قرآن کی دعوت اور منشور ملت

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

قرآن ہر طرح سے وہ مکمل ہدایت نامہ ہےجس میں ظاہری وباطنی، انفرادی واجتماعی، قومی اور بین الاقوامی غرض زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔اس کا مزاج آفاقی اور بین النسانی ہے۔یہ الله کا آخری صحیفہ ہےجو پوری طرح تحریف سے محفوظ ہے ۔قرآن کو احسن الحدیث یعنی بہترین بات کہا گیا ہے ۔قرآن کی تعلیمات فکر وکردار کی عظمت کا احاطہ کرنے والی ہے۔ یہ صراط مستقیم دکھانے والی کتاب ہے۔اس کا بیانیہ واضح اور اثر دار ہے۔اس کی آیات حکمت ودانش سے بھری ہوئی ہیں۔یہ بڑی برکت والی کتاب ہے۔ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اسے قبول کریں۔ پرہیز گار لوگوں کے لیے ہدایت، یادیانی، سیدھا راستہ ، نصیحت، بصیرت ،تنبیہ ،بیماریوں سے شفاء اور روشنی ہے۔

قرآن مجید کے حقوق
(1) ایمان بالقرآن
(2)تعظیم القرآن
(3)تلاوت قرآن
(4)استماع الی القرآن
(5) فقہ ولقرآن
(6)تدّبرالقرآن
(7) تذکّر بالقرآن
(8) رجوع الی القرآن
(9)تمسیک بالقرآن
(10) دعوت القرآن
(11)اقامت القرآن
(12)اطاعت براہ قرآن
(13)جہاد بالقرآن

فہم قران کے لیے

(1) اپنے قلب کو امادگی کے لیے تیار رکھیں ۔
(2) اس کے لیے اپنی نیت کو پاکیزہ اور خالص رکھیں ۔
(3)قرآن کو دل سے ایک برتر کلام مانیں ۔
(4)قرآن کے تقاضوں کے مطابق بسلنے کا عزم کریں ۔
(5) دماغ پر بندھی پٹی کھولیں ۔
(6)قرآن سے راہ نمائی حاصل کرنے کی دعا کرتے رہیں ۔

قرآن فہمی کے عمومی اصول

(1) قرآن کو زندہ حقیقت کے طور ہر سمجھیے۔
(2) قران کو کل کے ایک جز کے طور پرسمجھیے۔
(3) قرآن کو مربوط یک جا متن کے طور پر سمجھیے۔
(4) قرآن کو اپنے مکمل وجود کے ساتھ سمجھیے۔
(5)قرآن جو بتاتا ہے اسے سمجھیے۔
(6)صرف قرآنی معیارات سے سمجھیے۔
(6) قرآن کو قرآن سے سمجھیے ۔
(7) قرآن کو حدیث وسیرت سے سمجھیے ۔
(8)قرآن کے ساتھ سنّت کو مضبوطی سے تھامیے۔
(9) حدیثوں کی قدر پہچانیے۔
(10) قرآن کو سیکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔
(11) فہم قرآن کے لیے ۔الله کا پسندیدہ بندہ اور ناپسندیدہ بندہ کی قرآنی ہدایات کو جمع کیا جائے ۔عقائد، اخلاق، حقوق، فرائض، احکام، امر ونواہی، معاشرت۔معیشت، سیاست، قانون تمدن، صلح وجنگ کے اصولوں پر قرآنی آیات کو جمع کرکے غور وخوض کیا جائے ۔

قرآن میں تدبّر کیسے کریں ؟

(1) ہر ہر آیت، ہر ایک لفظ پر غور کریں ۔
(2) موضوعات پر غور کریں، کسی صورت، چند آیات پر مسلسل غور وفکر سے علم وحکمت کے موتی رولیں۔
(3) کسی ایک موضوع کو غور وفکر اور بحث وتحقیق کا موضوع بنالیا جائے ۔آیات کا شان نزول، پس منظر الفاظ کی تحقیق،عمود پر بنظر غائر توجہ دی جائے۔

درس وقرآن کے مطالعے کے لیے موضوعات
حقیقت توحید، دین کا خلاصہ،قرآن، ایمان، نماز، زکات وانفاق، روزہ، حج، تذکیہ نفس، داعی کاکردار، دعوت کا طریقہ کار، امت کا فرض منصبی، مومن کی شان۔رحمان کے پسندیدہ بندے، سود کی حرمت، طلاق ونکاح کے احکام، حسن سلوک، توبہ واستغفار، اقامت دین اور دعوت، اولاد کی ویمانی تربیت، دنیا کی حقیقت، جنت کے وارثین۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)قرآن پاک کو ترجمہ سے پڑھا جائے.
(2) دروس قرآنی کے حلقے قائم ہوں۔
(3) اجتماعی مطالعہ قران کی نشستوں کا انتظام کیا جائے ۔
(4) قرآن فورم اور قرآنی مطالعہ دوستوں کا گروپ بنایا جائے ۔
(5)مساجد میں دروس قرآن کی عام اجازت اور حلقہ ء درس قائم کیے جائیں ۔
(6)مساجد میں الگ الگ مترجمین کے ترجموں کی خواندگی کی جائے ۔
(7) شہر کی سطح پرقرانک لائبریری Quranic library قائم کی جائے ۔
(8) قرآن سمجھنے کے لیے مختلف شارٹ ٹرم کورس چلائیں جائیں ۔
جیسے
آن لائن تجوید کلاس، عربی گرامر کلاس، قرآن کی چالیس سورتوں کے مطالعے کا نصاب، قرآن صحت سے اور مخرج سے پڑھنے کے کورس، قرآن ورڈ ٹو ورڈ کلاس، التّبیان سینٹر، قرآت کلاسیز، ویکلی تدبر اور قرآن فہمی کی مجلسیں وغیرہ ۔۔خواتین اور لڑکیوں کو مسجد کے گوشہ میں قرآن پاک سے جڑنے، قرآنی لائبریری سے استفا دہ کرنےاور حلقہ درس میں شامل کرنے کے انتظام کیے جائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے