قرآن کریم ایک معجزہ

تحریر: فریدہ آصف

فرصت اگر ملے تو پرھنا مجھے ضرور
میں تیری الجھنوں کا مکمل جواب ہوں

مکرمی!
تمام تعریف اس رب العالمین کے لۓ ہے جو پوری کائنات کا رب ہے، اور جس کے قبضے میں ہماری جان ہے،،اج جو موضوع ہمارے اور آپ کے زبان،ذہن،اور روح کو روشن کرے گا وہ ہے قرآن کریم
قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے،اسے کسی انسان نے نہیں لکھا بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ھدایت یافتہ کتاب ہے،قرآن اللہ سبحانہ تعالی کا بہترین معجزہ ہے، قرآن کےذریعہ ہی اللہ تعالی نے انسانوں کو ھدایت دی جسکو قبول کر کے وہ راہ حق پر آگیا،
اللہ تعالی نے آسمانی کتاب تورات، زبور،انجیل نازل کی لیکن لوگوں نے اپنی من مرضی کے مطابق تبدیلی کردی، لیکن قرآن کریم ایک ایسی واحد کتاب ہے جسے اللہ نے نازل کیا وہ تا قیامت تک ویسی ہی رہے گی،اس میں ذرہ برابر بھی ردوبدل ممکن نہیں ہے، کیونکہ اسکے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود اپنے ذمے لی ہے،
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اہل کتاب اور مشرکین کو قرآن کا مثل لانے کا چیلنج دیا تھا،پھر یہ چیلنج دس سورتوں تک محدود ہو کر رہ گیا حتی کہ صرف ایک ہی سورت کا مثل لانے کا چیلنج دے دیا گیا، مگر نزول قرآن کے آغاز سے چودہ صدیاں گزر گئ مگر کوئ شخص قرآن مجید کی سی ایک بھی صورت تخلیق نہ کرسکا جس میں کلام الہی کا سا حسن، بلاغت، شان،حکیمانہ خصوصیات ہوں_سچی پیشنگوئیاں اور دیگر کامل خصوصیات ہوں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کی چھوٹی سی چھوٹی سورت”الکوثر” ہے جس میں فقط دس الفاظ ہیں مگر کوئ اسوقت اس چیلنج کا جواب نہ دے سکا اور نہ بعد میں
قول خدا، قول محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فرمان نہ بدلا جاۓ گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جاۓ گا
اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت عمرؓ کو جب انھوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا قرآن کی چند ایات سننے کے بعد ان کے دل کی کیفیت بدل دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر اللہ تعالی نے انھیں قرآن کے ہی ذریعہ اسلام کا خلیفہ بنا دیا
یہ کتاب ایک معجزہ ہے، صحراۓ عرب کے وحشی، جاہل،مے نوش، سودخوروں پر جب قرآن کی آیات اتری تو مے نوشوں نے شراب کی مٹکیاں انڈیل دیں،سودخوروں کا بازار سرد پڑ گیا، مشرکین نے وحدانیت کے آگے سر تسلیم خم کر دیا،بت گر پڑے، اور جب پردے کا حکم آیا تو عورتوں نے شرم و حیا کا لبادہ اوڑھ لیا
ایک بہت پیاری حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاۓ(بخاری ۵۰۲۷ ، عن عثمان رض ) ،اس لۓ ہم قرآن کو اپنا شعار بنائیں، اس سے لو لگائیں، اس کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنے عمل اور کردار سے دوسروں تک پہنچائیں، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قرآن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے