آر ایس ایس کی مسلم تنظیموں سے رہیں خبردار!

ازقلم: عبداللہ ابوالخیر سوپولوی

مظلوم قوموں پر ہمہ جہت حملے تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن کسی قوم کو اسی قوم کے منافقین کے ذریعے شکست دینے کی تاریخ مسلم قوم کی بڑی پرانی روایت رہی ہے۔ جب تک مسلم قوم نفاق سے محفوظ رہی دوسری اقوام کو اس کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں ہوئی۔ اسلامی تاریخ کا یہ بہت نمایاں پہلو ہے۔ جب بھی مسلم قوم کو ختم کرنے کی پلاننگ کی گئی تو سب سے پہلے اس میں دولت، عہدے اور خواہش نفس کے بیج بو کر منافقین کو پیدا کیا گیا۔ پھر اس منافق نسل کی ناز و نعم اور عیش و عشرت سے پرورش کی گئی اور جب وہ نسل جوان یعنی منافقت میں مضبوط ہو گئی تو اس کو میدان عمل میں اتار دیا گیا۔ اس کے بعد جو نتیجے برآمد ہوے وہ تاریخ میں محفوظ ہیں۔
باطل کا شیوہ رہا ہے کہ وہ جب بھی کسی قوم کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کو ہر طرح سے بدنام کرتا ہے۔ اس کی تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ سوتیلا برتاؤ شروع ہوتا ہے۔ اس کے خلاف ماحول سازگار کیا جاتا ہے۔ ہر طرف سے سماجی، معاشی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ بنایا جاتا ہے۔ ان کے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہنے سہنے کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ ان میں پہلے سے تیار منافقین اور غداروں کو استعمال کیا جاتا ہے، جو اپنی ہی قوم کی کمزوریاں سرباز لاتے ہیں اور پھر اس پوری قوم کو اچھوت اور الگ تھلگ کرکے ان پر حملے کیے جاتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مظلوم دور میں مسلمانوں کے خلاف پانچ طرح کی جماعتیں میدان میں سرگرم رہی ہیں:
١) پہلی وہ جماعت جو کھلے عام مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی ہے اور ان کو ہر طرح سے ہراساں کرنے، مارنے اور حقوق سلب کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور عملاً اس پر گامزن رہتی ہے۔ اس کو برسر اقتدار جماعت کی پوری حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہ دشمن کے ہاتھ اور پیر ہوتے ہیں۔ جیسے آج وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل اور سنگھ کی دیگر ذیلی تنظیمیں اسی راہ پر گامزن ہیں۔
٢) دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو اپنی زبان خاموش رکھتی ہے؛ مگر اندرونی طور پر پہلی جماعت کی حمایت کرتی ہے اور باطن ہی باطن میں خوش ہوتی رہتی ہے۔ صرف اتنا نہیں؛ بلکہ وقت آنے پر وہ معاندین کی بہتر معاون بن جاتی ہے، بس وہ سامنے نہیں آتی ہے۔
٣) تیسری وہ جماعت ہوتی ہے جو پہلی جماعت کی سرگرمیوں سے نالاں ہوتی ہے؛ مگر مخالفت کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتی ہے، بس اندر ہی اندر کڑھتی اور بے چین ہوتی رہتی ہے۔ یہ بزدلی کا شکار ہوتی ہے؛ مگر حق پر قائم رہتی ہے۔
٤) چوتھی وہ جماعت ہوتی ہے جو اپنی بساط کے بقدر ظلم و زیادتیوں کی کھل کر مخالفت کرتی ہے اور خاموشی کے بجائے ظلم و حق تلفی کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ یہ بہت مختصر جماعت ہوتی ہے؛ مگر اپنے ایمان و اخلاص پر مضبوطی سے قائم ہوتی ہے۔ اسی حق پرست جماعت کی کسی بھی قوم کو ضرورت ہوتی ہے اور آج بھی ہے۔
٥) پانچویں جماعت وہ ہوتی ہے جو نفاق اور دوغلی پالیسی پر کام کرتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
(١) ایک وہ منافقین جو ایک دم خاموشی کے ساتھ دشمنوں سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ اپنے ایمان، ضمیر، قوم اور ملک کا سمجھوتہ کر لیتے ہیں؛ مگر بظاہر وہ قوم کے بڑے مخلص اور خیرخواہ معلوم ہوتے ہیں۔ وہ دینی، سماجی اور سیاسی، کسی بھی فیلڈ کے، لیڈر، رہنما اور قائد ہوتے ہیں۔ لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں؛ مگر یہ ان کو اندھیرے میں رکھ کر اپنے مطالب نکالتے رہتے ہیں اور جب حق پرست افراد یا جماعت کے خلاف غلط کارروائیاں ہوتی ہیں تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے رہتے ہیں۔ یہ قوم کے مستقبل کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ان کو پہچاننا آسان نہیں؛ لیکن ان کے ایجنڈوں سے پہچان سکتے ہیں۔
(2) منافقین کی دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو بظاہر تو بڑے ہم درد رہتی ہے؛ مگر منافقت بھی کھل کر نبھاتی ہے۔ آج ہم یہاں اسی کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ یہ ذو وجہین یعنی دو رخے لوگ سماج کے لیے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ کب کیا کریں گے؟ کچھ بول نہیں سکتے ہیں۔ یہ پہلے اچھے کام کرتے ہیں، سماج کا دل جیتتے ہیں اور جب موقع آتا ہے اپنے آقاؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جس سے عوام کی اکثریت دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
اس طرح کی بارہ سے تیرہ جماعتیں ہیں جو مسلم سماج میں دیمک کی طرح سرگرم عمل ہیں اور بڑی چابک دستی کے ساتھ ان کو بہکانے میں لگے ہوے ہیں۔ ان میں مسلم راشٹریہ منچ افضل احمد، وجاہت حسین کاسمی (قاسمی)، آل انڈیا امامس آرگنائزیشن مولانا عمیر الیاسی اور جماعت علماء ہند صدر صہیب کاسمی (قاسمی)، کل ہند تنظیم ائمہء مساجد، مسلم مہیلا راشٹریہ منچ، اکھیل بھارتی علماء پریشد، سنی سجادہ نشین بورڈ وغیرہ شامل ہیں۔
یہ لوگ کسی جماعت کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ یہ خواہش کے غلام اور روپیوں کے بندے ہیں۔ یہ سب سنگھ پریوار کے اشارے پر کام کرنے والے، قوم اور ملک کے غدار ہیں۔ ان کی ساری تنظیمیں، جماعتیں اور بورڈز سنگھ کے نمک پر چلتے ہیں، آج قوم کو گمراہ کرنے میں اور پوری کمیونٹی کو آر ایس ایس کی گود میں ڈالنے کے لیے یہ لوگ دن رات ایک کر رکھے ہیں۔
یہ اور اس طرح کی مختلف تنظیموں اور ان کے لیڈران کو صحیح سے پہچاننے اور ان سے، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں یا ان کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں یا مسلم مخالف ایجنڈے میں ان کی حمایت کرتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں، مسلم کمیونٹی کو باخبر رہنے اور قوم کو خبردار رکھنے کی ضرورت ہے۔
ہندستان میں آج سب سے بڑی آبادی رکھنے والی قوم سب سے زیادہ منتشر، مختلف اور مظلوم ہے۔ اس کا کوئی ملجا و ماوی نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ منافقین اور غداروں کی کثرت ہے۔ بے ایمانی اور غداری نے اس قوم کو محل سے ا ٹھا کر روڈ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سماج سے کاٹ کر الگ تھلگ کر دیا ہے۔ اس کی آج نہ کوئی آواز بنتا ہے نہ کوئی سنتا ہے۔
کسی بھی قوم کو برباد کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ اس میں منافقین پیدا کر دیے جائیں؛ کیوں کہ منافقین اپنا بن کر قوم کو دیمک کی طرح کھوکھلی بنا دیتے ہیں۔ معمولی معمولی لالچ میں آکر اپنی عزت تک داؤ پر لگا دیتے ہیں، اپنی ماں، بیٹی اور بہن کو ان جگادروں کے حوالے کر دیتے ہیں، (پھر قوم و دین کے بارے میں کیا بول سکتے ہیں) اور جو لوگ قوم کے اعضاء و جوارح بن کر کام کرتے ہیں ان کے خلاف نفرت اور حقارت پھیلاتے ہیں۔ اور خود کو قوم کا لیڈر اور رہنما سمجھتے اور دوسروں کو یہی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب مسلم کمیونٹی کے خلاف نسل کشی اور قتل عام کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ ہندوراشٹر کا اعلان ہونے جارہا ہے۔ حقوق اور سارے اختیارات چھیننے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دستور بدلنے کی پوری تیاری ہو چکی ہے، اس کے باوجود ان سب پر خاموشی اختیار کرنے والے مسلم قوم کے منافقین کو پہچاننا اور ان سے بچ کر رہنا کتنا اہم ترین فریضہ ہے وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اللہ ہماری قوم کی ان بدخواہوں سے حفاظت فرمائے اور پوری امت مسلمہ ہندیہ کو اتحاد کے ساتھ تحفظ کے لیے کھڑا فرمائے اور ملک میں آزادی اور جمہوری حقوق کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، جینے کی توفیق عطا فرمائے اور نئی نسلوں میں شعور اور بیداری پیدا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

(نوٹ: اس مضمون کو ہر امام تک پہنچایا جائے)
عبداللہ ابوالخیر سوپولوی
٢٨، اکتوبر ، ٢٠٢٢.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے