قرآن اللہ کا دسترخوان ہے

ازقلم: محمد خالد داروگر ،سانتا کروز، ممبئی

اگر دل میں قرآن مجید کی عظمت و اہمیت نہ ہو تو آدمی اس کے سمجھنے اور اس سے حقائق و معارف دریافت کرنے پر وہ محنت صرف نہیں کرسکتا جو اس کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے ۔
ایک شخص جب قرآن مجید کو گہری نگاہ سے پڑھتا ہے اور غور کرتا ہے تو وہ ہر قدم پر یہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کریم کے تقاضے اور مطالبے اس کی اپنی خواہشوں اور چاہتوں سے بلکل مختلف ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے تصورات و نظریات بھی قرآن مجید سے بیشتر الگ ہیں اور اس کے معاملات و تعلقات بھی قرآن مجید کے مقرر کردہ حدود سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے باطن کو بھی قرآن سے دور پاتا ہے اور اپنے ظاہر کو بھی اس سے بلکل منحرف دیکھتا ہے ۔ اس فرق و اختلاف کو محسوس کرکے ایک صاحب عزم اور حق طلب آدمی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو میں اپنے آپ کو تاحد امکان قرآن مجید کے مطالبات کے مطابق بنانے اور سنوارنے کی کوشش کرونگا ۔ اسی قرآن کی طرف بار بار رجوع کرنا یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی کہیں خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی ہے ۔ زندگی کے ہر موقع پر اللہ کی منشاء کو جاننے کا ذریعہ قرآن مجید ہے ۔ اور اسی لیے رجوع الیِ القرآن ایک مسلسل عمل ہے ۔ آپس میں اختلاف ہوجائے تو بھی قرآن وسنت کی طرف رجوع ہی اس کے تصفیے کی بہترین شکل ہے ۔ فی زمانہ ضرورت اس بات کی ہے امت مسلمہ کا ہر فرد قرآن مجید کے تعلق سے اپنی موجودہ روش کو بدلے اور ناظرہ کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھ کر پڑھے اور قرآن مجید کو صرف کتاب ثواب نہ سمجھے بلکہ اس کو کتاب ہدایت سمجھ کر پڑھے۔
صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کا بہت ہی جامع و خوبصورت تعارف کرایا ہے ۔
"یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے ، اس کے دسترخوان پر جس قدر حاضری دے سکو ضرور دو ، بلا شبہ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے ، چشم کشا روشنی ہے ، فائدے سے بھرپور شفا ہے ، جو اسے تھام لے اس کے لیے سامان حفاظت ہے ، جو اس کی پیروی کرے اس کے لیے وسیلہ نجات ہے ، اس میں کہیں غلطی نہیں ہے کہ معذرت خواہی کی ضرورت پڑے ، اس میں کہیں ٹیڑھ نہیں ہے جسے درست کرنے کی زحمت اٹھانی پڑے ، اس کے انوکھے خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے ، اور بار بار پڑھنے سے اس میں بوسیدگی نہیں آئے گی ۔”(طبرانی کبیر)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے