیئت اور ہندسہ کے بھی ماہر ہو گئے۔

آپ کا حافظہ اتنا اچھا تھا کہ ’مقامات حریری‘ کے چالیس مقالے اور حدیث کی مشہور کتاب ’مشارق الانوار‘ کو مکمل حفظ کر لیا تھا۔ اس کتاب پر آپ نے علمی تحقیق بھی کی تھی۔ تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھانے کی غرض سے آپ دلی تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ آپ کی والدہ اور بہن بھی تھیں۔ یہاں بھی علماء نے آپ کے تبحر علمی کو دیکھا اور بحث و مباحثہ سے متاثر ہو کر ’بحاث‘ و’محفل شکن‘ کا خطاب دیا۔ آپ کے اساتذہ میں ایک مشہور نام مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ کا ملتا ہے جنہوں نے آپ کو سند حدیث تحریر کر کے دیا تھا۔ شیخ امین الدین محدث تبریزی بھی آپ کے استاذ تھے۔

مرشد کی خدمت میں

تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری تھا مگر آپ کے دل میں روحانیت کی تڑپ تھی۔ نور حقیقی کے نظارے کی خواہش تھی جو دامن دل کو کسی اور جانب کھینچ رہی تھی۔ دس سال کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کاذکر سنا تھا تب سے آپ بابا صاحب کی ملاقات کے مشتاق تھے۔ آپ ان سے غائبانہ محبت کرنے لگے تھے اور ان کے نام کا وظیفہ حرز جاں تھا۔ اب آپ بیس سال کے ہو چکے تھے اور علمی اعتبار سے کامل تھے۔

دل کے اشتیاق کو مزید روکنا نہیں چاہتے تھے لہٰذا اجودھن پہنچ گئے اور بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بہت کچھ کہنے اور سننے کے لیے راستے میں الفاظ موزوں کرتے چلے تھے مگر جب پہنچے اور شیخ شیوخ العالم کے چہرۂ مبارک پر نظر پڑی تو دل کی کیفیت زیر و زبر ہو گئی۔ کچھ کہنے اور سننے کا ہوش نہ رہا۔ خاموشی کے ساتھ چہرے کو تکتے رہ گئے۔ پتہ نہیں یہ اتفاق تھا یا شیخ کی نگاہ ولایت کا اثر کہ جو الفاظ بابا صاحب کی زبان سے محبوب الٰہی نے سب سے پہلے سنے وہ یہ تھے:

اے آتشِ فراقت دلہا کباب کردہ

سیلابِ اشتیاقت جانہا خراب کردہ

مرشد کی بارگاہ میں صرف اتنا عرض کر سکے ’’مجھے قدم بوسی کا اشتیاق تھا۔‘‘ بابا صاحب نے مرعوب دیکھ کر فرمایا لکل داخل دہشت۔ (ہر آنے والے پر دہشت غالب ہوتی ہے)۔

بابا صاحب عموماً مرید ہونے کے خواہشمندوں سے مجاہدے کراتے تھے۔ فوراً کسی کو مرید نہیں کرتے تھے۔ مگر جب نظام الدین اولیاء نے پہنچتے ہی مرید ہونے کی خواہش کی تو بغیر پس و پیش کے آپ نے انھیں مرید کر لیا۔

اس موقع پر آپ نے اپنے اس لائق و فائق مرید سے کچھ قرآنی آیتیں پڑھنے کو کہا اور سر کے بالوں کی ایک لٹ کاٹ ڈالی جیسا کہ مشائخ چشتیہ کا دستور تھا۔ بعض اوقات مرید ہوتے وقت مشائخ اس کا سر مونڈوا دیا کرتے تھے مگر آپ کی خواہش ایسا کرنے کی نہیں تھی۔ البتہ جب آپ نے ایک مرید کو سر منڈاتے دیکھا تو حضرت بدرالدین اسحٰق کی معرفت سر منڈانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پھرمرشد کے حکم سے اس وقت سر منڈا دیا گیا۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرشد کی خدمت میں ایک عرصہ گزارا۔ اس دوران آپ تعلیم و تربیت میں مصروف رہے اور مرشد کی زیر سرپرستی آپ کی روحانی تربیت ہوتی رہی، اوراد و وظائف کرتے رہے اور مجاہدہ و تزکیہ نفس کے اشغال پر عامل رہے۔ مرشد کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں طالب علم ہوں، تعلیم حاصل کروں یا چھوڑ کر اوراد و نوافل میں مصروف ہو جائوں؟ جواب ملا، ’’میں کسی کو تعلیم سے نہیں روکتا، وہ بھی کرو، یہ بھی کرو یہاں تک کہ ان میں سے ایک غالب ہوجائے۔‘‘

دہلی میں قیام 

حضرت نظام الدین اولیاء جب پہلی بار بدایوں سے دہلی تشریف لائے تو بعض روایتوں کے مطابق آپ کی عمر سولہ سال تھی۔ یہاں کرایے کے مختلف مکانوں میں آپ کا قیام رہا۔ پہلے آپ تحصیل علم کرتے رہے پھر عبادت و ریاضت اور مجاہدے میں مصروف ہوئے۔ یہاں دہلی میں جب منکرات کا زور تھا اور لوگ خلاف شرع کام کھلم کھلا کرتے تھے، حلال و حرام کی تمیز مٹ چکی تھی ایسے ماحول سے آپ کا دل بھی اچاٹ ہو چکا تھا اور آپ نے اس شہر کو چھوڑ دینے کا ارادہ کیا مگر کچھ غیبی اشارے پا کر اس ارادے سے باز رہے۔ بعد میں غیبی اشارے ملتے ہی نواح دہلی کے ایک گائوں غیاث پور میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

یہ گائوں جمنا کے کنارے واقع تھا اور بہت کم آبادی تھی۔ غیاث پور وہیں واقع تھا جہاں آج کل ہمایوں کا مقبرہ ہے۔ مقبرے کی دیوار سے متصل آج بھی نظام الدین اولیاء کی خانقاہ کے باقیات ہیں۔ بعد میں سلطان معزالدین کیقباد نے یہاں سے قریب کیلو کھری میں اپنا محل بنوایا اور دیگر امراء بھی ادھر آ بسے۔ اس طرح یہاں چہل پہل ہو گئی اور حضرت محبوب الٰہی کو عبادت و ریاضت میں خلل محسوس ہونے لگا۔ اب آپ کو لوگ جاننے لگے تھے اور آپ کی شہرت سن کر یہاں آنے بھی لگے تھے، مگر غیبی اشارے نے آپ کو یہاں سے باہر جانے سے روک دیا۔

علالت و وصال

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ سخت مجاہدات کرتے تھے اور عبادت و ریاضت میں اپنا وقت گزارتے تھے۔ یہ سب کچھ جسمانی علالت کے باوجود کرتے تھے۔ ناتوانی اور کمزوری پر روحانی طاقت غالب رہتی تھی۔ عمر کے آخری پڑائو پر علالت بڑھ گئی تھی اور انتقال کے چالیس دن قبل سے معمولات میں فرق آنے لگے تھے۔ نماز میں سجدے زیادہ کرتے اور خوب خوب گریہ و زاری کرتے تھے۔

کھانا پینا ترک کر دیا تھا۔ اسی حالت میں ۱۸؍ ربیع الثانی ۷۲۵ھ بمطابق ۲؍ اپریل ۱۳۲۵ء بروز بدھ صبح طلوعِ آفتاب کے بعد انتقال فرمایا۔ اسی دن دوپہر کے وقت تدفین عمل میں آئی۔ نماز جنازہ حضرت رکن الدین ملتانی علیہ الرحمہ نے پڑھائی اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلی علیہ الرحمہ کیساتھ مل کر لحد میں اتارا۔ بابا صاحب کے تبرکات یعنی خرقہ، عصا، مصلیٰ اور تسبیح کو بھی قبر میں دفن کردیا گیا،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے