جاڑے میں دل کا خیال زیادہ رکھئے….!

ازقلم: پروفیٹوپیتھک حکیم مظفر حسین اجمل
صدر: آل انڈیا پروفیٹوپیتھک حکیم ایسوسی ایشن، مظفرپور

دل کے شریانوں میں سیکوڑن کامسئلہ صرف دل کی تکلیف تک ہی محدود نہیں رہتابلکہ پیریفرل واسکولربیماری کے وجہ کر شریانوں میں خون کا تھکہ کسی بھی جگہ بن جاتا ہے۔ اس مرض میں جسم کے مختلف حصوں کو خون پہنچانے والی شریانوں میں خون جم جاتا ہے۔ جس کا ڈائریکٹ بُرا اثر دل پر بھی پڑتا ہے۔ ساتھ ہی سردیوں میں شریانوں کی اندرونی گولائی میں بھی سِکُڑنے کی وجہ کر کمی ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں کی بہ نسبت جاڑے میں دل کے دورہ (Heart Attack)کا خطرہ چار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ شریانوں کی گولائی میں کمی بھی بلڈ پریشر میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کا بلڈ پریشر انگریزی دوا کے لگاتار استعمال کے ذریعہ نارمل تھا، ان لوگوں کا بلڈ پریشر بھی جاڑا شروع ہوتے ہی بے کنٹرول ہونے لگتا ہے۔ جس کی ایک اہم وجہ یکایک سردی کے سبب پسینہ کے اخراج میں کمی ہے۔ پسینہ میں کمی ہونے پر گردہ پر گندگی کے صفائی کے کام میں اضافی بوجھ بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جسم کے پسینہ نکالنے والے گلینڈوں (Sweat Gland) سے منسلک سوراخوں کو کسی بھی طرح بند کردیا جائے تو انسان کی موت ہوجاسکتی ہے۔ چونکہ بلڈ پریشر کا تعلق سیدھا دل سے ہے، اس لئے بھی جاڑے کی موسم میں دل پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے جانب جاڑے کا موسم نظامِ ہضم کے لئے کنکڑ پتھر ہضم والا موسم کہا جاسکتا ہے۔ رات لمبی اور ٹھنڈی ہونے کی وجہ کر صحیح ڈھنگ سے لگ بھگ نیند بھی پوری ہوجاتی ہے۔ جس کا خوشگوار اثر قوتِ ہاضمہ پر بھی پڑتا ہے۔ عمومی طور پر جاڑے کے موسم میں مرغن غذاؤں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ جب کہ ایسی غذائیں دل کے مریضوں کے لئے زیادہ نقصاندہ ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی پسینہ کے اخراج میں کمی کے سبب جسم سے نمک کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہیں مرغن غذاؤں کے استعمال میں اضافہ سے بھی سوڈیم کلورائڈ (یعنی نمک) کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسی غذائیں قبض میں بھی اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔ دل کے مریضوں کا قبض کے وجہ کر ہی بیت الخلاء میں بے جا پریشر لگانے کی وجہ کر عام طور پر ہارٹ اٹیک ہوجایا کرتا ہے۔ ٹھنڈک کی وجہ کر جسمانی حرکت جیسے صبح سویرے کا ٹہلنا میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر لوگ گرمی کے موسم میں جب فائدہ مند پھلوں (امرود، کھیرہ، سنترہ،سیب)پر سردی پیدا کرنے کا الزام لگانے سے گریز نہیں کرتے، تو ان کے لئے ٹھنڈک کے موسم میں ایسے پھلوں اور دل کے لئے سب سے فائدہ مند سبزی کدّو پر سردی پیدا کرنے کا الزام لگانا تو بہت آسان ہوجاتا ہے۔ معالجوں کی اسی غلط فہمی کی وجہ کر اکثر مریض لوگ دل کے لئے فائدہ مند پھلوں اور سبزی (سنترہ اور کدو) سے اپنے محروم ہی رکھتے ہیں۔ شہد، پانی اور لیموں کا شربت لگاتار پینے والوں کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ نہیں رہتا، مگر کسی نے ایسے شربت کی صفت میں بھی ٹھنڈا اور گرم تاثیر کا شونشہ چھوڑ کر، ساتھ ہی دُبلے پتلے لوگوں کے چربی پگھل جانے سے اور مزید دُبلا ہونے کا خوف پھیلا کر اس قیمتی اور فائدہ مند شربت سے مریضوں کو محروم کر رکھا ہے، جب کہ شہد پانی کا شربت صبح کے وقت پینا حضور ﷺ کی سیرت میں داخل ہونے کی وجہ کر سنت بھی ہے۔ لیموں ملادینے سے اس شربت کے مزہ میں اضافہ ہونے کے ساتھ قدرتی وٹامن سی پورا ہونے کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ جس کی ضرورت جسم کے اندر ہر وقت ہے۔ کل ملا کر دل کے مریضوں کے لئے جاڑے کے موسم میں اپنے آپ پر خاص دھیان دینا ضروری ہے، کیونکہ تندرستی اگر بازار میں ملنے والی چیز ہوتی تو کوئی بھی مالدار آدمی مریض نظر نہیں آتا۔ طب نبوی کی سائنٹفک تشریح والی کتاب ”لاعلاج نہیں“ کے مصنف حکیم اجمل کسی بھی لاعلاج سمجھی جانے والے بیماری کاکامیاب علاج کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے