گجرات ماڈل بھرے چوراہے پر برہنہ

تحریر: محمد ہاشم القاسمی
خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال
موبائل نمبر:= 9933598528

گجرات کے موربی میں ماچھو ندی پر واقع معلق پل کے منہدم ہونے والے حادثہ کے بعد 145 لاشوں کو نکال لیا گیا ہے، جبکہ 180 افراد کو ابھی تک بحفاظت زندہ نکالنے میں کامیابی ملی ہے۔ حادثے کے دوران پل سے پانی میں گرنے والے متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جنہیں تلاش کرنے کے لئے سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔
فوج، بحریہ، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ اور مقامی غوطہ خوروں اور تیراکوں پر مشتمل تقریباً 200 جوانوں کی ٹیم سرچ آپریشن میں مصروف ہے۔ راجکوٹ کے کلکٹر ارون مہیش بابو بھی موربی میں خیمہ زن ہیں اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر تلاش اور بچاؤ کے کاموں میں مدد کر رہے ہیں.
موربی پل برطانوی دور حکومت میں سنہ 1880 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 233 میٹر طویل اور 1.5 میٹر چوڑے اس پل کی تعمیر کے لیے تمام سامان برطانیہ سے شپ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ موربی میں ماچھو ندی پر بنایا گیا یہ معلق پل (کیبل برج) تقریباً 150 سال قبل موربی خاندان کے حکمران سرواگھاجی ٹھاکور نے بنوایا تھا۔

ایڈوکیٹ وشال تیواری نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی میں کہا ہے کہ "یہ حادثہ سرکاری حکام کی لاپرواہی اور سراسر ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، چیف جسٹس یو یو للت سے کہا گیا ہے کہ پچھلی دہائی سے ہمارے ملک میں مختلف واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں بدانتظامی، ڈیوٹی میں کوتاہی، دیکھ بھال میں لاپرواہی کی وجہ سے بہت زیادہ عوامی ہلاکتوں کے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے بچا جا سکتا تھا ". عرضی گزار نے گجرات کے موربی میں پل گرنے کی تحقیقات کے لئے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبروں کے مطابق سپریم کورٹ موربی پل گرنے کی عدالتی تحقیقات کی درخواست پر 14 نومبر کو سماعت کرے گی.
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ "گجرات میں موربی پل حادثہ، جس میں اب تک 135 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، بڑے پیمانے پر بدعنوانی، کا نتیجہ تھا، انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کرتے ہوئے کہا "ایک گھڑی بنانے والی کمپنی، جس کو پل کی تعمیر کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اسے پل کی مرمت کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟” دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ گجرات کے موربی حادثے میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ واضح ہے کہ یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور اس کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بدعنوانی ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں سسودیا نے کہا کہ موربی میں بی جے پی کی بدعنوانی کی وجہ سے سینکڑوں لوگ اور معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، اور بی جے پی اوراس کے لیڈر اس پر خاموش ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موربی پل کی تعمیر نو کا ٹھیکہ گھڑی بنانے والی کمپنی کو کیوں دیا گیا؟ جبکہ اس کمپنی نے کبھی پل نہیں بنایا، اسے پل بنانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اتنے بڑے اور اہم کام کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے کسی کمپنی کو کیوں دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اس کا جواب دینا چاہئے کہ ٹینڈر جاری کئے بغیر کسی ناتجربہ کار کمپنی کو ایسا ٹھیکہ دینے کے لئے کس نے کتنے پیسے کھائے؟ پل کو آٹھ ماہ میں دوبارہ تعمیر کیا جانا تھا، کیا وجہ تھی کہ انہوں نے پانچ مہینے میں ہی ایک ناقص پل بنا کر عوام کو جانے کا سلسلہ شروع کر دیا، بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ اس نے اس کمپنی اور اس کے مالکان سے کتنا چندا لیا ہے، اور اس کمپنی کے مالکان کی بی جے پی لیڈروں کے کن لیڈران سے قربت ہے؟ اتنے بڑے حادثے اور اتنی اموات کے باوجود درج کی گئی ایف آئی آرمیں کمپنی اور کمپنی کے مالک کا نام کیوں نہیں ہے؟ انہیں کیوں اور کس کے دباؤ میں بچایا جا رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ گجرات کے موربی میں ہوئے حادثے سے پورا ملک ہل گیا۔ اس حادثے میں سینکڑوں لوگ اور معصوم بچے مارے گئے۔ پچھلے دو دنوں میں سامنے آنے والے حقائق سے صاف ہے کہ یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور اس حادثے کے پیچھے بی جے پی کی بدعنوانی ہے۔ سسودیا نے کہا کہ بی جے پی کو ان پانچ سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ کیونکہ یہ 150 لوگ اور معصوم بچے حادثے سے نہیں مرے بلکہ قتل ہوئے ہیں”۔

موربی میں پل حادثہ کے بعد کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور یقیناً چند روز بعد تحقیقات کے کچھ نتائج سامنے آئیں گے۔ میچوندی پر بنے اس پل میں 100-150 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ حادثے کے دن یعنی اتوار کو اس پل پر گنجائش سے 5 گنا زیادہ لوگ موجود تھے۔ آخر 100 افراد کی گنجائش والے پل پر 400-500 لوگ کیسے آئے، کس نے اجازت دی؟ اس پل پرجانے کے لیے17 روپے کی ٹکٹ دی گئی تھی۔ تو کیا کسی نے جان بوجھ کر دیوالی کے بعد ویک اینڈ پر بغیرفٹنس چیک کیے اس پل کو دیوالی کے اگلے دن کھول دیا تھا، کمائی کے لالچ میں اور اتنے لوگ پل پر جمع ہوگئے۔ بتایا جارہا ہے کہ ایک پرائیویٹ فرم کی جانب سے 7ماہ تک مرمت میں 2 کروڑ روپے خرچ ہوۓ ہیں۔
موربی پل حادثہ کے بعد انتظامیہ کی جانب سے یہ پانچ غلطیاں کھل کر سامنے آئی ہیں (1) اس پل کو گجراتی نئے سال کے موقع پر جلد بازی میں کھولا گیا، تاکہ جلد بازی میں زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کی جائے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا کام مکمل نہیں ہوا تھا۔ جب کہ اصل منصوبہ یہ تھا کہ پل کو دسمبر میں کھولا جائے، لیکن اکتوبر کے آخری ہفتے میں 26 اکتوبر کو گجراتی نئے سال کے موقع پر کھولا گیا۔ پل کی مضبوطی کو جانچنے کے لیے بنیادی ’’لوڈ ٹیسٹ‘‘ تیار نہیں کیا گیا اور اس لیے حکام سے فٹنس سرٹیفکیٹ بھی نہیں مانگا گیا۔(2)تزئین و آرائش کے دوران پل کے فرش کو ایلومینیم کی چار تہوں کے ساتھ دوبارہ کھولا گیا جس سے پل میں وزن بڑھ گیا۔ تاہم پرانے کیبلز کو مضبوط یا تبدیل نہیں کیا گیا تھا بلکہ انہیں ایک نئی شکل دینے کے لیے محض پینٹ کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پل پہلے سے زیادہ بھاری ہو گیا اور کیبلز پر دباؤ بڑھ گیا۔(3)اوریوا گروپ (Oreva Group) نے طویل عرصے تک اس پل کا ٹھیکہ لیا تھا، تزئین و آرائش کا یہ خاص کام اس نے دو دوسرے ٹھیکیداروں کو ذیلی کنٹریکٹ پر دیا ہوا تھا جو بظاہر اس کام کے لیے اہل نہیں تھے۔ اوریوا گروپ کو کام کے ذیلی کنٹریکٹ کی اجازت کیسے دی گئی اور تزئین و آرائش کی اسائنمنٹ کی نگرانی کی ظاہری کمی اب بھی زیربحث ہے۔(4)حد سے زیادہ افراد کی آمد کی وجہ سے پل کا توازن بگڑ گیا۔ اس میں عوام کا داخلہ غیر منظم تھا، وہاں تعینات چند سیکورٹی گارڈز نے ضرورت سے زیادہ ہجوم کو پل پر قدم رکھنے سے نہیں روکا۔ اس دن بڑی تعداد میں ٹکٹ فروخت ہوئے اور پل کی گنجائش سے کہیں زیادہ لوگ اس پر موجود تھے جب تاریں ٹوٹ گئیں اور پل گر گیا۔ اس پہلو کی وجہ سے وہاں تعینات عملے کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔(5) اوریوا گروپ کے پاس کسی حادثے کی صورت میں کوئی ریسکیو یا ایمرجنسی پلان نہیں تھا۔ مثال کے طور پر شاید ہی کوئی ایسی کشتیاں تھیں جن میں لائف جیکٹس یا غوطہ خوری کا عملہ پل کے گرنے یا حادثے سے گرنے کی صورت میں لوگوں کو بچانے کے لیے تعینات تھا۔
’اوریوا‘ کمپنی کے منیجروں میں سے ایک دیپک پاریکھ نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سینئر سول جج ایم جے خان کی عدالت میں یہ عجیب و غریب اور بے حسی بھرا بیان دیا ہے کہ”یہ بھگوان کی اِچھّا تھی، اوپر والے کی یہی مرضی تھی کہ ایسا خطرناک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔” کمپنی کے منیجر کے اس بیان سے متاثرین کے ساتھ ساتھ پورا ملک سخت حیرت زدہ ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے وہ عدالت میں اس طرح کی بے تکی اور بے حسی بھرے بیان دے رہے ہیں۔ دیپک پاریکھ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وہ کمپنی میں میڈیا منیجر تھے اور گرافک ڈیزائننگ کا کام کرتے تھے۔ ان کا حادثے سے یا پُل کی مرمت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، انہیں بلَی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔
ہندوستان میں پل گرنے اور اس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل 2003 میں ممبئی کے قریب ندی پر، 2011 میں دارجلنگ کے قریب اور 2016 میں کولکاتا میں پل گرنے کے حادثات ہوچکے ہیں۔ کئی پل دوران تعمیر گرگئے، ہرحادثہ کے بعد انکوائری کرائی گئی، کچھ لوگوں پر مقدمات چلائے گئے۔ موربی پل حادثہ میں یہی کیا جارہا ہے۔ لیکن نہ تو ان واقعات سے کوئی سبق حاصل کیا گیا اورنہ تحقیقاتی کمیٹی یا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرکے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کیلئے انتظامات کیے گئے،
حادثہ کے دن وزیر اعظم نریندر مودی گجرات میں تھے مگر ان کو موربی پہنچنے میں تین دن لگے اور وہ منگل کے روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور موقع پر چلائے جا رہے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل بھی موجود تھے، وزیر اعظم مودی جی نے موربی میں کیبل پل گرنے کے حادثے کے بعد بچاؤ اور راحت کی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ان لوگوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے حادثہ کے وقت متاثرین کی جان بچانے میں مدد کی تھی۔ اس کے بعد موربی سول اسپتال پہنچ کر حادثہ میں زخمی ہونے والے افراد کی بھی عیادت کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ سے قبل موربی سیول اسپتال میں رنگائی پتائی کی تصویریں منظر عام پر آئی ہیں، جس پر حزب اختلاف نے سوال اٹھائے ہیں۔

کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے پیر کے دن ٹویٹر پر وزیراعظم مودی کے دورے پر سوال اٹھاتے ہوئے تصویریں شیئر کیں۔ کئی دوسرے لیڈروں نے بھی ان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا ہے۔ سپریا شرینیت نے ٹویٹ میں لکھا، "پی ایم مودی کل موربی کے سیول اسپتال جائیں گے، اس کے لئے اسپتال کو جنگی بنیادوں پر پینٹ کیا جا رہا ہے۔ چمکتی ہوئی دیواروں اور نئے ٹائلوں والے ہسپتال میں، زخمی شاید بہتر محسوس کر رہے ہوں، امید کی جانی چاہیے۔ سانحہ موربی میں 200 کے قریب افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔”
اس کو ریٹویٹ کرتے ہوئے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے لکھا، "وزیراعظم، آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ ابھی پوری لاشیں بھی نہیں ملیں، آج کئی گھروں میں چولہا بھی نہیں جلتا اور یہاں بھی تماشا سوجھ رہا ہے؟”
عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے سوربھ بھاردواج نے ٹویٹ کیا، "اگر گھر میں کوئی مر جاتا ہے تو کیا کوئی رنگائی پتائی کرواتا ہے؟ اسپتال کے اندر 134 لاشیں پڑی ہیں اور اسپتال کی پینٹنگ کا کام جاری ہے۔”
بھاردواج کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے لکھا "27 سالوں میں بی جے پی نے سرکاری اسپتالوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ آج وزیر اعظم کے دورہ کے دوران ملک کو گجرات کے اسپتالوں کی حقیقت، بی جے پی کی 27 سال کی ناکامی کا سچ نظر نہ آئے، تو لاشوں کے درمیان سوگ کی فضا میں بھی پتائی جاری ہے یہ سب بہت شرمناک ہے۔”
موربی کیبل پل کے اس حادثہ نے گجرات ماڈل کو بھرے چوراہے پر ننگا کردیا ہے، موربی کیبل پل کی آرائش و زیبائش کی ذمہ داری جس کمپنی کو دی گئی تھی، اس کمپنی کا بنیادی کام گھڑی بنانا، سی ایف ایل بلب بنانا اور مچھر بھگانے والے کوائل بنانا تھا۔ بغیر کوئی ٹنڈر جاری کیے15برسوں کیلئے موربی کیبل پل کی مرمت اور دیکھ ریکھ کا کام اس کو سونپ دیاگیا، اورائیوا کمپنی کو یہ کام اس لیے دیا گیا چونکہ اس کے تعلقات بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں سے تھے۔ پل کو مرمت کے نام پر 7-8 مہینے تک بند رکھا گیا اور پھر اکتوبر کے آخری دنوں میں پل کو اچانک کھول دیا گیا۔ اس پورے عمل میں اورائیوا کمپنی، مقامی بلدیہ، ضلعی انتظامیہ اور گجرات حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی وزارت سیاحت بھی شامل ہے۔ اتوار کو چھٹھ کے موقع پر زیادہ پیسہ کمانے کیلئے اس کمپنی نے100افراد کی گنجائش والے پل پر جانے کیلئے 675 افراد کوٹکٹ بیچ ڈالا۔ لیکن گجرات حکومت کی جانب سے حادثہ کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر میں اس’اورائیوا کمپنی‘ کے مالک کا نام تک نہیں ہے، جس نے سیفٹی اورفٹنس سرٹیفکیٹ لئے بغیر ہی اس کیبل پل کا افتتاح کردیا۔ گرفتار کیا گیا ہے تو ان 9 افراد کو جو اس کمپنی کے ملازم ہیں۔ مقامی حکام میں شامل ان افسران کے خلاف کوئی بھی مقدمہ نہیں بنایاگیا ہے جو اس پل کی نگرانی کے ذمہ دار تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے