اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

ہوائے وقت کی سازش ہے کچھ اپنی کمی بھی ہے
مری تہذیب کا قاتل طلسمِ مغربی بھی ہے
شبِ ظلمات کے اے آخری رہرو نہ گھبرانا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے
نفاق و آتشی الفاظ سے اتنی وفا ہے کیوں ؟
بڑا پیارا لغت میں جب کہ لفظ‍ِ آشتی بھی ہے
نہ لیجے نامِ صہبا جام و مینا سامنے میرے ۔۔
مرے مذہب میں ناجائز تو ذکرِ مئے کشی بھی ہے
جماعت میں کوئی موسیٰ نہ اب ہارون ہے کوئی
تعاقب میں مگر فرعون بھی ہے سامری بھی ہے
مبارک ہو یہ اندازِ سخن ، حسنِ ادب ، شوخی
تمہاری شاعری میں آگہی بھی ساحری بھی ہے
درخشندہ ہر اک حرفِ غزل ہے جو ثریا سا
جمالِ جاناں سے چھن کر یہ آئی روشنی بھی ہے

ازقلم: جمال قدوسی، اٹوا بازار سدھارتھ نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے