سونار بنگلہ (قسط نمبر2)

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک سفر

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

ازقلم: آفتاب ندوی دھنباد، جھارکھنڈ

اسی سونار گاؤں سے گزشتہ ماہ دعوت نامہ ملا کہ آج سے پچیس سال پہلے سوناجیسے ملک کی اقتصادی راجدھانی چاٹگام شھر میں انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تھا ، قائم کرنے والے دھن کے ایسے پکے ، عزم و ارادہ کے ایسے پہاڑ اور سعی پیہم اور جہد مسلسل کے ایسے بندے تھے اور ہیں کہ پچیس سال میں دنیا کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں میں اسے ایک ممتاز مقام کا مستحق بنادیا ، بانیوں اور ذمہ داروں کو خیال ھواکہ دنیا کے مختلف خطوں میں قوم مسلم کی تعلیم وتربیت اور اسے اقوام عالم میں اسکی حیثیت عرفی کے مطابق باعزت مقام دلانے کے مقصد سے فکر وسعی کرنے والوں کو زحمت دی جائے تاکہ وہ دیکھیں بھی کہ مال وزر سے تہی دامن اللہ کے جند بندوں نے محض توفیق الہی اور مخلص بندگان خدا کی اعانت وہمت افزائی سے تعلیم وتربیت کا کیسا تاج محل تعمیر کیا ھے ، اور مستقبل کیلئے اپنےمفید مشوروں اور تجربات سے بھی جامعہ کے ذمہ داروں کو نوازیں ،،
سلور جبلی میں انڈیا سمیت اکیس ملکوں سے ماھرین تعلیم ، اہل ثروت معاونین ، حکومتوں ، دانش گاہوں اوراین جی اوزکے عہدیداران شریک ھوئے ، برطانیہ کی نمائندگی مشہور محدث ، اسکالر اور عظیم مصنف ڈاکٹر محمد اکرم صاحب ندوی مدظلہ نے کی جبکہ انڈیا کی نمائندگی حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب مدظلہ ناظم ندوۃ العلماء کے نواسے مولانا سید خلیل حسنی اور راقم کے حصہ میں آئی ، یونیورسٹی کی انتظامیہ کا مقصد اس سلور جبلی سے ابتک کی کارکردگی اور تعلیمی و تعمیری ترقیوں سے بطور خاص تعاون کرنے والوں کو واقف بھی کرانا تھا اور آگے کے منصوبوں کیلئے ان سے مدد کی درخواست بھی کرنی تھی ، یونیورسٹی کے ذمہ داران اپنے مقصد میں سو فیصد کامیاب ھوئے ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی چاٹگام ایک ٹرسٹ کے ماتحت وزیرنگرانی چلنے والی ایک پرائیوٹ یونیورسٹی ھے ،،
اسکا ایک بورڈ ھےجسکے چیرمین ممتاز عالم دین ڈاکٹر ابو رضاء محمد نظام الدین ندوی ہیں ، یہی بورڈ یونیورسٹی کے ھر طرح کے کام کاج کی ذمہ دار ھے ، ایک دوسری جنرل کمیٹی بھی ھے ، اسکے صدر معجزات اور سائنس کے مشہور سعودی عالم محقق اور داعی شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز مصلح صاحب ہیں ، اس کمیٹی کے ارکان میں چوٹی کے دانشور ، تعلیمی میدان کے ایکسپرٹ اور اہل خیر شامل ہیں ، ان میں ایک معقول تعداد کاتعلق بیرونی ملکوں سے بھی ھے ، ،
عزیز مکرم مولاناسید خلیل حسنی اور میرا ٹکٹ کلکتہ سے چاٹگام کا 28 اکتوبر 2022 بروز جمعہ بنگلہ دیشی ایر لائنس سے تھا ، خلیل حسنی 26اکتوبر کو کلکتہ پہنچ گئے تھے ، میں 27 اکتوبر کی شام کو کلکتہ پہنچا ، خلیل حسنی صاحب کا کلکتہ میں فرفرہ شریف میں قیام رہا، اور کلکتہ میں انکے متعدد پروگرام ھوئے ،
کلکتہ سے چاٹگام (چٹو گرام ) چاٹکام سے ڈھاکہ اسی طرح ڈھاکہ سے کلکتہ تک کی دوری تقریبا وہی ھے جو دلی سے لکھنؤ کی ھے ،ھوائی جہاز سے صرف ایک گھنٹہ کا سفر ، ھماری فلائٹ ہندوستانی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے دن میں اڑان بھر کر بنگلہ دیش کے وقت کے مطابق دو پہر کے دوبجے چاٹگام ایرپورٹ پہنچی ، امیگریش اور سامان لینے میں تقریبا آدھا گہنٹہ لگا ، لیکن جب ھم لوگ باھر نکلے تو استقبال کرنے والا کوئی بھی باھرموجود نہیں تھا ، تعجب ھوا ، کیونکہ اس سے پہلے بھی یونیورسٹی کے پروگرام میں میری شرکت ھوچکی ھے ، اس کا انتظام معیاری اور چست ھوتا ھے ، باھر ایک صاحب سے موبائل مانگ کر یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر نجم الحق ندوی کو فون کیا ، یہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایرپورٹ کے وی آئ پی ایریا میں موجود تھے ، دوچار منٹ ھی میں پہنچ گئے ، اور ھم لو گوں کو وی آئی پی ھال میں لے گئے ،وھاں یونیورسٹی کے متعدد اسٹوڈنٹس اور اساتذہ کے ساتھ خود یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مسرور مولی موجود تھے ، مولی صاحب اس ا نداز سے ملے کہ میں سوچنے لگا کہ اس سے پہلے ان سے کہاں ملاقات ھوئی ھے ،اسکے بعد بھی ان سے باربار ملاقات ھوئی ، ھر ملاقات میں وہی خندہ پیشانی ، وہی اپنائیت اور تواضع ، انکا آفتاب بھائی کہکر مخاطب کرنا بہت بہلا معلوم ھوتا ،،
یہاں چائے /کافی سے ضیافت کی ابتداء ھوئی ،سفر اور باھر کچھ دیر انتظار کے بعد کافی بہت اچھی لگی, ذہنی وجسمانی تھکاوٹ کا احساس جاتا رھا ، ایرپورٹ سے ھوٹل جہاں تمام مہمانوں کے ٹھرنے کا انتظام تھا تقریبا تیس پینتیس کیلو میٹر دور تھا ، ایرپورٹ سے ھوٹل جس سڑک سے ھم لوگ لے جائے گئے اسے شہر سے باھر باھرنکالا گیا ھے ، ھوٹل سے بہت قریب ھونے کے بعد شھر میں داخل ھوئے ، چاٹگام کا پرانا نام اسلام آباد ھے ، یہ بنگلہ دیش کا دوسرا بڑا شہر ھے ، اوریہی شہر اقتصادی راجدھانی بھی ھے ، ساٹھ لاکھ سے او پر آبادی ھے ، یہاں ملک کا سب سے بڑا سی پورٹ ھے ، کرن فلی یہاں کا مشہور دریا ھے ، یہی دریا پانی جہازوں کو خلیج بنگال تک چھوڑنے اور باھر سے آنے والے جہازوں کو اندر لے کر آتا ھے ،

باقی اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے