سی آئی ڈی بھابھی (قسط 1)

ازقلم: شیخ اعظمی

ہماری بھابھی کا نام تو مرجینہ ہے. وہ سی آئی ڈی بھی نہیں ہیں ، ان کا یہ نام تو سی آئی ڈی سیریل دیکھنے کی وجہ سے پڑا ہے. سی آئی ڈی سیریل وہ کبھی کبھی نہیں بلکہ بہت پابندی سے دیکھتی ہیں، دن میں اگر موقع نہ ملے تو رات میں اور کبھی کبھی تو آدھی رات اور اس کے بعد بھی، چند روز پہلے رات دو بجے میری آنکھ کھلی اور میں ضرورت سے باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ بھابھی کے کمرے سے سیریل چلنے کی تیز آواز آرہی ہے.
بھیا کویت میں رہتے ہیں، چھ ماہ پہلے وہ تین ماہ کی چھٹی پر آے تھے، ایک دن وہ کچھ بھناے ہوے نظر آے، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے:
"اختری ذرا ایک کپ چاے دے دو، تمہاری سی آئی ڈی بھابھی کو تو کچھ ہوش نہیں رہتا کہ گھر میں کون آیا اور کون گیا، بس اس نے دال چاول، روٹی بنا کر رکھ دیا اور اس کا کام ختم، کسی کو تو چھوڑو، مجھے بھی ایک کپ چاے بنا کر دینے کی روادار نہیں ہے، جانتی ہے کہ میں عصر کے بعد ایک کپ چاے پیتا ہوں مگر جب تک دس بار آواز نہ دی جاے، کوٹھری سے باہر نہ آے گی. اب تو میں نے اسے مرجینہ کے بجاے سی آئی ڈی کہنا شروع کردیا ہے. تم لوگ بھی اسے سی آئی ڈی بھابھی ہی کہا کرو. یہ سی آئی ڈی سیریل کیا ہوا، میرے حق میں سوکن ہے. جب دیکھو بس سی آئی ڈی ہی دیکھا جارہا ہے. آگ لگے اس شوق میں. بچیاں بگڑ گئیں، ناکارہ اور کام چور ہوتی جارہی ہیں مگر اسے کیا فرق پڑتا ہے جب سی آئی ڈی دیکھنے سے فرصت ملے تب تو کسی اور چیز کا خیال آے، بیٹیاں تو اس سے بھی آگے ہیں، تربیت ہی ایسی کر رہی ہے. کیا ہوگا.،،
بھیا تو ناجانے اور کیا کیا بولتے رہے میں چاے بنانے کے لیے کچن میں چلی گئی. ویسے بھی بھابھی کے معاملے میں کسے بولنے کی ہمت تھی، میری تو اور بھی نہیں. وہ تو میرے بغیر کچھ بولے سنے بھی میری سب سے بڑی حریف تھیں، میں موقع بے موقع ان کی باتیں سن سن کر بالکل تنگ آچکی تھی.
بھیا کی وجہ سے اب گھر کے لوگ بھی بھابھی کو سی آئی ڈی بھابھی ہی کہنے لگے تھے. گرچہ ان کے سامنے کسی کو یہ کہنے کی ہمت نہ تھی مگر پیٹھ پیچھے اب یہی ان کا نام ہوگیا تھا.
بھابھی جان پڑھی لکھی نہیں ہیں، وہ بچپن میں بہت کند ذہن تھیں، ان کے والدین نے ان کو کسی طرح قرآن اور اردو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا، اردو تو وہ بھول گئیں، ہاں کبھی کبھی جمعہ میں وہ قرآن لے کر بیٹھتی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرلیتی ہوں گی. ویسے کسی نے کبھی ان کی تلاوت کی آواز نہیں سنی، ایک دن ارحمہ نے ایک دلچسپ بات بتائی، کہنے لگی:
"عقیلہ باجی! بھابھی قرآن نہیں پڑھتیں، وہ تو بس قرآن کے حروف پر انگلیاں پھیرتی ہیں کسی مولوی نے ان سے کہہ دیا ہے کہ اس سے بھی بہت ثواب ملتا ہے. پہلے وہ تھوڑا بہت اٹک اٹک کر پڑھتی تھیں مگر اب انھوں نے یہ بھی چھوڑ دیا ہے. تھوڑی دیر میں تین چار پارے پر ہاتھ پھیر کر قل ھو اللہ احد کی سورہ تین بار پڑھ کر قرآن بند کردیتی ہیں.،،
میری ہمت نہیں کہ بھابھی سے کچھ پوچھوں مگر ادھر میں بھی دیکھتی ہوں کہ ان کے لب نہیں ہلتے البتہ انگلیاں بہت جلدی جلدی ہلتی ہیں.
سی آئی ڈی بھابھی کو سی آئی ڈی سیریل سے کتنی دلچسپی ہے اس کا اندازہ چند روز پہلے ہوا.
"بھیا شدید بیماری کی وجہ سے کویت میں ایک ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے، عشاء کے بعد مجھے ان کا فون آیا، کہنے لگے:
” سب لوگ دعا کرو، شوگر اور بی پی دونوں بہت ہائی ہے. دماغ کام نہیں کررہاہے. چکر بہت آتے ہیں، امی سے خاص طور سے دعا کی درخواست کرو.،،
میں امی کو بتانے گئی تو امی اور بھابھی دونوں بھیا کی بیماری کی ہی بات کر رہے تھے، امی تھوڑی دیر بعد وضو کرکے مصلے پر بیٹھ گئیں، میں کچھ دیر بعد اپنے کمرے میں آئی. بھیا کی بیماری کی اطلاع سے مجھے سخت تشویش تھی. بستر پر گئی تو نیند کا نام ونشان نہیں، گھنٹوں کروٹیں بدلتی رہی، بہت پریشان ہوگئی تو سوچا کہ امی کے پاس جاوں، دیکھوں وہ کیا کر رہی ہیں. امی کے کمرے کے پاس جانے لگی تو بھابھی کے کمرے سے تیز آواز آرہی تھی، قریب گئی تو سمجھ میں آگیا کہ بھابھی سیریل دیکھنے میں مشغول ہیں، ان کے ساتھ ان کی پانچوں بیٹیاں بھی تھیں. میں حیرت زدہ رہ گئی، ان حالات میں بھی بھابھی اور ان کی بیٹیوں نے سیریل دیکھنے میں ناغہ نہیں کیا.اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھیا نے ان کا نام سی آئی ڈی رکھا تو کچھ بے جا نہ کیا…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے