یواےای: پانچ سالہ ملٹی پل اور ورچوئل ویزا کے حصول کا طریقہ

تحریر: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)

متحدہ عرب امارات نے تمام ممالک کے شہریوں کے لیے پانچ سالہ ملٹی پل سیاحتی ویزا اور ورچوئل اقامہ (ایک سالہ) کا اجرا مزید آسان بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ورچوئل اقامہ غیر ملکیوں کے لیے ایک برس کے لیے کارآمد ہوگا۔ اس دوران وہ امارات میں رہتے ہوئے کسی بھی ملک سے آن لائن خدمات انجام دے سکیں گے۔ سیاحتی ویزا پانچ سال کیلئے ہوگا۔ یہ ویزا کسی اسپانسر یا اندرون ملک میزبان کی شرط کے بغیر جاری کیا جا ئے گا۔
غیرملکیوں کے قیام اور آمد کے نئے لائحہ عمل میں نئے پانچ سالہ سیاحتی ویزے کے لیے چار شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ اس پر عمل درآمد 3 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے۔
شرائط میں کہا گیا ہے کہ "پانچ سالہ سیاحتی ویزے کے لیے امیدوار کو درخواست دیتے وقت چار ہزار ڈالر بیلنس کا بینک اسٹیٹمنٹ پیش کرنا ہوگا۔ بینک اسٹیٹمنٹ درخواست دینے کی تاریخ سے چھ ماہ پہلے تک کا ہونا چاہیے۔ ویزا فیس اور مالیاتی گارنٹی بھی دینا ہو گی، جبکہ ہیلتھ انشورنس سکیم بھی ضروری ہے”
پانچ سالہ سیاحتی ویزا ہولڈر کو متعدد سہولتیں اور رعایتیں ملیں گی۔ ویزا ہولڈر 90 دن تک مسلسل امارات میں قیام کر سکے گا، اور اس میں مزید 90 دن کی توسیع ہوسکتی ہے، تاہم پہلے امارات میں قیام کی کل مدت ایک سال میں 180 دن سے زیادہ نہ ہو۔
ویزا ہولڈر کو امارات آمد کا مقصد بتانا ہوگا۔ کسی بھی صورت ایک سال سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔ اماراتی حکام نے کہا ہے کہ "سیاحتی ویزے کی درخواست سے قبل امیدوار اس بات کا اطمینان حاصل کرلے کہ آیا، اس کا تعلق ایسے ممالک سے تو نہیں، جس کے شہریوں کو امارات آنے کے لیے ویزا نہیں لینا پڑتا”
امارات کا ورچوئل ورک ویزا غیر ملکی کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
متحدہ عرب امارات نے پہلی مرتبہ غیرملکیوں کے لیے ورچوئل ورک ویزے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس نوعیت کا اقامہ ایسے غیرملکیوں کو جاری کیا جائے گا، جو امارات میں رہتے ہوئے بیرون ملک سے بھی آن لائن کام کرسکیں گے۔
"ورچوئل ورک پرمٹ یا اقامہ” جاری کرنے کا مقصد غیرمعمولی صلاحیت کے حامل افراد کی پیشہ ورانہ خدمات سے استفادہ کرنا ہے، جس سے نہ صرف قومی معیشت پر بہتراثرات مرتب ہوں گے، بلکہ آن لائن سروسز کے میدان میں بھی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا۔”
حکومت کا ورچوئل اقامہ منصوبہ دنیا بھر سے ماہرین اور بہترین صلاحتیوں کے حامل افراد کو یہ موقع فراہم کرنا ہے، کہ جو کسی بھی پیشے میں مہارت رکھتے ہوں، اور وہ دبئی میں رہتے ہوئے اپنے سابقہ پیشہ پر بھی کام جاری رکھ سکیں گے۔
ایسے افراد کو یہ فائدہ بھی ہوگا، کہ وہ بیک وقت اپنے ملک اور امارات میں رہتے ہوئے کام کرسکیں گے۔ ورچوئل اقامہ ایک برس کے لیے جاری ہوگا۔ جس میں توسیع کرنا ممکن ہوگا۔
درخواست گزار کے لیے یہ لازمی ہے؛کہ وہ کارآمد پاسپورٹ رکھتے ہوں، جس کی ایکسپائری 6 ماہ سے کم نہ ہو۔ علاوہ ازیں درخواست کے وقت وہ دبئی میں قیام کی مدت کے مساوی میڈیکل انشورنس کے بھی حامل ہوں۔
اگر درخواست گزار کسی کمپنی یا ادارہ میں ملازم ہیں، تو اسے اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ کام کی نوعیت، ایک برس کا ملازمت کا معاہدہ، پے سلپ، تنخواہ جو وہ حاصل کررہا ہو، اس کی حد 5 ہزار ڈالر سے کسی صورت کم نہ ہو، 3 ماہ کی بینک اسٹیمنٹ بھی جمع کرانا ہو گا۔
ورچوئل اقامہ حاصل کرنے کے خواہشمند اگر کمپنی کے مالک ہوں، تو انہیں کمپنی کی ملکیت کے بارے میں ثبوت پیش کرنا ہوگا، جس میں یہ بھی واضح ہو کہ ان کی ماہانہ آمدنی 5 ہزار ڈالر سے کسی صورت کم نہ ہو۔
پروگرام کے تحت آنے والے دبئی میں تمام مروجہ سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں، جن میں بینک اکاؤنٹ کھولنا، ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کا حصول اور تعلیم وغیرہ شامل ہیں۔ ورچوئل اقامہ کے لیے درخواست ڈیجیٹل حکومت کے پورٹل پر اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی حکومت کا ویزہ پالیسیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے