ماں کا دودھ

تحریر: محمد ہاشم القاسمی
خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال
فون نمبر :=9933598528

بچے کی پیدائش کے بعد اس کی پہلی غذا ماں کا دودھ ہوتی ہے ۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہے، یہ غذائیت اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے، جو نہ صرف بچے کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بلکہ کئی اقسام کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، معالج مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی اسے ماں کا دودھ دینا شروع کردینا چاہیے، عموماً پیدائش کے بعد چند ہفتوں تک بچے کو دس سے پندرہ منٹوں کے لئے دن میں آٹھ سے بارہ بار دودھ پلانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ پلانے میں وقفہ بڑھتا جاتا ہے.
ماں کا دودھ، بچّے کا پہلا حق ہے، جو اسے قدرت نے عطا کیا ہے، ماں کا دودھ نہ صرف نومولود کی بھوک، پیاس مٹاتا ہے، بلکہ ماں اور بچّے کا تعلق بھی مضبوط کرتا ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچّے زیادہ عقل مند ہوتے ہیں، اور خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، ان میں کسی قسم کی الرجی یا انفیکشنز سے متاثر ہونے کے امکانات کم پائے جاتے ہیں، یہ صحت مند، کم زور اور بیمار یعنی ہر طرح کے بچّوں کے لیے مفید ہے، نیز اسے پینے سے بچّے موٹاپے کا شکار بھی نہیں ہوتے، کم زور بچّوں میں پیٹ پُھولنے کی جان لیوا بیماری ثابت ہوسکتی ہے، مگر جو بچّے ماں کا دودھ پیتے ہیں، وہ اس مرض سے محفوظ رہتے ہیں، علاوہ ازیں، قدرت نے ماں کے دودھ میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ اس میں پائے جانے والے نمکیات، لحمیات، کاربوہائیڈریٹس اور فیٹس کی مقدار متوازن ہوتی ہے، پھر ماں کے دودھ کا درجۂ حرارت نارمل ، ہر طرح کی ماحولیاتی آلودگی اور جراثیم وغیرہ سے پاک ہوتا ہے۔
ماں کی چھاتی سے دودھ کے رسنے کا عمل بچے کی طرف سے دودھ چوسنے کے عمل کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ پرولیکٹین نامی ہارمون ایک طرف تو ماں کے اعصابی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، دوسری جانب یہ پیدا ہونے والے دودھ کی مقدار کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
ماں کے دودھ میں جادوئی اثر پایا جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد کے چند ہفتوں کے دوران اُس کا مکمل نظام ہضم ماں کے دودھ سے ہی نشو و نما پاتا اور مضبوط ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کو آنتوں کی انفیکشن یا عفونت سے بچاتا ہے، اُس کے نظام ہضم کو مضبوط بناتا ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے کے پیٹ میں ابھار یا سوجن نہیں ہوتی، نہ ہی اُسے قبض کی شکایت ہوتی ہے۔ بچے کا مدافعتی نظام مضبوط بنانے اور اُسے مختلف الرجی سے محفوظ رکھنے میں ماں کے دودھ سے بہتر دنیا کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ماں کا دودھ پینے والے بچے کے مسوڑے اور جبڑے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
ماں کے دودھ میں موجود اجزاء کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ان میں اہم ترین اجزاء معدنیات، وٹامن، چکنائی، امائینو ایسیڈ وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی این اے کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل نامیاتی مرکب نیوکلیو ٹائیڈ، توانائی فراہم کرنے والا کاربوہائیڈریٹ موجود ہوتا ہے جو بچے کی جسمانی نشو و نما کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ماں کا دودھ قدرتی طریقے سے مسلسل بنتا رہتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد پہلے دن چھاتی میں پیدا ہونے والا صاف سیال غذائیت سے بھرپور اور انتہائی متناسب ہوتا ہے۔ چوتھے دن سے عبوری دودھ بننا شروع ہوتا ہے اور دسویں دن پستان کے غدود سے پختہ دودھ جاری ہو جاتا ہے۔ قدرت کا نظام کچھ ایسا ہے کہ ماں کے دودھ میں پائے جانے والے اجزاء بچے کی نشو و نما کے مراحل کے مطابق اُس کی ضروریات پوری کرنے کے حساب سے بنتے رہتے ہیں۔
ماں کے سینے میں ہر روز ایک لیٹر تک دودھ بنتا ہے۔ ایک شیر خوار ایک وقت میں 200 سے 250 ملی لیٹر تک دودھ پیتا ہے۔ تاہم ماں کے سینے میں دودھ کی پیداوار کی مقدار بچے کی ضرورت کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

بچے کو ماں کا دودھ کب تک پلایا جانا چاہیے؟ یہ ایک متنازعہ موضوع ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او اور مختلف قوموں کے کمیشن ماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچے کو کم از کم چھ ماہ تک دودھ پلائیں اور چوتھے مہینے سے بچے کو اضافی غذا دینا شروع کریں۔
بچے کو دودھ پلانے کی میعاد مختلف ثقافتوں میں مختلف ہے۔ وسطی افریقہ میں مائیں اپنے بچوں کو عموماً ساڑھے چار سال کی عمر تک اپنا دودھ پلاتی ہیں جس کا مطب یہ ہوا کہ اوسطاً ایک ماں 16 ہزار لیٹر دودھ پیدا کرسکتی ہے۔ مجموعی طور پر دنیا کی تمام ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی ماؤں کے دودھ پلانے کی میعاد اوسطاً 30 ماہ بنتی ہے۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں لکھا ہے کہ "شیرخوار بچہ خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، دونوں کی مدت رضاعت(دودھ پلانے کی مدت) دو سال ہے، یعنی چوبیس مہینے تک دودھ پلاسکتے ہیں، اور اگر بچے کی صحت کمزور ہو، دودھ سے استغناء نہ ہوا ہو تو حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تیس ماہ تک پلانے کی بھی گنجائش ہے، ڈھائی سال (تیس ماہ) کے بعد ماں کا دودھ پلانا ناجائز وحرام ہے، چھڑا دینا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) اگر کوئی بچہ اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے ہی خود سے دودھ چھوڑ دیتا ہے، یا والدین کے اتفاق سے اس مدت سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا دیا جاتاہے، اور بچے کے لیے متبادل غذا کا بندوبست بھی موجود ہے تو ماں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حمل ٹھہرنے سے لے کر زچگی تک اور اس کے بعد نومولود کو دودھ پلانا یہ وہ تمام مراحل ہیں، جن میں ماں کو غذا کی زیادہ مقدار ہی نہیں، متوازن غذا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو دِن میں 7 سے 8 بار کچھ نہ کچھ کھانا چاہیے، اس ضمن میں ایک غذائی شیڈول درج کیا جارہا ہے، جس پر عمل ماں اور بچّے کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
صُبح سات بجے ناشتا کریں، جس میں انڈا، پراٹھا یا روٹی اور دودھ شامل ہو۔ دِن کے دس یا ساڑھے دس بجے شربت یا چائے کے ساتھ پنجیری، بسکٹس یا روٹی استعمال کریں۔ دوپہر کا کھانا تقریباً ایک بجے گھر کا بنا ہوا پیٹ بَھر کر کھائیں ،جب کہ کھانے میں سالن، روٹی، چاول، دہی اور سلاد شامل ہو۔ سہ پہر چار بجے دودھ یا چائے کے ساتھ حلوا، بسکٹ یا کوئی ہلکی پھلکی غذا استعمال کریں، نیز، موسم کی مناسبت سے شربت یا پھل وغیرہ بھی استعمال کرسکتی ہیں، شام سات بجے، رات کا کھانا کھالیں۔کوشش کریں کہ باہر کا کھانا نہ کھائیں۔ رات دس بجے، چوں کہ رات میں ماں نے دودھ پلانا ہوتا ہے، اس لیے کمرے میں خشک بسکٹس، پھل، کھجور یا خشک میوہ جات رکھ لیں اور جب بھوک محسوس ہو ،کھالیں، جب کہ سونے سے قبل ایک گلاس دودھ ضرور پیئں، واضح رہے کہ دودھ پلانے سے قبل ماں کو شدید پیاس کا احساس ہوتا ہے، یہ ایک قدرتی عمل ہے، لہٰذا ہر بار دودھ پلانے سے قبل ایک گلاس پانی لازماً پی لیں، علاوہ ازیں، زچگی کے بعد اپنی روزمرّہ مصروفیات بتدریج بحال کریں، تاکہ صحت مند اور چاق چوبند رہ سکیں۔ معالج نے جو ادویہ تجویز کی ہیں، وقت پر بلاناغہ استعمال کریں۔
آپریشن کی صُورت میں چند روز لیٹ کر بچے کو دودھ پلا سکتی ہیں۔اگر کسی وجہ سے زچگی قبل از وقت ہو جائے یا پیدایشی طور پر بچّہ کم زور ہو، تب بھی ماں اپنا ہی دودھ پلائے کیوں کہ اس سے بہترین غذا کوئی اور نہیں ہے، عمومی طور پر کمزوری کی وجہ سے بچّہ جلد تھک کر دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے، لہٰذا وقفے وقفے سے Brest Pumpکے ذریعے دودھ نکال کر پلائیں، تاکہ غذائیت پوری ملتی رہے، جب کہ چمچ سے پلانے والی مقدار بھی بتدریج بڑھائی جاسکتی ہے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب ماں بچّے کو دودھ پلاتی ہے، تو ابتدا کا دودھ پتلا ہوتا ہے ،جو پیاس بُجھاتا ہے، جب کہ آخر میں آنے والا دودھ گاڑھا ہوتا ہے، جس میں زیادہ پروٹین اور فیٹس پائے جاتے ہیں، لہٰذا اگر جلدی جلدی سائیڈ بدل کر دودھ پلائیں گی، تو بچّہ صرف پتلا دودھ ہی پی پائے گا۔اس لیے ایک ہی طرف سے اتنی دیر دودھ پلائیں کہ خالی ہونے کا احساس ہو جائے۔ اس کے بعد دوسری طرف سے پلائیں۔
یونیورسٹی روچیسٹر میڈیکل سینٹر (یوآرایم سی) اور ڈیل مونٹی انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنس سے وابستہ ماہرین نے نو اور دس دن کے بچوں کے ہزاروں ٹیسٹ کئے ہیں۔ جب ان کا موازنہ ماں کا دودھ نہ پینے والے بچوں سے کیا گیا تو ان کے نتائج اور اسکور بہت اچھے برآمد ہوئے۔
ڈینیئل ایڈن لوپیز اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ "ماں کے دودھ کے مثبت نتائج چند ماہ میں ہی سامنے آجاتے ہیں” ۔ فرنٹیئرزان پبلک ہیلتھ میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق ماؤں کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے تاکہ بچوں کو دودھ پلانے کا رحجان پروان چڑھایا جاسکے۔
اسی تحقیق سے وابستہ ہیلے مارٹِن کہتی ہیں کہ "ماں اگر بچے کو دودھ پلائے تو یہ دونوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی شیرِ مادر پلانے کا فیصلہ کرلیا جائے۔ اس طرح تیزرفتار ماحول اور دفاتر وغیرہ میں ماں کی جانب سے دودھ پلانے کے رحجان کو پروان چڑھانا بہت ضروری ہے۔ ماہرین نے زور دے کر کہا کہ اس عمل میں ہرقسم کی رکاوٹ کو دورکرنا ضروری ہے۔

اس تحقیق میں نو اور دس دن کے 9 ہزار بچوں کو شامل کیا گیا ۔ اس میں بچوں کے درمیان چھاتی کا دودھ پینے اور نہ پینے والے بچوں کے نیوروکوگنیٹوو ٹیسٹ کئے گئے اور ان کا اسکور نوٹ کیا گیا۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بچہ جتنے عرصے تک ماں کا دودھ پیئے گا اس کے اتنے ہی فوائد حاصل ہوں گے، ان میں وہ بچے سب سے بہتر رہے جنہوں نے 12 ماہ تک ماں کا دودھ پیا تھا۔ سات سے بارہ ماہ کے بچوں کا دماغی ٹیسٹ کم دیکھا گیا اور چھ ماہ تک دودھ پینے والے بچوں کی دماغی سرگرمی اس سے کم تھی۔ لیکن جب ان کا موازنہ دودھ نہ پینے والے بچوں سے کیا گیا تو وہ ہر صورت میں ان سے آگے رہے۔ یعنی ان کی دماغی سرگرمی بہترین دیکھی گئی ہے۔
فی زمانہ بچوں کے نت نئے امراض کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ماؤں کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانا بھی ہے۔
آج کل کی مائیں سمارٹ نس کے چکر میں بچوں کو دودھ پلانے سے انکاری ہوتی ہیں، وہ مامتا کے حقیقی تقاضوں اور ذمے داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے اپنے جگرگوشوں کو بیماریوں کے سپرد کررہی ہیں۔ اور اپنے بچوں کو ڈبے کا دودھ اس توقع کے ساتھ پلاتے ہیں کہ وہ صحت کے لیے فائدہ مند ہوگا، تاہم اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے، نیویارک یونیورسٹی اور کنیکٹیکٹ یونیورسٹی کے محققین نے والدین کو انتباہ کیا ہے کہ فارمولا ملک یا ڈبے والا دودھ بچوں کو پلانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔
اس تحقیق کے دوران حکام کو مشورہ دیا گیا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈبوں پر لگے لیبل میں واضح لکھنا چاہیے کہ یہ ایف ڈی اے (امریکی محکمہ صحت) کا تجویز کردہ نہیں اور اس میں غیر صحت بخش اجزاء ہوسکتے ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ بچوں کے اس طرح کے مشروبات غیرضروری اور صحت بخش کے اثرات کو زائل کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے جن سے واضح ہوسکے کہ بچوں کے ایسے مشروبات کیا ہوتے ہیں اور کیونکہ ان کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا۔
محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کے لیے دو قسم کے مشروبات یا دودھ ہوتے ہیں۔
ایک وہ فارمولا ملک، جو 9 ماہ سے 2 سال کے بچوں کو اس وقت دیئے جاتے ہیں، جب ماں کا دودھ چھڑایا جاتا ہے۔
دوسرا ایک سال سے 3 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والا دودھ۔
محققین کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر مشروبات بنیادی طور پر پاﺅڈر ملک ، کورن سرپ، ویجیٹیبل آئل اور ایڈڈ مٹھاس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک کی مقدار زیادہ اور پروٹین کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
تمام کمپنیاں ان مشروبات کو بچوں کی نشوونما اور غذائی ضروریات کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔
مگر عالمی ادارہ صحت مشورہ دے چکا ہے کہ ایک سال کی عمر سے بچوں کو فارمولا ملک کی بجائے گائے کا دودھ صحت بخش غذاﺅں کے امتزاج کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
عالمی ادارے کے مطابق بچوں کے مشروبات غیرضروری اور غیرموزوں ہوتے ہیں، جبکہ گائے کے دودھ اور تازہ خوراک کے مقابلے میں فائدہ مند بھی نہیں ہوتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے