عمان میں ڈرون کے ذریعے پارسل کی ترسیل

وقت اور فیول بچانے، ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے، روڈ پر ٹریفک کم کرنے کیلئے مشرق وسطیٰ کے اہم ملک عمان میں کامیاب تجربہ کرلیاگیا۔ انٹرنیشنل معروف کمپنی ارمیکسAramex نے کہا ہے کہ اس نے مسقط، عمان میں اپنے "فیوچر ڈیلیوری پروگرام” کا پائلٹ مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ آزمائشی پروازیں USA میں قائم UVL Robotics کے ساتھ اشترک میں کی گئیں، جو ایک تکنیکی رہنما ہے جو ڈاؤن مارکیٹنگ کا حل پیش کرتا ہے۔ ڈرون ٹیسٹنگ ارمیکس کے "فیوچر ڈیلیوری پروگرام” کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈرون اور آٹومیٹک گاڑیوں کی ڈیلیوری کی استعداد کار کو بڑھانے، صارفین کے اطمینان کو بہتر بنانے، اور ڈیلیوری کی ترسیل میں لاگت پر آنے والے اخراجات میں کمی کرنا ہے۔ یہ ٹیسٹ ایک ملٹی فیز پروگرام کا پہلا حصہ ہے، کیونکہ Aramex کا مقصد اپنے بیڑے کو مکمل طور پر اخراج سے پاک الیکٹرک اور ہائیڈروجن فیول سیل گاڑیوں میں منتقل کرنا ہے۔ پائلٹ نے بنیادی طور پر مسقط میں مختلف خطوں، فاصلوں اور موسمی حالات میں محفوظ اور موثر طریقے سے پارسل فراہم کرنے کے لیے ایک مکمل آٹومیٹک ڈرون کی جانچ پر کامیاب تجربات کیے ہیں۔ چیف آپریٹنگ آفیسر آلہ سعودی نے کہا کہ Aramex کی ڈرون ڈیلیوری سروس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم مستقبل کے چیلنجز سے آگاہ ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ڈرون اور آٹومیٹک گاڑیوں سمیت ہماری کارکردگی اگلی نسلوں کیلئے گیم چیلنجز ثابت ہوں گی، کیونکہ یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ موثر ترسیل کو یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ UVL روبوٹکس کے ساتھ کامیاب ڈرون ڈیلیوری ٹیسٹنگ سے ہمیں امید ہے کہ ڈیلیوری کے یہ جدید طریقے ہمیں پیکج کی ترسیل کی جلد رسائی کیلئے اور قابل اعتماد بنائیں گے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں تک رسائی مشکل ہے۔

اس کے علاوہ یہ پروگرام ہمارے گاڑیوں سے نکلنے والی گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرنے مدد دیں گا۔ انگد سنگھ، گلوبل ڈائریکٹر انوویشن آف ارمیکس کا کہنا ہے کہ آٹومیٹک ڈرون ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر ٹرانزٹ ٹائم کو نصف تک کم کر سکتی ہے۔ روٹس، انہیں "مختلف شعبوں بشمول ای کامرس، ہیلتھ کیئر، اور فارماسیوٹیکلز میں پیکجز کی ترسیل کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ہم اپنے صارفین کے لیے اس پروڈکٹ کو بڑھانے اور اسے ان تمام مارکیٹوں میں تعینات کرنے کے منتظر ہیں۔
موسی البلوشی ریجنل ڈائریکٹر نے کہا: "ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ڈرون کے ذریعے ترسیل مستقبل کی لاجسٹکس کا اہم حصہ ہے اور کاروبار کی پائیداری کی حکمت عملی کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔ ڈرون کاروں کے مقابلے میں 26 گنا کم کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتے ہیں۔ جس کا خطے کی ماحولیات پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ ڈرون کا استعمال آپریٹنگ اخراجات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، اور مشکل سے مشکل مقامات تک پیکج پہنچانے میں لگنے والے وقت سے تقریباً تین گنا کم کر سکتا ہے۔
ارمیکس مشرق وسطیٰ کے خطے میں اپنے ڈرون ڈیلیوری ٹیسٹنگ کو وسعت دینے کے ساتھ ہی دیگر بنیادی مارکیٹوں میں ایک ملٹی ماڈل اپروچ کو آزمانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں ترسیل کے لیے ڈرون اور دیگر الیکٹرک اور خود مختار کاریں شامل ہوں گی۔
فی الحال ارمیکس کے اردونی آپریشنز نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور دنیا بھر میں مسلسل الیکٹرک گاڑیوں کی جانچ کے ساتھ الیکٹرک گاڑیاں تعینات کی ہیں۔ اور مصر میں بھی اہم بنیادی مارکیٹوں میں ایک الیکٹرانک بیڑے کو تعینات کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
دنیا جس تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، ہائے کاش کہ ہمارے حکمران بھی اس سے کچھ سیکھ سکیں۔

تحریر: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے