"پیغمبر اِز اورس” یعنی پیغمبر ہمارے ہیں مہم کی ضرورت ہے

تحریر: مشرف شمسی
میرا روڈ ،ممبئی
9322674787

رسول اللہ سب کے ہیں یہ ایک اچھی مہم ہے اور اس مہم پر مسلسل کام کرنے کی ضرورت بھی ہے ۔رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو بھی پیغام دیا ہے وہ سبھی پیغام عالم انسان کے لئے ہے نہ کہ صرف مسلمانوں کے لئے ہے لیکن آج رسول اللہ سب کے ہیں یا پروفیٹ فار آل جیسی مہم چلانے کی ضرورت آن پڑی ہے؟ رسول اللہ کی سیرت اور شخصیت پر دنیا میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں شاید ہی دنیا کی کسی اور شخصیت پر لکھی گئی ہے ۔رسول اللہ کی شخصیت اور اُن کی سیرت پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ کتابیں دنیا کی زیادہ تر زبانوں میں دستیاب ہیں ۔آخر رسول اللہ کی شخصیت اور اُن کی سیرت سے حوصلھ افزائی حاصل کر اُن کے پیروکار نے اسلام کو تقریباً پوری دنیا میں پھیلا دیا۔عرب کے جیالے صرف رسول اللہ کی شخصیت اور اُن کی کتاب سے متاثر نہیں تھے بلکہ رسول اللہ کی شخصیت اور اُن کی سیرت کو اپنی زندگی میں پیوست کر اُنکے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کیئے اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
لیکن آج ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ دنیا میں جس شخصیت کے بارے میں لاکھوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اُن کی سیرت کو دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے سامنے ایک مہم کے تحت رکھا جا رہا ہے ۔جبکہ پوری دنیا میں مسلمان دوسری بڑی آبادی ہے یعنی دو ارب کے قریب مسلمان ہیں اس کے باوجود مسلمان اور اُن کے رسول کے خلاف ایک منصوبہ بند پروپیگنڈہ چلایا جا رہا ہے اور مسلمان اُن پروپیگنڈے کا جواب نہیں دے پا رہے ہیں ۔اس کی وجہ مسلمان خود رسول اللہ کی شخصیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور ان کے کہے پر چلنا چھوڑ چکے ہیں ۔مسلمان نماز بھی پڑھتا ہے روزہ بھی رکھتا ہے ،زکواۃ بھی دیتا ہے،قربانی بھی کرتا ہے اور حج کے لیے بھی جاتا ہے ،مسلمان داڑھی بھی رکھتا ہے اور مسواک بھی کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو جھوٹ بولنے،گندگی کرنے،دوسروں کا مال ہڑپنے ،غیبت کرنے ،دھوکہ دینے غرض کہ جو رسول اللہ کے سامنے سب سے زیادہ نا پسندیدہ تھا اُسے آج کے مسلمانوں نے اپنا لیا ہے ۔اسلئے رسول اللہ سب کے ہیں سے پہلے رسول اللہ ہمارے ہیں یعنی رسول اللہ از اورس جیسے مہم کی ضرورت ہے ۔پورے بھارت میں دیکھ لیں جہاں بھی گندگی نظر آ جائے گی ،سمجھ لیں کوئی مسلم محلّہ آ گیا ہے ۔جبکہ رسول اللہ نے صاف صفائی پر کافی زور دیئے ہیں ۔صرف گندگی نہیں آنے جانے کا راستہ بھی مسلم علاقے میں سکڑا ہوا ملے گا ۔کہیں کہیں تو مردہ کو تابوت میں رکھ نکالنے بھر چوڑا راستہ بھی نہیں ملتا ہے ۔آج کے مسلمانوں میں حضور کی سیرت کا عکس کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے ۔غیر مذاھب کے لوگ اپنے آس پاس جس طرح کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں اسی سے مسلمانوں کے قائد اور نبی کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں ۔آپ کسی غیر مذاھب کے لوگوں کو رسول اللہ کے بارے میں کتنا بھی بتا دیں جب تک ہم خود رسول اللہ کی سیرت کونہیں اپنائیں گے کتنا بھی کر لیں کچھ بھی نتیجہ اخذ نہیں ہوگا۔
رسول اللہ نے اپنی پوری زندگی انسانی خدمت میں وقف کر دیئے ۔لیکن آج کی تاریخ میں مسلمانوں کی جگہ سکھوں نے انسانی خدمت کا بیڑہ اٹھا لیا ہے ۔سکھوں نے اپنے کردار سے انسانی خدمت کی مشال پیش کی ہے اسلئے کوئی بھی سکھوں کے گرو پر سوال نہیں اٹھاتا ہے اور نہ ہی سکھوں کو اپنے گرو کے بارے میں غیر مذہب کو بتانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔
مسلمانوں کو رسول اللہ کی سیرت سے سیکھ کر ایک با عمل مسلمان بننے کی ضرورت ہے ۔با عمل اور با کردار مسلمان ہی رسول اللہ کی سیرت کی عکاسی آج کے سماج میں کرتے نظر آئیں گے اور ان مسلمانوں کو دیکھ کر ہی غیر مذاھب کے لوگ رسول اللہ کی شخصیت کو بھی سمجھ پا ئیں گے ۔اسلئے پیغمبر سب کے ہیں کی جگہ پیغمبر ہمارے ہیں کی مہم کی اسد ضرورت ہے ۔
کسی بھی مہم کی کامیابی کے لئے صاف نیت ضروری ہے ۔اگر موجودہ مہم کا مقصد جو بتایا جا رہا ہے واقعی وہی ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ضرور کامیابی ملے گی اور یہ مہم آگے بھی چلتی رہے گی ۔لیکن اس مہم کے ساتھ بھارت جوڑو بھی جڑ جا رہا ہے تو یہ مہم اصل مقصد سے بھٹک نہیں جائے اس کا خیال رکھا جانا چاہیے ۔کیونکہ مہم کی کامیابی آرگنائزر کی نیت اور صاف گوئی پر بہت حد تک منحصر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے