بد زبانی اور کذب بیانی

  • عورت کی زبان وہ تلوار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی ہے!

از قلم: مجاہد عالم ندوی
استاد: ٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ
رابطہ نمبر: 8429816993

بد زبانی ایسی بری عادت ہے جس میں یہ عادت پائی جاتی ہے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں ، وہ شخص دوسروں کی نظر سے گر جاتا ہے ، سب اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اس سے ملنا پسند نہیں کرتے ہیں ۔
بد گمانی بھی بد گوئی ہی کی طرح حرام ہے ، شریعت میں برے خیالات اور شک تو معاف ہے لیکن بد گمانی ممنوع ہے ، برا گمان یہ ہے کہ انسان کا نفس اس کی طرف جھک جائے اور دل اس کی طرف مائل ہو جائے ، قرآن مجید کا فرمان ہے ۔ ٫٫ اے ایمان والو! کثرت گمان سے بچو ، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ٬٬۔
اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے محض بد گمانی سے نہیں روکا بلکہ اس نے کثرتِ گمان سے روکا ہے ، آپ کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ آپ کسی کے بارے میں برا گمان رکھیں جب تک آپ کے سامنے کوئی ایسی واضح دلیل ظاہر نہ ہو جائے ۔
اسلام نے جانوروں کو برا بھلا کہنے سے روکا ہے تو انسانوں کو لعن و طعن کی کیسے اجازت دے سکتا ہے ۔
زبان سے صادر ہونے والے بد ترین گناہوں میں لعن و طعن اور فحش کلامی داخل ہے ، کسی بھی صاحب ایمان کو بد زبانی زیب نہیں دیتی ، بد زبانی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے ۔
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ٫٫ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ،،۔
بد زبانی ہی کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جب کہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرمایا ہے کہ ٫٫ مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے ،،۔
جس کی بیوی بد زبان ہو اس کو ساری زندگی سکون نہیں مل سکتا ہے ، عورت کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان کے اندر نرمی اور میٹھاس پیدا کرے اور اچھے انداز سے بات کرے ، عورت کی زبان میں نرمی ہونی چاہیے ، جہاں کسی غیر مرد سے بات کرنے کا وقت ہو تو سختی سے بات کرے تاکہ اسے دوسری بات پوچھنے کی ہمت نہ ہو ، آج کل کی فیشن عورتوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے ، خاوند سے بات کرنی ہو تو ساری دنیا کی کڑواہٹ سمٹ آتی ہے اور اگر کسی غیر مرد سے بات کرنی ہو تو ساری دنیا کی شیرنی سمٹ آتی ہے ۔
بہرحال! یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جن رشتوں کو تلوار نہیں کاٹ سکتی ہے اس کو زبان کاٹ کر کے رکھ دیتی ہے ، چونکہ عورت کی زبان وہ تلوار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی ، بعض عورتیں تو اتنی بد زبان ہوتی ہیں کہ اگر وہ عورتیں نہ ہوتی تو ناقابل برداشت ہوتیں ، کئی عورتیں تو بد زبانی اور بد گمانی ہی کی وجہ سے گھر برباد کر لیتی ہیں ۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر عورت سارے دن ایک مرتبہ اپنے شوہر سے نرمی سے بات کرے جس نرمی سے وہ پڑوسی مرد یا دیگر غیر محرم سے بات کرتی ہے تو ہی گھر آباد رہے گا ۔

ایک بد چلن عورت کا واقعہ

بنی اسرائیل کے یہاں پہاڑ ایک تھا ، جسے وہ بڑی عظمت والا سمجھتے تھے ، اس کی بڑی عظمت و توقیر کرتے تھے ، اگر کسی بات کا فیصلہ کرتے وقت قسم کھانے کی نوبت آ جاتی تو اس پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھاتے اور اسے سچا سمجھتے تھے ۔
اس شہر میں ایک خوبصورت عورت تھی جس کا کسی ایک نوجوان سے ناجائز تعلق بن گیا تھا ، عورت اس کو اپنے مکان میں بلانا شروع کر دیا ، شوہر کو شک و شبہ پیدا ہو گیا ، بیوی سے کہا کہ مجھے شبہ ہے کہ میری غیر موجودگی میں کوئی تمہارے پاس آتا ہے ، عورت نے انکار کیا ، شوہر نے کہا کہ اگر تو سچی ہے تو پھر پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھا لے کہ تیرا کسی سے کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے ۔ عورت نے کہا ہاں میں پہاڑ پر چڑھ کر قسم کھانے کے لیے تیار ہوں ۔
اِدھر اس عورت نے چھپ کر اپنے محبوب سے یہ کہ دیا کہ کل تم پہاڑ کے نیچے ایک گدھا لے کر کھڑا رہنا ، میں اور میرا شوہر پہاڑ پر چڑھنے کے لیے وہاں آئیں گے ، اور میں شوہر سے کہوں گی کہ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے میں تھک جاؤں گی اس بہانے تمہارا گدھا کرائے پر لے کر اس پہاڑ پر چڑھوں گی ، تم گدھے والے کے بھیس میں وہاں موجود رہنا اور مجھے گدھے پر سوار کر کے میرے ساتھ چڑھنا ۔

چنانچہ! جب دوسرے روز میاں بیوی پہاڑ پر چڑھنے گھر سے نکلے اور چلتے چلتے پہاڑ کے پاس پہونچے تو وہاں اس کا محبوب گدھے والے کے بھیس میں گدھا لے کر کھڑا تھا ، عورت نے شوہر سے کہا چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں مجھے یہ گدھا کرائے پر سواری کے لیے دو ، شوہر نے گدھے والے سے کرایہ مقرر کیا اور بیوی کو گدھے پر سوار کر کے تینوں پہاڑ پر چڑھنے لگے ، جب وہ جگہ آئی جہاں لوگ قسمیں کھاتے تھے ، تو اس مکار عورت نے اپنے آپ کو گدھے سے نیچے گرا دیا اور اس گرنے میں اپنا بدن بھی ننگا کر دیا ، اور ایسی صورت پیدا کر دکھائی کہ شوہر یہ سمجھا کہ گدھے سے اتفاقاً ننگی گر گئی اور گرتے ہوئے اتفاقاً وہ ننگی ہو گئی ، وہ اٹھی اور اپنا لباس درست کر کے پہاڑ کی قسم کھانے والی جگہ پر کھڑی ہو کر کہنے لگی ” میں قسم کھاتا ہوں میرے ننگے بدن کو آج تک تمہارے سوا اور اس گدھے والے کے سوا اور کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے ” شوہر مطمئن ہو گیا ، کیونکہ اس نے یہ سمجھا کہ اس گدھے والے نے اسے گرتے ہوئے اس کے ننگے بدن اتفاقاً دیکھا ہے ۔
تو آپ نے دیکھا جب عورت مکر و فریب پر آ جائے تو ایسی چالاکیاں دیکھا کر شوہر کو بے وقوف بنا دیتی ہیں ، لیکن یہ پتہ نہیں کہ آج یہ گناہ کسی مکر و فریب سے چھپا بھی لیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا تو کل قیامت کے دن یہ بات نہیں چھپے گی ، اس لیے کہ اللّٰہ تعالٰی کو سب معلوم ہے ، اللّٰہ تعالٰی سے کوئی کام چھپا ہوا نہیں ہے ، دنیا والوں سے چھپ سکتا ہے لیکن اللّٰہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتا ہے ۔
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” میں نے جہنم میں ایسی عورت کو دیکھا جس پر عذاب ہو رہا تھا اور وہ اپنی زبان کی بل لٹکی ہوئی تھی ، یہ وہ عورت تھی جو زبان دراز تھی "۔ یعنی منہ پھٹ تھی ، شوہر سے بد تمیزی کرنے والی تھی ، اپنی باتوں سے دوسرے کے دلوں پر زخم لگاتی تھی اور دوسروں کو تکلیف پہنچاتی تھی ۔
دوسری جگہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” میں نے جہنم میں ایسی عورت کو دیکھا ، جس کا چہرہ خنزیر کی طرح بن گیا تھا ، اور اس کا جسم گدھے کی طرح تھا "۔ یعنی اس کی صورت اور جسم کو مسخ کر دیا گیا تھا ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ وہ عورت تھی جو جھوٹ بولتی تھی ، غیبت کرتی تھی ، چغل خوری کرتی تھی”۔
بد زبانی اور فحش کلامی سے انسان کا وقار خاک میں مل جاتا ہے ، خواہ آدمی کتنا ہی باصلاحیت اور اونچے عہدے پر فائز ہو لیکن بد زبانی کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ، اس لیے اپنی عزت اور وقار کی حفاظت کے لیے بھی زبان پر کنٹرول کرنا اور اسے بد کلامی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے