"تعزیت” انسانی برادری کی مشترکہ میراث ہے

ازقلم: سمیع اللہ خان

پیش آنے والے ہر حادثے پر تبصرہ کرنا اور کمینٹ کرنا ضروری نہیں ہے، ناہی آپ کی ذمّہ داری ہے، یہ دراصل سوشل میڈیا کی بیماری ہے، خاص کر جب کسی انسان کی موت ہوجائے تو باوجود شدید اختلافات کے زبان پر قابو رکھنا اصل سمجھداری ہے، ماتم کرنے کے لیے کوئی نہیں کہہ رہا ہے ناہی غلو مطلوب ہے، لیکن نظریاتی مخالف ہی کیا دشمن کی موت پر بھی اگر آپ انسانی ہمدردی کے جذبات کا رسمی اظہار نہیں کرسکتےہیں تو یہ دنیا میں بڑی کمزوری اور انسانی روایتوں میں عیب ہے، ایسے عیوب کا مظاہرہ کرنے کےساتھ کوئی بھی قوم ترقی نہیں کرتی، تاریخِ اسلامی میں جابجا نظیریں ملتی ہیں کہ دشمنوں کے اعزاء سے بھی تعزیت کی گئی ہے، مسلمانوں کا عقیدہ ہےکہ موت کےبعد دنیا کا ہر انسان اس دنیا کے بنانے والے کی عدالت میں ہوتاہے، اگر اوپر والے کی عدالت پر یقین ہے تو نیچے بیٹھ کر کمینٹس پاس کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے، نیز موت کے فوراﹰ بعد نفرتوں کا اظہار یہ مسلمانیت تو کجا انسانیت کےبھی خلاف ہے، کسی انسان کی موت پر دوسرے انسان کے دل میں پہلا تاثر کیا پیدا ہوتاہے یہ اُس کی انسانی روایتوں میں خاندانی شرافت کا آئینہ دار ہوتاہے، اگر کوئی نفرت کا اظہار کرتاہے تو حاصل تو کچھ بھی نہیں البتہ ہوسکتاہے کہ وہ اپنے لیے مشکلات کھڑی کر لے اور ایسے طرزعمل سے انتہائی غلط پیغام عام ہوتاہے، اور ایسا کرنے والے لوگ سوسائٹی میں اپنی وقعت کھو دیتے ہیں، اگر ناپسندیدہ شخص کی وفات ہے تو خاموشی بھی تو اختیار کی جاسکتی ہے، حالانکہ ‘تعزیت’ انسانی برادری کی مشترکہ وراثت ہے، تعزیتی وراثت کا تسلسل حالتِ جنگ میں بھی جاری رہتا ہے، البتہ کسی کی موت کےبعد فوراﹰ ہی اسے غیرواقعی طورپر پیش کیا جانے لگے تو یہ بھی خیانت ہے، موت کے فوراﹰ بعد اقرباء سے تعزیت اصل ہے پھر اگر مرحوم یا آنجہانی کوئی قومی، ملی، سیاسی، سماجی یا فکری شخصیت ہے تو اس کی عملی زندگی کے مثبت و منفی پہلوﺅں پر امانت داری کےساتھ تجزیہ کيا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے