جبلتیں اور جذبات؛ تربیت اور اصلاحات

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

آج ہم جس دور سے گزر رہیے ہیں یہ دورِ ترقّی ہے ۔بے شک اس جدید زمانے نے حیرت انگیز اور تصوّر سے بالا تر ترقّی کی ہے۔ لیکن اس ترقّی نے انسانوں سے ان کے اخلاق چھین لیے ہیں ۔بچّوں سے ان کا بچپن چھین لیا اور حالت یہ ہے کہ زمانہ اس وقت اخلاقی اعتبار سے نچلے ترین درجے پر ہے ۔ایسے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اپنے بچّوں کو سنبھالا جا ئے، ان کی تربیت پر خصوصی توجّہ دی جائے اور بچّوں کی ہمہ پہلو تربیت کی جائے ۔

یاد رکھیے! جہد مسلسل، جراءت، عزم وحوصلہ سے کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا

ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے

جو لوگ اس عزم بالجزم کے ساتھ اپنی اور اپنے زیرکفالت کی پرورش عزیمت اور فطرت کے راستے پر کرتے ہیں وہ کبھی احساس کمتری اور احساس محرومی کو رویا نہیں کرتے۔۔
نفسیاتی اصول ہے کہ آپ جس چیز سے منع کرتے ہیں تجسس (Curiosity) اس کے قریب لےجاتا ہے۔ بالخصوص بچّوں میں یہ جبلّت مثبت کے ساتھ ساتھ منفی بھی ہوتی ہے۔چنانچہ آپ کو اگر سچائی کو راسخ کہنا ہے تو یوں نہ کہیے”جھوٹ نہ بولو” بلکہ کہیے "ہمیشہ سچ بولیں” ۔آپ غلط کہہ رہیے ہیں، کہنے کی بجائے یوں کہیے! آپ نے درست نہیں کہا یا "آپ سچ بولیے”۔
جھوٹ بولنا کسی حال میں جائز نہیں، نہ سنجیدگی کے ساتھ نہ مذاق کے طور پر۔ اور یہ بات بھی جائز نہیں کہ تم میں سے کوئی اپنے بچّے سے وعدہ کرے پھر پورا نہ کرے ( آداب المفرد،بخاری)
غصہ، حسد، رنج، محبت نفرت، خوف و غیرہ کو ہم جذبہ بھی کہتے ہیں اور جبلّت بھی۔ان پر کنٹرول ہمارے جاگےبوئے شعور سے ہی ممکن ہے۔ہر عمل کی اصلاح اسے روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔

بچپن کے نفسیاتی تقاضے

Physicological need of Childhood
(1) خودنمائ Winnsomکی خواہش
(2) تجسس Curiosityکی خواہش
(3) تقلید Imitation کرنے کی خواہش
(4) آزادی Indipendenceکی خواہش
(5) معاشرتی Social relationتعلقات کی خواہش …….
صحبت، سنگت انسان کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتی ہے۔اچھی صحبت، برتر صحبت اور بہتر صحبت اختیار کیجیے۔

حوصلہ مخاطب ہے

رسول صلی الله عليه وسلم کی مجلس میں بزرگ اصحاب کے ساتھ کم سن عبداللہ بن عمر بھی اپنے والد کے ساتھ موجود تھے ۔نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے محفل میں سوال پوچھا۔”مجھے اس درخت کا نام بتاؤ جس کی مثال مسلمان کی سی ہے”؟ جب عبداللہ بن عمر محفل سے باہر آئے تو اپنے والد سے کہا "وہ کھجور کا درخت ہے”۔یہ سن کرحضرت عمر کہنے لگے "اگر تم نے محفل میں کہا ہوتا تو مجھےاتنال مال واسباب ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی”۔اس پر ابن عمر نے کہا کہ آپ کو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا جیسے بزرگوں کو خاموش دیکھا تو بزرگوں کے سامنے بات کرنے کو برا جانا ( بخاری 6146).
اپنے بچّوں کو بھر پور مواقع فراہم کیجیے تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوںHidden Tallent کے مثت اور تعمیری پہلو آداب و فروتنی,انسانی وسائل Human Resource Development کے ساتھ اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کوپیش کرسکیں۔

دل کے لہو سے روح کی ہوتی ہے پرورش

معراج آگہی کی وفور محن میں ہے

اصلاحات Reformation
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…… …. ۔۔۔۔
(1) اہل خیر کی صحبت خیر لاتی ہے۔اپنے بچّوں کو اچھّے با اخلاق، نیک صفت دوستوں کی صحبت فراہم کیجیے۔
(2) بُرے اور گندے دوست کی صحبت سے اپنے بچّوں کو روکیے۔ان کی خفیہ عادت بد سے اپنے بچوّں کو بچائیے۔انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔گندے پانی میں تھوڑا سا صاف پانی ملانے سے صاف پانی بھی گندہ ہوجاتا ہے۔ ویسے ہی صاف پانی میں گندہ پانی ملنے سے صاف پانی بھی گندہ ہو جاتا ہے۔بچّوں میں غیرت، شرم وحیا، خودراوی کا پاس ولحاظ ہو۔ وہ تمسخر، استہزا، طعن وتشنیع لعنت ملامت سے گریز کریں ۔
(3) نشہ آور چیزیں کوئی مُفت بھی دے تو دور رہیں۔ سگریٹ، تمباکو گٹکا، نشہ آور گولیاں,پاوڈر، لکویڈ اور ہر طرح کے نشہ کی لت (Addiction) انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔
(4) بچوّں میں چڑ چڑا پن(Irritibility )کمزوری اور نیند کی کمی کا سبب ہوتا ہیں ۔ان پر قابو پانا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ان کی عادت بن جاتی ہے۔
(5) ہماری عادتیں Habits ہی ہمارا کردار اور پہچان ہوتیں ہیں۔اچھّی عادات کو نظم زندگی بنالیں۔
جسمانی ورزشExercises اور کھیل کود کی عادت زندگی کو بہتر بناتی اور نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ تغذیہ( Nutrition) سے شخصیت کو ہم آہنگی Harmony کے ساتھ پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے۔اس سے مسرّت نصیب ہوتی اور غم غلط ہوتا ہے۔الجھنیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔(beauty of life) جمال زندگی کا ادراک حاصل کرنے میں تعاون ملتا ہے۔
(6)اپنے بچوّں کونظام اقدار (Value System)اور اقدار کے بحران (value Crisis)سے واقفیت دیں ۔صحت مندی اور زندگی کی احتیاطی تدابیر سکھائیں۔خطرات (Threats) سے نبرد آزمائی کرنے کا حوصلہ دیں۔
(7) بچّوں کی شخصیت اور ان کی کوششوں کو اہمیت دی جائے ۔مسابقت Compitition اور اس کے مفید نتائج پر نظر ہو۔

(8) Be flexible and Willing to adjust your paranting style.
(9)خوش سلیقگی، برتاؤ میں شائستگی، آداب کی پابندی، وضع داری، مروّت اوررواداری، خوداعتمادی، خوش اعتقادی اور اعتدال کو اپنائیں۔

"حسن اخلاق نام ہے خوش روئ کا، مال وزر خعچ کرنے کا اور کسی کو تکلیف نہ دینے کا”۔

سخت کوشی ہی میں مضمر ہے فلاح زندگی

اپنی آسانی کو ممکن ہو تو پھر مشکل بنا

سعادت واقبال مندی کو قریب لانے کے لیے

(1) کچھ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
(2)کچھ ناموزوں عادتوں کو ترک کرنا ہوگا۔
(3) اپنے اندر بہت کچھ نیک صفات اور اچّھی عادتیں پیدا کرنی ہو گی۔

( عبدالعظیم رحمانی کی زیر تصنیف کتاب پرورش paranting سے ایک مضمون)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے