تربت اولاد قرآن و سنت کی روشنی میں

تحریر: تصویر عالم امیر حسین
جامعہ ابی ہریرہ الاسلامیہ الہ آباد یوپی

تربیت اولاد کی اہمیت
محترم قارئین: اولاد ماں باپ کے پاس امانت ہوتی ہیں اور ا سکی تربیت ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ان کے بچے ان کی رعایا ہوتے ہیں اور ان کے ذمہ دار بھی۔ لہذا ان سے خیر خواہی کرنا اور اللہ تعالی کے مرضی کے مطابق ان کی اصلاح و تربیت کرنا والدین پر واجب ہے، والدین کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ اولاد کے لیے محض کھانا پینا لباس پہنا دینا ہی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی دینی پرورش و پرداخت کتنا بھی ان کا فریضہ ہے ، اس سلسلے میں اللہ رب العالمین نے قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا: .(يا ایها الذین امنوا قوا انفسکم و اهلیکم نارا وقودها الناس و الحجارة علیها ملائکة غلاظ شداد لا یعصون الله ما امرهم و یفعلون ما یؤمرون.سورۃ تحریم آیت نمبر ۶ ) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جس پر سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے وہ اسے بجا لاتے ہیں؛
تربیت اولاد کی پیش نظر ایک حدیث رسول ﷺ قارئین کے سامنے پیش خدمت ہیں، صحیحین کی روایت ہے راوی حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: (ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة، متفق عليه.)ترجمہ: جس شخص کو اللہ تعالیٰ ذمہ دار اور نگراں بناتا ہے پھر وہ آخری دم تک اپنی رعیت سے دھوکہ کرتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے؛ تربیت اولاد کی پرورش اور پرداخت کے پیش نظر نبی کریم ﷺ کی دوسری حدیث کو ذرا دیکھیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کلکم راع وكلكم مسئول، فالإمام راع وهو مسئول، والرجل راع على اهله وهو مسئول، والمراة راعية على بيت زوجها وهي مسئولة، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول، الا فكلكم راع وكلكم مسئول”.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے (اس کی رعیت کے بارے میں) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے تربیت اولاد کو اجاگرتے ہوئے ارشاد فرمایا:عن ابي هريرة رضي الله عنه , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ” إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث , صدقة جارية , وعلم ينتفع به , وولد صالح يدعو له ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح. ترجمہ: ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ۱؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ۲؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ۳؎ جو اس کے لیے دعا کرے“۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

رسول اللہﷺ اور بچوں کی تربیت
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ آپ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ‏”‏ يا غلام إني أعلمك كلمات‏:‏ ‏”‏احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، إذا سألت فاسأل الله ، وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم‏:‏ أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء، لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك، وإن اجتمعوا على أن يضروك بشيء، لم يضروك بشيء إلا بشيء قد كتبه الله عليك؛ رفعت الأقلام، وجفت الصحف‏”‏ ‏(‏‏(‏رواه الترمذي وقال حديث حسن صحيح‏)‏‏  ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہو گئے ہیں ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے۔حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں سے کس قدر شفقت سے بھرپور سلوک فرماتے، ایک بچے کے ساتھ آپﷺ کاچلنااور اسے بہترین نصائح سے نوازنا اس کا بین ثبوت ہے۔یہ حدیث نصیحت کے ایک خیرخواہانہ اور ناصحانہ اسلوب کا بھی شاہکار ہے،چنانچہ آپﷺ نے فوراً نصیحت شروع کرنے کی بجائے پہلے (یاغلام انی أعلمک کلمات)کہہ کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول فرمائی،پھرنصیحت شروع کی۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کو امورِ عقیدہ کی تعلیم دینی چاہئے، بلکہ عقیدہ کی جو اہمیت کتاب وسنت سے اجاگرہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمِ دین میں اسی سے آغاز کیاجائے، یہ بات بھی معلوم ہے کہ بچپن کی بتائی گئی باتیں، نقش کی طرح بیٹھ جاتی ہیں اور ہمیشہ یاد رہتی ہیں،لہذا صغرسنی ہی سے عقیدہ کی تعلیم انتہائی نافع ثابت ہوگی۔

اولاد کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔
قارئین کرام : بہت سارے والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کے حقوق کو ادا نہیں کرتے اور ان کے حقوق سے محروم رکھتے ہیں اور پھر وہی والدین اپنے بچوں سے اچھائی کی توقع رکھتے ہیں۔ حسن سلوک اور اپنے حقوق کو چیخ چیخ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلے حقوق والدین کے ہیں کہ جب پچہ پیدا ہو تو اچھا سے اچھا نام رکھا جائے اور پھر حسب مطابق عقیقہ وغیرہ کیے جائے،بڑے ہونے کے بعد ایمانداری کے ساتھ تمام اولاد پر یکساںنظام رکھے جائے اس طرح سے اور بھی حقوق ہیں ۔ اس سے متعلق ایک حدیث میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اس حدیث کو امام مسلم اپنی کتاب صحیح مسلم اور امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری کے اندر بیان کئے ہیں جس کی راوی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک مشروب پیش کیا گیا تو آپ اسے پی کر فارغ ہوئے تو ابھی مشروب بچا ہوا تھا آپ نے دیکھا کہ ان کی دائیں جانب ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا اور بائیس جانب کچھ عمر رسید لوگ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بچے کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اتأذن لی ان اعطی ھؤلاء؟ کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ مشروب پہلے بڑوں کو پیش کر دوں؟ بچے کہنے لگا واللہ یا رسول اللہ لا اوتر بنفسی منک احدا، اے اللہ کے رسول میں اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دیتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مشروب اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔

بچوں کی پرورش و پرداخت میں والدین کا کردار
ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ کہلاتے ہیں۔ تا ہم والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ابتدا ہی سے ان میں اچھی عادات ڈالیں۔ اور بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا در حقیقت ان کی نفسیاتی تربیت کا حصہ ہے یہ احساس بچوں میں جگانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ان کی تعلیم اور غذا کا خیال رکھنا۔ اسی طرح سے ان کی نفسیاتی تربیت کا ہونا بھی زندگی کا بہت اہم پہلو ہے۔ اولاد میں مثبت او منفی رویے پیدا کرنے میں گھر کی تربیت ارد گرد کا ماحول مدرسہ اسکول رہن سہن اور طور طریقہ اور دوست و احباب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ہر چیز پر نظر رکھنا، اچھے برے کا فرق سمجھانا والدین کا فرض ہے؛ ور اسی طرح اولاد کی تعلیم و تربیت دینی و سماجی سے آراستہ و پیراستہ کرنا والدین کو لازمی اور ضروری ہے۔ والدین کا بچوں پر سب سے پہلا کام جو ہے وہ ہے جب بچہ با شعور اور عقل مند؛ ور دانش مند ہو جائے تو شروع ہی سے نماز روزہ اور قرآن کی تعلیم دی جائے اور بتایا جائے کہ سب سے اہم فریضہ نماز ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ان اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ صلاتہ: اسی طرح جب بچہ دس سال کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اسے مارا جائے جیسا کہ دوسری روایت میں اللہ کے نبی محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: مروا اولادکم با الصلاۃ و ھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر سنین: صحیح ابو داؤد میں یہ روایت موجود ہے۔ ۔ والدین کا بچوں پر دوسرا کام یہ ہے کہ رات میں سونے سے پہلے نماز اور آداب کی دعائیں یاد کرائیں کیونکہ بچپن میں یاد ہونے والی چیز کبھی نہیں بھول سکتے ہیں۔ اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کو جھوٹ کا عادی نہ بنائے اور کی وعید بھی بتائیں کہ اسلام میں جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو چوری جیسی بری صفت سے دور رکھے، گالی گلوچ سے دور رکھنا چاہیے اور خود بھی بچنا چاہیے اس لیے کہ کب بچہ والدین کی زبان ہی سے اگر اس طرح کے الفاظ سنے گا تو بچہ برا نہ سمجھتے ہوئے وہ خود اس میں مبتلا ہو جائے گا، اسی طرح والدین اپنے اولاد کو بے راہروی اور آزادی سے دور رکھے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں بے راہروی اور آزادی سے اکثر بچے بگڑے ہوئے ہیں، بچوں کو آزاد چھوڑ دینا اسے کچھ نہ کہنا اوی نہ ہی اس کی غلطی سے اسے روکنا جس سے بچہ بگڑ جاتا ہے اور آگے چل کر وہ بچہ والدین کی نافرمانی کر بیٹھتا ہے اس لیے والدین کو چاہیے کہ حسب مطابق آزادی دے بچوں کو اور اس پر ہمیشہ نظر رکھیں، والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ جہاں اس کی صحیح تربیت کریں وہاں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ بچہ باہری غلط صحبت سے محفوظ رہے ورنہ باہر کی غلط صحبت اس کی تعلیم و تربیت کو بھی بے اثر کر دے گی اس کو سمجھنے کے لیے ایک شعر دیکھیں جس کو شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ہے۔ صحبت صالح ترا صالح کند، و صحبت طالح ترا طالح کند۔

قارئین کرام: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو موبائل اور ٹی وی استعمال کرنے نہ دیں۔ اس کا عادی نہ بنائیں۔ اور بہتر اسی میں ہے کہ ان سب چیزوں سے بچوں کو دور رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے سامنے نیکی کا کردار اپنائیں اور ابتدا سے ہی تقوی خوف الہی کی ترغیب دیتے رہیں اور بڑوں کی تعظیم و توقیر و احترام کرنا سکھائیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کو ان سب چیزوں کی تربیت نہیں دیں گے تو خود کو ہی بے عزت کریں۔ رسوائی ہوگی اور دوسروں کی زبان سے اپنے اور اپنے بچوں کے بارے میں شکایتیں سننی پڑیں گی۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کثرت سے دعائیں کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ والدین کی دعاؤں میں بڑی تاثیر رکھے ہیں جیسا کہ راوی حضرت ابو ہریرە رضی اللہ عنہ ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ثلاث دعوات مستجابات، لا شك فيهن: دعوة المظلوم، ودعوة المسافر، ودعوة الوالد على ولده رواه أبو داود، والترمذي، وقال: حديث حسن. وليس في رواية أبي داود: على ولده”.ترجمہ :ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں“۔ اس سے یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اولاد کو والدین کی نا فرمانی نہیں کرنے ہیں والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔ اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے بار الہی تو دنیا کے تمام والدین کو اپنے بچوں کے تربیت قرآن و سنت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان کا پورا پورا بدلہ عطا فرما اور سات ہی ساتھ اولاد کو فرماں بردار بنا دے آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے