” آپ اچھے ماں باپ بن نہیں سکتے جب تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید سے رجوع نہ کریں۔ ” ماہر تعلیم و کاؤنسلر جناب حنیف لکڑاوالا

  • جماعت اسلامی ممبئی میٹرو لیڈیز ونگ کی جانب سے والدین کی رہنمائی کے ضمن میں تربیتی ورکشاپ

20 نومبر ؛ پٹھان واڈی ملاڈ

ہر خاندان، ہر گھر کی یہ کہانی ہے کہ بچے بگڑتے جا رہے ہیں، موبائل فون اور نشے کی لت میں مبتلا ہیں، تعلیم سے فرار اختیار کر رہے ہیں اور والدین اپنے بچوں کے لئے فکر مند ہیں کہ ان پیدا شدہ حالات کا ذمہ دار آخر کون ہے اور ان حالات سے نکلنے کی راہ کیا ہے؟ اس بابت والدین کی رہنمائی کے لۓ جماعت اسلامی ممبئی میٹرو لیڈیز ونگ کی جانب سے بتاریخ 20 نومبر 2022 بروز اتوار، بمقام اسٹار ہال پٹھان واڑی، بوقت صبح دس تا دوپہر ایک بجے کے درمیان ایک ورکشاپ بعنوان "پرورش ” منعقد کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوت و ترجمہ ( سورہ طور —-آیت نمبر 17 تا 28) سے جناب کلیم اللہ نے کیا۔ ریحانہ دیشمکھ ( سیکرٹری لیڈیز ونگ ممبئی میٹرو ویسٹرن زون) نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ ” موبائل گیمز اور نشے کی لت — موت کی راہ ” اس عنوان پر گفتگو کے لئے مینٹل ہیلتھ کاؤنسلر اور ساـٔیکو تھیراپسٹ ڈاکٹر حمیرہ نے کہا کہ ” ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ ہمارے گھر میں نشہ کا مسئلہ ہو ہی نہیں ہو سکتا۔ اگر گھر میں کسی کو نشہ کی لت لگ جائے تو اسکے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ اس میں اعتماد پیدا کیا جائے اور اسکو آسانی دینے کی کوشش کی جاۓ۔ بعد ازاں ماہر نفسیات سے رجوع کرکے کاؤنسلنگ یا تھیراپی کرایٔ جا سکتی ہے۔اگر نشے کی لت بہت ہی زیادہ بڑھ گئی ہے تو Rehabilitation Centre لے جایا جا سکتا ہے ۔
” مجھے اپنے امی ابو سے کچھ کہنا ہے ” —اس موضوع پر ماہر تعلیم و کاؤنسلر ڈاکٹر حنیف لاکڑا والا نے اپنے تجربات پیش کرتے ہوئے کہا ” بچوں کی تربیت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا نہ کریں کیونکہ والدین جو کچھ بھی کرتے ہیں بچے اسے آـٔینے کی طرح اخذ کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کے مالک بننے کی کوشش نہ کریں، آپ صرف انکے رکھوالے ہیں۔ مالک تو صرف اللہ ہے۔ آپ اس وقت تک اچھے ماں باپ نہیں بن سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید سے رجوع نہ کریں۔ "رکن جماعت و امیر مقامی اندھیری عابد اطہر نے ” اولاد کی تربیت — قرآن و سنت کی روشنی میں ” اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ، ” والدین اپنے بچوں کے لئے عملی نمونہ بنیں کیونکہ بچے والدین کے عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں پر توجہ دیجۓ۔ انہیں جتنی محبت دیں گے وہ اتنا آپ سے قریب ہونگے۔ انکے ساتھ بیٹھ کر انکے مسائل حل کیجۓ۔ انہیں اچھائیوں میں سبقت لیجانے پر ابھاریں۔ انکی غلطیوں پر انہیں پیار سے سمجھاـٔیں اور سب سے اہم یہ کہ والدین خود علم حاصل کریں اور اپنے بچوں میں اسکی عکاسی کریں۔ "
آخر میں جناب فیروز خان نے تمام مہمانان اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ ایاز شیخ نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیے۔ اس ورکشاپ سے تقریباً 100 والدین مستفیض ہوئے۔
اس ورکشاپ میں دو وطنی بہنیں بھی شامل رہیں۔

جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر (حلقہ خواتین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے