موضوع قرآن حضرت انسان

از قلم: صفیہ راشد خان
ملت نگر

إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَیۡنَ أَن یَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَـٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومࣰا جَهُولࣰا

یہ قرآن رحمت عالم کا عمومی پیغام ہے۔
یہ قرآن اسلام کے دعویٰ اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔
یہی قرآن اسلام کی طاقت اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا اصلی ہتھیار تھا جس کی کاٹ نے کبھی خطا نہ کی۔
اسی قرآن نے عمررضی اللہ عنہ جیسے مضبوط انسان کو سحر زدہ کر دیا تھا ۔

اسی قرآن کے سامنے طفیل دوسی جیسے ذہین شعرآ بے بس ہو گئے تھے۔
اسی قرآن کا کلام تھا جسے پڑھ کر قریش یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے تھے
ما ھذا الا کلام البشر
یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے
یہی قرآن کی ایتیں تھیں جسے جب جنوں نے سنا تو پکار اٹھے انا سمعنا قرآنآ عجبا۔یھدی الی الرشد

اس کا موضوع انسان ہے۔

لَقَدۡ أَنزَلۡنَاۤ إِلَیۡكُمۡ كِتَـٰبࣰا فِیهِ ذِكۡرُكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ۔اس میں تمھارا ہی تذکرہ ہے۔

یہ وہ کتاب ہے جو دنیوی زندگی میں انسان کا کردار طے کرتی ہے۔

اس کی ذمہ داری سے آگاہ کرتی ہے۔ اس کی روح کی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے۔

اس کی آخرت کی منزل کا پتہ بتاتی ہے۔ قرب الہی کے لیے مواد فراہم کرتی ہے۔ انسان کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

اس قرآن کی کتابت خود الله تعالٰی نے کی ہے۔

یہ الله کا کلام ہے۔ قرآن کلام ربی ہے اور انسان کی روح امر ربی ہے
کوئی شخص ذرا دیر ہم سے گفتگو کرے تو ہم اس کی شخصیت کا اندازہ اس کی بات سے لگا لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اس قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہوئے ہم اپنے رب کو پہچان سکتے ہیں۔ اسکی معرفت حاصل کر سکتے ہیں۔

الگ الگ انداز سے ہمارے رب نے ہم سے گفتگو کی ہے۔
اپناتعارف دیا تو فرمایا
الرحمٰن علم القران
رحمٰن وہ جس نے قرآن سکھایا۔

جب نصیحت کی تو فرمایا فاذکرونی اذکرکم و اشکروا لی ولا تکفرون۔
تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کرونگا اور میرا شکر ادا کرو میری نا شکری نہ کرو

کہیں اپنی رحمت و شفقت کی فروانی ان الفاظ میں کی
یعبادی الذین اسرفوا علي انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعا انه هو الغفور الرحيم
ائے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بے شک اللہ معاف کردے گا تمام گناہوں کو

اس لیے حضرت علی رضی الله عنه فرماتے تھے كہ جب میرا جی چاہتا ہے کہ الله مجھ سے بات کرے تو میں قرآن پڑھتا ہوں۔

جو صفت اس کلام کی ہے وہی صفت خود الله تعالیٰ کی ہے
یعنی جو کمال متکلم کا ہے وہی کمال اس کلام کا ہے۔

سورہ حشر میں فر مایا کہ اگر ہم اس قر ان کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھنے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔

لَوۡ أَنزَلۡنَا هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلࣲ لَّرَأَیۡتَهُۥ خَـٰشِعࣰا مُّتَصَدِّعࣰا مِّنۡ خَشۡیَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَـٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ یَتَفَكَّرُونَ

اور سورہ اعرف میں جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کو دیکھنے کی خواہش کی تو رب نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی اور پہا ڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو کر گر پڑے۔
قَالَ رَبِّ أَرِنِیۤ أَنظُرۡ إِلَیۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِی وَلَـٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِیۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكࣰّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقࣰاۚ فَلَمَّاۤ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَـٰنَكَ تُبۡتُ إِلَیۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ۔یعنی اگر اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ پھٹ جاتا
اور جب اللہ نے اپنی تجلی اپنا نور پہاڑ پر ڈالا تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا

بنانے والے نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے اور ہمیں بنا کر یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہماری رہنمائی کے لیے پورا قران اتارا ہے۔
ایسی کتاب جو زندگی کے ہر باب میں ہماری رہنمائی کرتی ہے
کہیں الله اور اس کے رسول کے حقوق ہیں تو کہیں مان باپ اور زوجین کے حقوق ہیں۔
کہیں اولاد کی تربیت ہے تو کہیں رشتہ دار و عزیز و اقارب ہیں۔

کہں بیوہ اور یتیم ہیں تو کہیں وراثت اور وصیت ہے۔
کہیں پڑوسی اور مسا فر ہیں تو
کہیں سائل اور مسئول ہیں۔

الغرض ! اس کتاب میں انسان کی پوری زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ایک باؤنڈری اور حدود متعین کردی گئی ہیں اور ہمیں اختیار کی آذادی دے دی گئی ہے۔
تلک حدود الله فلا تعتدوھا
تلک حدود الله فلا تقربوھا
یہ اللہ کی حدود ہیں اس کے قریب نہ جانا۔۔

یہ قران ایک کھلی کتاب ہے جس کے مطابق زندگی گزار کر انسان کامیاب ہوسکتا ہے۔
لیکن اس پر عمل کرنے کے لیے ہمیں اسے سمجھ کر پڑھنا ہوگا
اسکے لیے دنیاوی مصروفیات کم کر نی ہونگی اپنے آپ سے اک عزم کرنا ہوگا ۔اور انسان اگر چاہے تو یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔

کیونکہ انسان الله کا پر تو ہے اسکی روح امر ربی ہے۔ اشرف المخلوقات ہے۔ climax of His creation ہے۔ الله نے اپنا عکس انسان کے اندر ڈالا ہے۔
ارادے کے لیے خود مختار ہے۔
اس کے اندر بھی محبت ہے شفقت ہے رحم ہے۔ یہ قربانی دینا جانتا ہے۔

جن فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے وقت یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا وہی فرشتے ابراہیم علیہ السلام کی سپردگی اور قربانی دیکھ کر شرمندہ شرمندہ سے کھڑے تھے کہ کیا حضرت انسان اتنا آگے جا سکتا ہے کہ خود کو الاؤ میں جھونک دے اور بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دے۔ محبت اور فدا کاری کی یہ وہ ادا تھی جس نے فرشتوں کو بھی مات دے دی تھی۔
اور اسی انسان کو یہ ذمہ داری دی گئی کی انا عرضنا الامانة علی السموت والارض والجبال فابین ان يحملنها و اشفقن منها

ہمارے اسلاف نے اسی قران کے ذریعے دنیا پر حکومت کی تھی۔
حکومت و فرمانروائی کے سارے ہنر اس قران نے انہیں سکھائے تھے۔
دور صدیقی میں جب بعض قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو ابوبکر صدیقؓ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر 5 سے فیصلہ لیا فرمایا والله لاقتلن من فرق بین الصلوة و الزکوۃ ۔
میں ان سے جنگ کرونگا جو نماز اور زکوۃ کے بیچ فرق کرینگے ۔

اسی طرح جب فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوتا گیا تو مفتوحہ علاقے اس طریقے سے فوجیوں میں تقسیم نہیں کیے گئے جس طرح اللہ کے رسولؐ صلی الله عليه وسلم کے دور میں ہوتے تھے۔
کئی دن کی شورائیت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورہ حشر کی آیت نمبر 10 سے فیصلہ لیا اور فرمایا کہ میں نے کتاب الله کی روشنی میں یہ فیصلہ لیا ہے کیونکہ اب اس سے زیادہ فتوحات ممکن نہیں اگر سارے علاقے فوجیوں میں تقسیم کردئے گئے تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔
اس لیے اب فوجیوں کو تنخواہ دی جائے گی اور ساری ملکیت حکومت اسلا می کی ہوگی۔

مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے
ہم پر اس قرآن کے چھ حقوق ہیں
1) یہ کہ اس پر ایمان لایا جائے
2) یہ کہ اسے پڑھا جائے
3) یہ کہ اسے سمجھا جائے
4) یہ کہ اس پر عمل کیا جائے
5)یہ کہ اسےدوسروں تک پہنچایا جائے
6) یہ کہ اسکے احکام کو زمین پر نافذ کیا جائے.

آج امت مسلمہ کے زوال اور زبوں حالی کی وجہ اس کتاب سے دوری ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ ہیں جنھیں عربی عبارت بھی ٹھیک سے پڑھنے نہیں آتی۔
کچھ ہیں پڑھنا تو جانتے ہیں ۔لیکن سمجھتے نہیں اور جس کو جتنا ملا ہے وہ اسی میں خوش ہے
اور اس کتاب سے فیصلے لیے جائیں۔
یہ ایک خواب پارینہ ہے جسکی تعبیر بھی خواب ہے ۔۔
جو قومیں اپنی کتاب کو پس پشت ڈالتی ہیں اللہ ان کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا القرآن حجۃ لک وعلیک
یہ قرآن یا تو تمھارے حق میں حجت کرے گا یا تمھارے خلاف۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے