قرض! ناقابل فراموش واقعہ

ازقلم: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)

ایک سعودی تاجر کا بیان ہے کہ میں اور میرا دوست سعود شہر بریدہ میں تجارت کرتے تھے۔ ایک دن میں جمعہ کی نماز کے لیے بریدہ کی مسجد الکبیر میں گیا ،نماز جمعہ کے بعد جنازہ کا اعلان ہوا، نماز جنازہ ادا کی گئی لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ کس کا ہے، پتہ چلا کہ یہ جنازہ میرے ہی دوست سعود کا ہے جو گزشتہ رات ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا تھا.
مجھے سُن کر انتہائی صدمہ پہنچا یہ سن 1998ء کی بات ہے۔ چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دکاندار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمے میرے 3لاکھ ریال ہیں، تو آپ میرے ساتھ چلیں ہم جا کر اس کے بیٹوں سے بات کریں، اور یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ سعود کے ذمہ یہ قرض ھے۔
چنانچہ ہم مرحوم کے بیٹوں سے جا کر ملے بات چیت ہوئی، تو انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم لوٹانے سے صاف انکار کردیا، اور کہا کہ ہمارے باپ نے تو صرف 6لاکھ ریال چھوڑے ہیں، اگر 3لاکھ ہم آپ کو دیتے ہیں، تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا۔ اس دور میں بہت سا لین دین باہم اعتماد پر ہوتا تھا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے، یوں وقت گزرتا گیا، لیکن ہر وقت مجھے سعود کی یاد ستاتی رہی، یہی سوچتا رہا کہ نہ جانے قرض نہ چکانے کی وجہ سے قبر میں اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہو گی۔
ایک دن میں نے اپنے پیارے دوست کا قرض اتارنے کا عزم کر لیا، اس ارادے کے بعد پھر مجھے دو دن تک نیند نہیں آئی، جب بھی میں سونے کے لئے آنکھیں بند کرتا، تو سعود کا مسکراتا چہرا میرے سامنے آجاتا، گویا وہ میری مدد کا منتظر ہو۔ تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوے، اپنی دکان سامان سمیت فروخت کر دی، اور دیگر جمع پونجی اکٹھی کی؛تو میرے پاس 4 لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہو گئے، تو فورا 3 لاکھ ریال سے دوست کا قرض ادا کیا۔ جس سے مجھے دلی سکون ملا اس ادائیگی کے 2 ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3 لاکھ ادا کئے تھے، میرے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ مجھے پتا چلا ہے، کہ آپ نے اپنا سب کچھ بیچ کر یہ پیمنٹ کی ہے؛لہذا میں 1لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں، اور اس نے 1 لاکھ ریال مجھے واپس کر دیا، اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں کے ساتھ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا، کہ مخلص دوست نے کمال کی مثال قائم کر دی ہے۔
چند دن گزرے کہ ایک تاجر کا فون آیا، اس نے پیشکش کی کہ میرے پاس دو دکانوں پر مشتمل ایک سٹور ہے، جو میں آپ کو بلا معاوضہ دینا چاہتا ہوں، میں نے اس کی پیشکش کو قبول کیا، مزدور لگا کر دکانوں کی صفائی کی اسی دوران سامان سے لدا ہوا ایک بڑا ٹرک دکانوں کے سامنے آ کر رکا۔ جس میں سے ایک نوجوان نیچے اترا سلام کے بعد کہنے لگا کہ میں فلاں تاجر کا بیٹا ہوں۔ یہ سامان میرے ابا جان نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سامان بیچ کر اس کی نصف قیمت آپ ہمیں لوٹا دینا اور باقی آدھا مال ھماری طرف سے تحفہ ہے، اور آئندہ جتنے مال کی ضرورت ہو، ہم سے ادھار لے کر فروخت کر کے پیمنٹ کر دیا کریں، یہ وہ لوگ تھے، جنھیں میں جانتا بھی نہ تھا۔ چاروں طرف سے میرے ساتھ تعاون کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے، اور تھوڑے ہی عرصے میں میرا بزنس پہلے سے دگنا ہو گیا، المختصر 2014ء کے رمضان المبارک میں، میں نے 3 ملین ریال اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی ہے،
يہ كوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے. سیدِ کائنات رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان گرامی کس قدر سچا ھے کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رھتا ھے اللہ تعالٰی بھی اس کی مدد کرتا رھتا ھے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ایسی خیر و برکت عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے