قرآن

قرآن کے لفظی معنیٰ ہیں وہ جسے پڑھا جائے۔اصطلاح میں وہ کتاب یا وحی کامجموعہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت محمدﷺ پر نازل کیا ۔اللہ نے نبیوں کو بہت سےمعجزات عطا فرمائےتھے۔حضرت موسیٰؑ کوعصا اور یدِ بیضا عطا کیا ۔حضرت عیسیٰؑ نا بینا کو بینائی عطاکرتے تھے۔ کسی نبی کی قربانی کوغیبی آگ بھسم کر دیتی تھی ۔ حضرت محمد� کو اللہ تعالیٰ نے قرآن بطور معجزہ عطا کیا تھا۔
قرآن اللہ کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے یا شک کی کوئی بات نہیں ہے۔قرآن کی ابتداسورہ فاتحہ سے ہوتی ہے جو ایک دعا ہے جو بندہ اپنے رب سے کر رہا ہے۔وہ اپنے رب سے صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت کا طلبگار ہے۔ بدلےمیں اللہ تعالیٰ اسے جو ہدایت فرماتا ہے اسی کا نام قرآن ہے۔
قرآن سے ہرکوئی ہدایت نہیں پا سکتا۔ اس کےلئےبندہ میں مندرجہ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے:
بندہ متقی اورپرہیز گار ہو،بھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو۔
غیب پر ایمان لاتا ہو۔
نماز قائم کرتا ہو۔
اللہ کےدئےہوئے رزق میں سے بھلائی کے کاموں میں صرف کرتا ہو۔
قرآن اور اس سے پہلےنازل ہوئی آسمانی کتابوں پر ایمان لاتا ہو۔
آخرت پر یقین رکھتا ہو۔
جب بندےمیں یہ صفات پائی جاتی ہیں تو وہ صدق دل سے خالص نیت کے ساتھ اللہ سےہدایت پانے کی جستجو میں قرآن کا مطالعہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنےاس بندے کو ہدایت فرماتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو تعصب اور تنگ نظری کی خامیوں کوتلاش کرنے کے لئے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو اللہ انھیں ہدایت عطا نہیں کرتے اور وہ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں۔
قرآن کی تعلیمات تین بنیادی مضامیں پر مشتمل ہیں:
اللہ کی وحدانیت یعنی اللہ تعالیٰ کا واحد حقیقی معبود ہونا۔
رسالت یعنی اللہ کا اپنے بندوں میں سے رسول یا پیغمبرکو مبعوث کرنا اور ان کے ذریعے تمام
بندوں کو ہدایت پہنچانا۔
آخرت یعنی دنیاوی زندگی ایک امتحان ہے۔انسان کو دنیا میں جو بھی نعمتیں اوراختیارات دئے
گئے ہیں وہ اس کی آزمائش کے لئے ہیں۔انسان اس زندگی میں جو بھی اعمال کرتا ہے ان کے
لئے وہ جوابدہ ہے۔اس دنیا کے خاتمے پر اللہ تعالیٰ دوسرا جہان قائم کرے گے جہاں تمام
انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گااور ان سےان کے اعمال کاحساب لیاجائےگا۔ اس حساب میں
جوکامیاب ہو گا اسےجنت میں داخل کیا جائے گاجہاں وہ ہمیشہ رہے گااور جنت کی نعمتوں سے
لطف اندوز ہوگا۔ جو اس حساب میں ناکام ہوگا اسے جہنم میں داخل کیا جائے گاجہاں وہ ہمیشہ
رہے گااور جہنم کے عذاب کا مزہ چکھے گا۔
اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن میں انھیں مضامین پر مکمل بحث کی ہے۔ اس کے لئےکبھی انسان کو اس کے وجود پر غور کرنےکو کہا تو کبھی زمین و آسمان کی تخلیق سے اسے آگاہ کیا۔ کبھی بادلوں کےبننے اور ان سے بارش ہونےکا نظام بتایاتو کبھی بیج کے بونےاور فصلوں کے اگنے اور پھر سوکھ کر بھوسا بننے کی بات سمجھائی۔ کبھی ہواؤں کے چلنے کی حقیقت سمجھائی تو کبھی تاریخ انسانی کے عظیم واقعات کا ذکر کیا۔
اسی قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جینے کے آداب سکھائےہیں۔ انسان کو اپنےحقوق ، اس کے معبودکے حقوق ، اس کے رشتہ داروں ،ہمسایوں اور دوسری مخلوقات کےحقوق سے آگاہ کیا۔تجارت اور لین دین کے طریقے سکھائے۔قانون اور حکومت کی تعلیم دی۔غرض قرآن ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جسے اگر انسان سمجھے اور عمل کرےتویہ دنیا جنت بن جائے۔مگر افسوس صد افسوس ۔ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانےوالی کتاب، دنیا میں سب سے زیادہ حفظ کی جانے والی یعنی سینوں میں محفوظ کی جانے والی کتاب کا المیہ یہ ہے کہ یہی دنیا کی سب سے مظلوم کتاب ہے۔ جس کتاب کوہدایت کے لئے نازل کیا گیا تھا آج ہم نے اسے طاق کی زینت بنا دیا ہے۔رمضان میں بنا سمجھے طوطے کی طرح رٹتے ہیں یا پھر ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
مسلمانو ! بیدار ہو جاؤ۔ اللہ نے کامیابی کا راستہ اس قرآن میں رکھا ہے۔اسے سمجھ کر پڑھو اور اس کے احکام پر عمل کرو۔آج ہماری تنزلی کا سب سے بڑا سبب قرآن سے دوری ہے۔ علامہ اقبال نے صد فیصد سچ کہا تھا:

وہ زمانے میں معزز تھےمسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

لوٹ آؤ اللہ کے دین کی طرف ، لوٹ آؤ اللہ کے قرآن کی طرف۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ، ورنہ:

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

تحریر: مختار احمد، شانتی پارک ،میرا روڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے