نمونۂ عمل

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اس قدرکامل اورمکمل ہے کہ انسانی زندگی کے ہر موقع کے لئے اس میں نمونۂ عمل موجود ہے، آقاصلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیداہوئے ماں بھی صغرسنی میں چلی گئیں ،د ادانے بھی رخت سفرباندھ لیا، ایسے میں یتیموں کیلئے بڑاسبق یہ ہے کہ جب اللہ ظاہری سہارے چھین لیتاہے تو حفاظت وتربیت سب کاسامان غیبی طور پر فراہم کردیتاہے، آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے بکریاں چرانے، باغوں کی سینچائی کرنے اورتجارت کے لئے باہر کاسفر ہمیں بتاتاہے کہ رزق حلال کی طلب میں کسی کام کوچھوٹااورحقیر سمجھنے کاکوئی جواز نہیں ہے، کوہ صفاپر چڑ ھ کرقولوالاالہ اللہ تفلحوا کااعلان بتلاتاہے کہ پیغام رسانی کی جوشکلیں رائج ہوں ان کااستعمال کیاجاسکتاہے، چالیس سال کی عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کانکاح کرنا،بیوہ سے شادی کرنے اورعمر کے تفاوت سے فرق نہ پر نے کاخیال ہمارے دل میں ڈالتاہے، غارحراء کاقیام ذکراللہ کے لئے وقت کوفارغ کرنے کی اہمیت کوبتاتاہے مشرکین کی طرف سے راستے میں کانٹابچھانے، جسم اطہر پر اوجھ ڈالنے ، گلے میں پھندالگانے اورطائف کی گلیوں میں اوباشوں کے پتھر کھاکھاکر لہولوہان ہونے کے باوجود دعوت حق کے لئے صبروتحمل سے کام لیناامت کومسائل ومشکلات کے وقت صبر وتحمل کاپیغام سناتاہے،سفر معراج عروج آدم خاکی کی داستاں اورمعجزات آپ کی حقانیت کی دلیل روشن ہے، ہجرت کی رات دشمنوں کے نرغے سے صحیح سلامت نکل جانا، بتاتا ہے کہ تدبیر اللہ کی کار گر ہوتی ہے اور وہ اچھی تدبیر کرنے والا ہے، راہ خدا میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اور محبوب زمین کو چھوڑ کر مدینہ چلے جانا اللہ کے حکم پر جان ومال قربان کرنے کے جذبہ کی عملی تصویر ہے۔ حلف الفضول میثاق مدینہ اورصلح حدیبیہ مختلف اوقات کے اعتبار سے بقاء باہم کی حکمت عملی ہے، غزوات وسرایاحق کی سربلندی کے لئے سب کچھ قربان کردینے کے شوق فراواں کامظہر اتم ہے، انتم الطلقاء کااعلان دشمنوں کے ساتھ حس سلوک کی میثال اور فتح مکہ کے بعد اسلامی حکومت کاقیام، اقامت دین کی واضح اور اصولی شکل وصورت ہے، خلفاء راشدین، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، ازواج مطہرات ، اہل بیت وغیرہ کی زندگیاں رجال سازی کاپیغام سناتی ہیں اور آپ کادنیاسے چلے جانابتاتاہے کہ ہر نفس کوموت کامزہ چکھناہے، چاہے وہ محبوب رب العالمین ہی کیوں نہ ہوں،انسان جس حالت میں بھی ہو اس کے لئے آپ کی زندگی میں نمونۂ عمل ہے، مسلمان اس بات کوسمجھ کر عمل کی راہ میں آگے بڑھنا شروع کرے گا تو وہ ذلت وپستی کے موجودہ دور سے نکل جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے