بہار میں بہار کے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ، حکومت اور ملت دونوں کے لمحہ فکریہ


آج ہر ایک زبان پر یہی ھے کہ بہار میں بہار ہے ، بات صحیح ہے ، یقینا بہار میں بہار ہے ، ہر طرف روڈ کا جال بچھ گیا ھے ، گلیاں روشنیوں سے جگ مگ کر رہی ہیں ، لوگ گنگا کے کنارے ریور ویلی کا لطف لے رہے ہیں ، کچھ دنوں میں بہار کے لوگ میٹرو سے بھی لطف اندوز ہوں گے ، یہی نہیں ہر طرف امن و شانتی کا ماحول ہے ، غرض بہار میں بہار ہی بہار ہے ، یہ ہم سبھی کے لئے فخر کی بات ھے ، مگر اس بہار کے درمیان مسلم اقلیت کے ادارے خزاں رسیدہ نظر آ رہے ہیں ، یہ بہار کی بہار کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں کہ آخر ہمارا کیا قصور کہ بہار کے درمیان بھی ہم پر بہار کے اثر کے بجائے خزاں سایہ فگن ہے ، مسلم اقلیت کے تمام ادرے اپنی خزاں پر افسوس کر رہے ہیں اور انتطار میں ہیں کہ کب ان پر بہار کی بہار کا رنگ چڑھے گا ،؟ پٹنہ کے اشوک راج پتھ پر سائنس کالج کے مقابل میں مشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ہے ، یہ ایک صدی کے سرد و گرم کا ابھی بھی گواہ ھے ، یہ بھی بہار کی بہار میں خزاں رسیدہ ھے ، اس کے شعبہ سینیر میں پرنسپل سمیت 4/ اساتذہ کام کر رہے ہیں ، جبکہ یہاں مولوی سے فاضل تک تعلیم ہوتی ھے ، اس کے شعبہ جونیئر کے تمام اساتذہ سبکدوش ہوگئے ، برسوں سے عہدے خالی ہیں ، اس شعبہ کے بند ہونے کی خبر شائع ہوئی تو ڈیپوٹیشن پر اسکول کے کچھ اساتذہ کو بھیج دیا گیا ھے ، ابھی تک مستقل اساتذہ کی تقرری نہیں ہوئی ، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ہی کے شعبہ جونیئر کے احاطہ میں عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹیچیوٹ واقع ھے، یہ مشہور ادارہ ھے ، اس میں صرف ڈائریکٹر ہیں ، پروفیسر کے تمام عہدے برسوں سے خالی ہیں ، بغیر کسی پروفیسر کے یہ ادارہ چل رہا ھے ، ان دو نوں کے علاؤہ بہار اردو اکادمی ، گورنمنٹ اردو لائبریری ، اردو مشاورتی کمیٹی ، بہار اقلیتی کمیشن اور بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ یہ تمام ادارے بغیر ہیڈ کے چل رہے ہیں ، بہار اردو اکادمی میں کئی برسوں سے تشکیل نہیں ہوئی ، مستقل سیکریٹری نہیں ہے ، کام کاج ٹھپ ھے ، اردو لائبریری میں مستقل صدر نہیں ، صرف چند اسٹاف کام کر رہے ہیں ، اردو مشاورتی کمیٹی کی کئی برسوں سے تشکیل نہیں ہوئی ، بہار اقلیتی کمیشن اور بہار مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کی مدت ختم ہوگئی ، ابھی تک کمیشن اور بورڈ کی تشکیل نہیں ہوئی ، یہ ہے بہار کی بہار میں خزاں کا ایک منظر نامہ ، یہی نہیں ، اردو کو ہائی اسکول کے مانک منڈل سے نکال دیا گیا ، اور نصاب میں اردو کو لازمی گروپ سے نکال کر ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ اختیاری مضمون کے گروپ میں شامل کر دیا گیا ، جس کی وجہ سے طلبہ اردو کی تعلیم سے محروم کرنے کی سازش کی گئی ھے ، پرائمری اور مڈل میں طلبہ کی شرط لگادی گئی ھے کہ طلبہ ہون گے تو اردو ٹیچر دیئے جائیں گے ، جبکہ محترم وزیر اعلی کا اعلان آج بھی موجود ھے کہ ہر اسکول میں اردو ٹیچر بحال کئے جائیں گے ، خواہ طلبہ ہوں یا نہ ہوں ، ٹیچر ہوں گے ، تبھی تو لڑکے اردو لیں گے ، اس صاف اعلان کے باوجود اردو کے طلبہ کو اردو مادری زبان پڑھنے سے محروم کیا جارہا ھے ، تعداد کی شرط والے نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ، مگر وہ واپس نہیں لیا گیا ، اردو بنگلہ اسپیشل ٹی سی ٹی پاس امیدوار برسوں سے تقرری کے انتظار میں ہیں ، مگر ابھی تک ان کی تقرری پر غور نہیں کیا گیا ، جبکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ، ایسا سوالات کے غلط ہونے سے ہوا ھے ، افسوس کی بات ھے کہ ان کو پاس کر کے پھر فیل قرار دیا گیا ہے
موجودہ وقت بہار کے لئے نہایت ہی اہم ھے ، پھر سے مہا گٹھبندھن کی سرکار بن گئی ہے ، نئی حکومت سے لوگوں کے پھر سے توقعات بڑھے ہیں ، ایسے موقع پر لازم ھے کہ حکومت بھی توقعات پر کھری اترے اور ملت کے قائدین و اردو کی تنظیمیں بھی اس پر کام کریں ، خاص طور پر عزت مآب وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی دونوں حضرات سے اپیل ھے کہ مسلم اقلیت کے ادارے اور ان کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں ، تاکہ بہار کی بہار کا منظر پورے طور پر دیکھائی دے ، اللہ تعالی ان اداروں کی حفاظت کرے اور جلد بہار کے لئے راستہ ہموار کرے۔

ازقلم: (مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے