نیپال: 2022 الیکشن میں ڈاکٹر محمد فردوس کی شکست سے ضلع روتہٹ نیپال کے تینوں چھتروں کے مسلمان انتہائی مغموم

انوار الحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
الیکشن میں کسی کی فتح کسی کی شکست پر موقوف ہوتی ہے اور الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد کسی کے گھر خوشی تو کسی کے گھر غم کا سماں ہوتا ہے،بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ غم کا تحمل ان کے کنٹرول سے باہر ہوتاہے،جس کی بنا وہ راہی ملک عدم بھی ہوجاتے ہیں۔ضلع روتہٹ نیپال چھتر نمبر 2/ میں مسلمانوں کی آبادی دیگر چھتروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ ہی ہے،جس کی بنا عموماً مسلمان ہی یہاں سے مانیے کا الیکشن جیت کر مانیے بنتے رہے ہیں ؛مگر نیپال 2022ء کے اس حالیہ الیکشن نے منظر کچھ ایسا بدلا کہ ضلع روتہٹ نیپال کے چھتر نمبر 2/کے علاوہ تینوں چھتروں کے مسلمانوں کا چہرہ بالکل سیاہ کردیاہے اور ہر ایک کے چہرے پر غم اور اداسی چھادیا۔
یہ ایسا اس لیے کہ حالیہ نیپال 2022ء الیکشن میں سابق منتری محمد آفتاب عالم کے صاحب زادے جناب ڈاکٹر محمد فردوس عالم کو ضلع روتہٹ نیپال چھتر نمبر 2/کے مسلمانوں نے الیکشن میں ان کا سپورٹ نہ کرکے کرن ساہ کا سپورٹ کیا،جس کی بنا ڈاکٹر محمد فردوس کوشکست سے دو چار ہونا پڑا۔آج ان کے اسی شکست کا اثر ضلع روتہٹ نیپال کے چھتر نمبر دوم کے علاوہ تینوں چھتروں کے مسلمانوں پر اداسی اور غم کی شکل میں دیکھنے کو مل رہاہے۔واضح رہے کہ میں نے ضلع روتہٹ نیپال چھتر نمبر 2/ کے مسلمانوں کے چہروں سے اداسی اور غم کی نفی صرف اس لیے کیا کہ یہاں کے مسلمانوں نے ان کا سپورٹ کماحقہ نہیں کیا؛ورنہ آج جیت کا سہرا ڈاکٹر محمد فردوس کے گلے ہوتا ہے اور پورے روتہٹ میں جشن اور خوشی کا ماحول ہوتاہے۔
میں ڈاکٹر محمد فردوس صاحب اور ان کے چھوٹے برادر میئر جناب ڈاکٹر محمد عبد الرازق صاحب کی خدمت میں یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ دونوں صاحبان کو گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے،ہمت بلند رکھیں آج اگر شکست ہوئی ہے،تو آئندہ ضرور فتح اور جیت ہوگی۔آج جس شخص نے بھی آپ کے ساتھ غیر وفاداری کا ثبوت دیا ہے آئندہ -ان شاء اللہ- وہی وفاداری کا ثبوت دےگا۔اس دنیا میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ایک عام سی بات ہے۔
درج ذیل شعر کو ہمہ وقت اپنے ذہن میں مستحضر رکھیں!
"گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں *وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے