ملت کی تعمیر کا اسلامی ایجنڈا

تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

الله کا تقویٰ اختیار کریں ۔قرآن کو مضبوطی سے تھام لیں۔اسلام پر پختہ ایمان، عمدہ سیرت وکردار، اخوت ومحبت، باہمی مشاورت، محاسبہء نفس، رواداری، حلم ، برداشت، نظم وضبط، تنقید بغرض اصلاح، صرف اللہ کا ڈر ، تعلق باللہ، خلوص، فکر آخرت، صبر و استقامت، اور حکمت اپنائیں۔شرکِ اور شرک خفی سے اجتناب کریں۔ ہم اپنے دل کی تربیت ایسی کریں اللہ کا ذکر سن کر دل نرم ہو جائے،جھک جائے۔آیاتِ قرآنی سن کر ایمان بڑھ جائے ۔ رب پر کامل بھروسہ ، توکل، قناعت ، نماز کا قیام اور ادائے زکواة ۔ وطنی بھائیوں، بہنوں کو اسلام کی دعوت ،توحید، رسالت ،آخرت ، اسلامی مساوات اور عدل وانصاف کے پیغام کو عامة الناس تک پیغام رسانی ۔ ہمارا ملک دار الشہادہ( حق کی گواہی کا علاقہ) اور دارالدعوت ہے ۔ اپنے کردار، تمام دستیاب وسائل و ذرائع ابلاغ سے دلائل کے ساتھ اور سارے وسائل استعمال کرتے ہوئے، موعظتِ حَسَن اور جدال اَحسَن کے اسلوب میں اسلام کا تعارف پیش کریں ۔

اور جو الله اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنالے، اسے معلوم ہوکہ الله کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ( المائدة۔56)

اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں یکسوئی اور فکر مندی ضروری ہے ۔اپنی شخصیت کو اسلام کا نمونه بنائیں۔اپنی اصلاح آپ کے لیے فکر مند اور کوشاں رہیں۔ جلد غصہ میں نہ آئیں۔دوسروں کے بھڑکانے میں آ کر مشتعل نہ ہوں۔جذباتیت ،انتہا پسندی، ضعف ارادہ، اورغیر حکیمانہ کاموں سے اجتناب کریں۔دارالقضاء، دارالافتاء، کاؤنسلنگ سینٹر،تصفیہ سینٹر، مفاہمتی سینٹر کا قیام کریں۔ ۔ مومنانہ بصیرت، سیاسی شعور، سیاسی شعور کی صفات کو نشو نما دیں اور حق بات کہنے میں اثر انداز( assertive) بنیں ۔ گرام پنچایت، بلدیہ، کاؤنسل کے لیے با کردار، ایماندار ملی درد رکھنے والے کینڈیڈیٹس کی حمایت کریں ۔ مسلم معاشرے کو بنیان مرصوص ( سیسہ پلائی دیوار) بنانے کی تدبیریں بروے کار لائیں ۔ منافقین اور کالی بھیڑوں کی پہچان اور ان کے اصلاح حال کے جتن کریں. ملت کے بدخواہ مخبروں کی اصلاح کریں اور حسب موقع و ضرورت ایسے لوگوں کی گوشمالی بھی کریں۔ خواتین کے حقوق ادا کریں، ان سے حسن سلوک کریں۔غیر شرعی کاموں سے اجتناب کریں۔ شادیوں میں جہیز، بارات اور مشرک تہذیب کی نقالی نیز گمراہ قوموں کے رسومات کو کلی طور پر ترک کردیں۔

نہیں اقبال نا امید اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

(2) تعلیم Education

دینی تعلیم ( مدارس)،عصری تعلیم (اسکول،کالج) کے لیے اسلام مرکوز ( Islam-centric) اداروں کے قیام کی رہنمائ و رہبری کریں۔گھروں میں اسلامی تربیت کا رواج بڑھائیں ۔۔ دینی ماحول سازی کریں.

3) معاش و اقتصاد (Economy and Finance)

سرکاری اور نیم سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں ۔ پولس، افواج، ایجنسیوں اور انتظامیہ کے اداروں IAS, IPS, BDO, تحصیلدار ، کلکٹر کے امتحانات UPSC, MPSCمیں شرکت اور کامیابی کی پوری کوشش کریں۔ ہنر مندی، پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کی جد و جہد کریں۔ چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کی لیے بلاسودی سوسائٹز قائم کریں ۔ قرض لیں تو واپس کرنے کی فکر کےساتھ ، دھوکا دینے کے لیے نہیں ۔
4) اتحاد ملت
ملی اتحاد کے لئیے ہر سطح پر چھوٹے بڑے فورم تشکیل دیں۔ مسلکوں کے مابین مناظرے کرنا، کفرکے فتویے دینا بندکریں۔ دارالعلوم اور بڑے دینی مدارس میں سے افراد اور دینی جماعتوں کی تحقیر، تکذیب، طعن و تشنیع، اور خواہ مخواہ کی تردید کے شعبے ختم کرکے ملت کی بقا کے لیے ریسرچ ، مقالوں، مذاکروں مطالعات، اور دعوتی اکیڈمیز کا قیام کریں۔ گروہ بندی ، اوراکابر پرستی سے احتراز کرتے ھوے، باھم اتحاد کے عظیم تر کاز میں قرآن اور اسوہء رسول کو دستورِ حیاتِ اجتماعی بنائیں . ۔دیگر مسالک اور جماعتوں کے ذمہ داروں کے توسیعی خطبات اور خیر سگالی کو مروج کریں۔۔مسجد میں ہر مسلک کے لیے نماز کی عام اجازت ہو۔ مسجدوں سے منفی تاثر دینے والے بورڈ ہٹالیے جائیں ۔ورنہ یہ باطل کے لیے ملت کی سرکوبی کے آلات کا کام کریں گے. ۔

(5) مشترکہ پروگرامز
زکواة اور اس کے جمع وصرف کا اجتماعی نظام ۔مساجد کو مرکز اسلام بنائیں۔ بیت المال کا مرکزی نظم قائم کیا جائے ۔ مسلم بھکاریوں کی تعداد کو کم کرنے کے لئیے. ہر شخص جو ھاتھ پھیلا دے، اللہ کے نام کا واسطہ دے، یعنی پیشہ ور ( نہ کہ حقیقی ضرورت مند) بھکاریوں کی تعداد کم کرنے، بلکہ ختم کردینے کی ، محلے کی سطح پر کوشش کی جائے ۔
نوافل کو ثانوی مقام اور فرائض کو اولین و ترجیحی مقام دیں… عبادت میں بھی، اور بین الانسانی معاملات میں بھی.
7 ). غلو اور افراط و تفریط کے بجائے اعتدال اور میانہ روی اختیار کریں۔
8) . الزام تراشی، چغلخوری، کردار کشی، غیبت و بدخواہی سے بچیں. ہمدردی، مواسات، تعاؤن ، خبر گیری، دستگیری اختیار کریں۔
9). حال کے مناسب و جائز اجزاء و کوائف کے ساتھ ہم آہنگی، صبر وتحمل اور مستقبل کے لیے، مہارت کے ساتھ قلیل مدت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کریں۔ Team work کے اسلوبِ کار کو فروغ دیں.

جاوداں پیہم جواں، ہر دم جواں ہے زندگی

10) علاقہ پرستی، تنگ نظری،اپنا مسلک اپنی جماعت، اور خود پسندی کے بجائے وسعتِ ظرف و قلب و نظر اختیار کریں. سماجی کاموں پر توجہ ۔صفائی ستھرائ کی عادت,وقت کی پابندی ،نظم و ضبط اور عملی جدوجہد، تعلیم، روزگار، کفایت شعاری. پر عمل کو رواج دیں۔
دولت کااسراف اور جاہلانہ غیر شرعی رسومات سے بچیں.

11). ووٹر شناختی کارڈ، آدھار کارڈ، پین کارڈ، اور دیگر دستاویزوں پراپنا اور اپنے بچوں کا درست نام لکھوائیں ۔ املا ء (spelling)درست ہو اور ہر جگہ ایک ہی ہو۔
(12)ظالموں کے کچھ خاص مظالم سے نبرد آزما ہونے کے لیے
مسجد، مدارس، اداروں، دفاتر پر CCTV cameras اور سیکیورٹی کا نظم ۔ اداروں میں اقرباء پروری نہ ہو۔سالانہ آڈٹ اور ادارہ جاتی الیکشن منعقد کریں ۔اداروں، کمیٹیوں، اور سوسائیٹیوں و انجمنوں میں مخلص، بے غرض و بے لوث، ایثار پیشہ ، فعال اور با صلاحیت و قابل افراد کی شمولیت ہو۔
13) جہاں تک ممکن ہو اکھاڑے، ورزش گاہیں، بِنوَٹ،
گتکا ،مارشل آرٹ کی تربیت کے تئیں نوجوانوں کوتندرستی کی طرف متوجہ کریں ۔
14) معیاری ٹیوشن کلاسیز، کوچنگ سینٹر، رشتہ سینٹر، ۔کاؤنسلنگ سینٹر،,IPS, IAS, CET, NEET کوچنگ سینٹر
مفاہمتی سینٹر کاقیام۔، سَمَر کلاسیز،سمر کیمپس، شبینہ درس گاہیں قائم کریں.
"فروغِ وسائل انسانی ( Human Resource Development) کے تحت مسلمان ذہین طلباء کو اسکالرشپ دے کر وکالت، جرنلزم، ڈاکٹری، سرجری ،کاونسلنگ کی تعلیم اور ٹریننگ دلوائیں .

بھنور سے لڑو، تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

16). دین اور دنیا کے معاملے میں صحیح انداز فکر اپنائیں ۔حلال رزق کمائیں حلال مدات میں خرچ کریں. رزق حرام اور اسراف و فضول خرچی سے اور سود سے بچیں. ،

اسلام چاہتا ہے کہ

امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کریں ۔ ۔دین کی سمجھ اور تفقہ فی الدین پیدا کریں۔۔ اعلٰاے کلمتہ الحق،اقامت دین،دعوت دین۔ تبلیغ دین ،اشاعت دین کی بھر پور سعی وجہد کریں ۔ملت کاافتراق وانتشار۔ وہن یعنی حُبّ دنیا اور موت کا خوف دور کیا جائے ۔
اللہ تعالیٰ پر گہرا یقین ہو۔

جن لوگوں نے الله کو چھوڑ کردوسرے سر پرست بنالیے ہیں، ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے۔اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔(العنکبوت 41:29)

17) . مظلوموں کا حمایتی، غیرجابندار میڈیا / سوشل میڈیا وقت کی شدید، اور ناگزیر ضرورت ہے ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

سوشل میڈیا ۔رابطے

میڈیا چینل شروع نہ کر سکیں تو کچھ چینلوں میں حصہ داری یا متعینہ ابلاغی وقت خریدنے کی کوشش کی جائے. Journalism کے آن لائن کورسز چلائیں جائے۔سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کرتے ہوئےانگریزی پرنٹ میڈیا کی کوشش کی جائے۔ سچ اور آئینہ دکھانے والے یوٹیوب آزاد پورٹل کو بڑھاوا دیا جائے ۔MEDIA ONE,۔مثلاً The wire, media for india,, social Media Desk, افھام وغیرہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے