کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا بچکانہ بیان

ازقلم: مشرف شمسی

بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز سابق کرکٹر روجر بنی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو سیمی فائنل میں دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ روجر بنی کا بیان کرکٹ بورڈ کا عہدیدار اور ایک سابق کرکٹر کا نہیں ہو سکتا ہے ۔کیونکہ بھارت اور پاکستان کے آپسی رشتے آزادی کے بعد سے ہی کبھی نرم اور کبھی گرم رہے ہیں لیکن کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اپنے ملک کی کرکٹ کے مفاد میں بیان دیتے رہے ہیں اور وہ بیان کبھی دنیا کے کسی کرکٹ بورڈ کو ناگوار بھی گزرا ہے لیکن کبھی کسی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین کسی ملک کے خلاف اس طرح کا سیاسی بیان آج سے پہلے نہیں دیا ہوگا۔کرکٹ جنٹل مین کا کھیل کہا جاتا ہے ۔میدان میں کرکٹروں کے درمیان آپسی مقابلہ آرائی میں تھوڑی دیر کے لئے کچھ کہا سنی ہو بھی جاتا ہے لیکن کھیل ختم ہونے کے بعد کرکٹروں کے درمیان آپسی رشتے خوشگوار ہوتے ہیں ۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان ملکی سطح پر اچھے رشتے نہیں ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے کرکٹروں کے درمیان دوستانہ ہوتا ہے۔اتنا ہی نہیں دونوں ممالک کے کرکٹر ایک دوسرے کے بلےباز اور گیند باز میں کسی طرح کا نقص دیکھتے ہیں تو اُسے بہتر کرنے کا طریقہ بھی بتاتے ہیں ۔بنا یہ سوچے کہ وہ جو گر بتا رہا ہے اُسے سیکھ کر اُنکے ہی ملک کے خلاف استعمال کرینگے۔اسی لیے تو اس کھیل کو جنٹل مین کرکٹ کہا گیا ہے ۔ایک ملک کا کھلاڑی بلے بازی یا گیند بازی میں اچھی کارگردگی دکھاتا ہے تو دوسرے ملک کا کھلاڑی اسکی کارگردگی کو سراہتے ہیں ۔بھلے ہی اس کرکٹر کا نمبر ون بننے کا مقابلہ سامنے والے کرکٹر سے ہی ہو رہا ہو۔کرکٹ میں مثبت مقابلہ آرائی پر یقین کیا جاتا ہے۔شکست اور جیت خندہ پیشانی سے قبول کیا جاتا ہے ۔بھارت اور پاکستان میں سالہا سال آپسی کرکٹ مقابلہ نہیں ہو پائے ہیں اس کے باوجود کرکٹ بورڈ کے رشتے ہمیشہ اچھے رہے۔یہاں تک کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جنگ کے ماحول رہے تب بھی آپسی کرکٹ کی بات ہوتی تو کرکٹ بورڈ کبھی نہیں کہتا کہ بھارت پاکستان کا دورہ نہیں کریگا بلکہ یہ بیان دیا جاتا رہا ہے کہ جو سرکار فیصلہ کرے گی اس پر بورڈ عمل کریگا۔
روجر بنی ایک کرکٹر رہے ہیں اور 1983 ورلڈ کپ کے مین آف دی میچ رہے ہیں اُنھیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کو سیمی فائنل میں نہیں دیکھنا چاہتے جیسا بیان اُنکے شایان شان نہیں ہے ۔کیونکہ بنی جس وقت کے کھلاڑی رہے اس وقت اور اب بھی انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ ہوتا تھا تو اگر پاکستان اور بھارت میں سے کوئی ایک سیمی فائنل اور فائنل میں پہنچتا تھا تو اس براعظم کے شیدائی ملک کو بھول کر ایشیائی ٹیم کے مقابلہ جیتنے کی حمایت اور دعا کرتے تھے۔روجر بنی کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ کرکٹ میں بھی گندی سیاست کو دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔بنی کے بیان سے ملک کا ایک طبقہ کافی خوش ہوگا اور اس بیان کے چلتے بنی کو چناؤ کی سیاست میں کامیابی بھی مل جائے لیکن اس طرح کے بیان سے ملکوں کی آپسی رنجش کی گندی سیاست کرکٹ میں بھی دیکھنے کو مل جائے گا ۔حالانکہ آئی پی ایل جیسے ٹورنامنٹ میں پاکستان کے کرکٹروں کو جگہ نہیں دیا جانا اور پھر پی سی ایل میں بھارتیہ کرکٹروں کا نہیں جانے سے کرکٹ کا نقصان ہوتا ہے لیکن اس کی خالص وجہ ملکی سیاست ہے۔لیکن اس میں کرکٹ اور کرکٹ بورڈ کا نقصان ہو رہا ہے ۔
بھارت اور پاکستان کے لوگ جنون کی حد تک کرکٹ سے پیار کرتے ہیں ۔بھارت اور پاکستان کا کرکٹ مقابلہ دیکھنے کے لئے پوری دنیا کے کرکٹ شیدائی بے چین رہتے ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی تعداد اور ممالک کے درمیان ہونے والے مقابلہ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کرکٹنگ رشتے نہیں ہونے کی وجہ سے دونوں جانب کے کرکٹ شیدائی کو مایوسی ہوتی رہی ہے ۔روجر بنی بطور بورڈ چیئرمین اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ بھارت اور پاکستان کے سرکار کے درمیان جو رشتے ہیں اس سے کرکٹ کے رشتے کو الگ رکھا جائے ۔دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ رشتے بحال ہونے سے دونوں کرکٹ بورڈ کو بے حساب مالی فائدے ہونگے ۔لیکن بھارت سرکار یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان سے کرکٹ رشتے استوار کرنے سے اُنکے چناؤ جیتنے پر اثر پڑےگا۔ساتھ ہی پاکستان مخالف مودی کے امیج کو نقصان پہنچے گا ۔اسلئے بھارتیہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے وزیر اعظم مودی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو سیمی فائنل میں نہیں دیکھنا چاہتا ہوں جیسا بچکانہ بیان دے ڈالا اور یہ بیان بھارت اور پاکستان کرکٹ میں سالہا سال یاد کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے