اگنی ویر کی نہیں،اگنی شکشک کی ضرورت ہے!

ازقلم: مدثر احمد، شیموگہ کرناٹک۔9986437327

بھارت کی حکومت نے پچھلے دنوں بھارتی فوج کے نظام کو بدل کر اگنی ویر منصوبے کے تحت فوجیوں کی تقرری کا بیڑا اٹھایا ہے ، حکومت کا کہنا ہےکہ اس نظام سے ایک فائدہ یہ ہے کہ بھارت کے کم و بیش ہر نوجوان کو ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوگا ، دوسرا فائد ہ یہ ہوگا کہ اگنی ویر منصوبے میں تربیت پانے اور پانچ سالوں کی خدمات انجام دینے کے بعد جو نوجوان باصلاحیت ہونگے اور جن میں کام کرنے کا جذبہ ہوگا وہ فوج میں مستقل روزگار حاصل کرسکتے ہیں ، جن میں یہ صلاحیتیں نہ ہونگی انہیں فوج سے باہر کردیا جائیگا اور وہ اپنے مستقبل کیلئے متبادل راستے اختیار کرسکیں گے ۔ یہ بات تو ملک کیلئے خدمات انجام دینے والے فوجیوں کی ۔ وہیں دوسری جانب ملک کے مستقبل کو سنوارنے ، تعلیم و تربیت دینے اور نئی نسلوں کو تیار کرنے کی ذمہ داری ماں باپ کے بعد اگر کسی کی ہے تو وہ ذمہ داری اساتذہ طبقے کی ہے جن کی صلاحیتوں ، محنتوں اور تربیت کے سبب ہی نئی نسلیں کام کرنے کے لائق بن سکتی ہیں ورنہ نئی نسلیں یوں ہی اپنے مستقبل کو برباد کرلیتے ہیں ۔ ملک بھر میں تعلیم کو بہتر اور معنی خیز بنانے کیلئے حکومتوں کی جانب سے سرکاری اسکول و کالج قائم کئے گئے ہیں جس کیلئے سالانہ کروڑوں روپئے صرف تنخواہ کی شکل میں خرچ کئے جاتے ہیں اور ان اساتذہ کا تقرر بھی انکی صلاحیتوں پر ہوتا ہے لیکن نہ جانے وہ کونسا نشہ اساتذہ پر چڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے بعدمیںبے ایمان ، سست و کاہل اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے تئیں لاپرواہ ہوجاتے ہیں اور ان اساتذہ کی ان تمام خامیوں کی وجہ سے سرکاری اسکول اور کالجس آج بدترین دور سے گزررہے ہیں ۔ بہت کم اساتذہ ایسے ہیں جو ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھارہے ہیں اور بہت بڑا اساتذہ کاطبقہ ایسا ہے جو صرف تنخواہ کیلئے اسکولوں کو حاضری دے رہاہے ۔ سرکاری اسکولوں میں روزبروز تعلیمی میعار بگڑتا جارہاہے جس کی وجہ سے عوام سرکاری اسکولوں میں کم دلچسپی دکھا رہے ہیں اور اپنے بچوں کو نجی اسکولوں کا رخ کروارہے ہیں ۔ حالانکہ سب ماں باپ نجی اسکولوں میں تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں اور مجبوری میں اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلوارہے ہیں جہاں پر بچے صرف سرٹیفیکٹ حاصل کرسکتے ہیں نہ کہ وہ علم حاصل کرسکتے ہیں نہ ہی اچھی تربیت ۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اساتذہ کو نئی نسل کے تعلیم و تربیت کے تئیں خاص توجہ نہیں رہ جاتی اور قانون کے مطابق انہیں اس وقت کٹکہرے میں نہیں کھڑایا جاسکتاجب تک کہ ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد نہ ہوجائے ۔ حالانکہ بچوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنا ، انکی تعلیم کے تئیں سنجیدہ نہ ہونا اور اپنے فرض کو ایمانداری کے ساتھ نہ ادا کرنا ایک بڑا گناہ ہی ہے لیکن اس کیلئے ہر بار قانون کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔ ایسے میں ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جس طرح سے فوج میں خدمات انجام دینے کیلئے اگنی ویروں کا تقرر کیاجارہاہے اسی طرح سے شعبہ تعلیم میں خدمات انجام دینے کیلئے اگنی شکشک یا کسی اور نام سے اساتذہ کا تقرر کیا جائے ۔ انہیں پہلے پانچ سالوں کے معاہدے پر نوکری دی جائے ،انکے سامنے اسکولوں کی ترقی ، بچوں کے داخلوں کا ٹارگیٹ ، رزلٹ میں بہتری ، بچوں کے تعلیمی اور اخلاقی میعار میں بہتری لانے کی حد دی جائے ۔ پانچ سال کی مدت میں انکے پڑھانے کا طریقہ ، تعلیم و تربیت کے تئیں دلچسپی کس حد تک ہے ، اپنی ذمہ داریوں کو کیسے نبھارہے ہیں اور ان میں ایمانداری کتنی ہے ان سب باتوں کا جائزہ لیا جائے ، اگر ان تمام معاملات میں اساتذہ کی صلاحیتیں اچھی ہوں اور وہ اپنی ذمہ داری کو پوری طرح سے ادا کررہے ہوں تب مزید کچھ عرصے تک کیلئے انہیں انکے عہدے پر بحال رکھا جائے ۔ جیسے 40 -50 سال کی عمر میں ایک فوجی اپنی خدمات کو انجام دینے میں دشواریاں محسوس کرتا ہے اسی طرح سے اساتذہ کیلئے بھی عمرکی حد مقرر کی جائے ۔ دور حاضر میں 60 سال تک کیلئے بچوں کی تربیت دینے کی ذمہ دار ی دی جارہی ہے ، ظاہر سی بات یہ ہے کہ اس عمر میں 90 فیصد اساتذہ میڈیکل فٹ نہیں رہتے ۔ ڈپریشن ، بی پی ، شوگر جیسی بیماریوں کا یہ شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ طلباء کی تعلیم پر چاہ کر بھی توجہ نہیں دے سکتے اس صورت میں اساتذہ کو شارٹ ٹرم سرویس کے تحت تقرر کرتے ہوئے انہیں کچھ سہولیات کے ساتھ فارغ کردیا جاتاہے تو دوسرے نوجوانوں کو یہ ذمہ داری دے کر ان سے کام لیاجاسکتاہے جو نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کیلئے بہتر ثابت ہوسکتاہے ۔ موجودہ دور کامپیٹیشن کا دور ہے اور اس دور میں مقابلہ کرنے اور مقابلہ کرنے کیلئے تربیت دینے والے دونوں کو سرگرم رہنا ضروری ہے ورنہ مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے ۔ اس سلسلے میں حکومتوں ، اہل علم ، دانشوروں کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے