سونار بنگلہ (قسط نمبر 3)

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک سفر

گزشتہ سے پیوستہ

ازقلم: آفتاب ندوی دھنباد، جھارکھنڈ

اگرچہ خود خلیج بنگال بھی چاٹگام کی قدم بوسی کرتا ھے ، چاٹگام ساحلی شہر ھے ، یہ ایک قدیم بندرگاہ ھے ، قدیم زمانہ میں چین کیلئے عربوں کا یہ راستہ رھا ھے ، اور تاریخ بتاتی ھے کہ زمانۂ نبوت ہی میں مہاجرین حبشہ میں سے صحابئ جلیل حضرت ابو وقاص رضی اللہ عنہ نے حبشہ ہی سے ملک چین کاسفر کیا ، ھوسکتا ھے ادھر ہی سے گئے ھوں اوریہاں جہاز لنگر انداز ھواھو اور اترے بھی ھوں ،پھر جب مالابار میں تابعین کے ذریعہ اسلام کی روشنی پہنچی تو عجب کیا کہ اسی زمانہ میں بنگال کے علاقوں میں بھی نور ایمان پہنچا ھو ، راج شاہی علاقہ کے ایک بدھ مندر میں سونے کا ایک سکہ دریافت ھوا ھے جو شہنشاہ ھارون رشید کے زمانہ کا ھے ، قریبی زمانہ تک ھندو ستان سے حجاج کے قافلے چاٹگام ھوکر حجاز جایا کرتے تھے ، بانئ ندوۃ العلماء مولانا سید محمد علی مونگیری بھی اپنے رفقاء کے ساتھ آج سے سواسوسال پہلے 1318 ہجری میں چاٹگام ہی سے حج کیلئے روانہ ھوئے تھے ، کہا جاتا ھے کہ عربوں نے اس دریا کو گنگا سمجھا اور اس شہر کو شط غنغا کہا، یہی شط غنغا شیتاغونغ اور چاٹگام ھوگیا ، آجکل اسے چٹو گرام کہا جاتا ھے ، ایرپورٹ سے ھوٹل تک کا راستہ بڑا خوبصورت و دل فریب تھا ،درمیان میں جہاں پہاڑ کاٹ کر سڑک نکالی ‌ گئی ھے طبیعت چاہ رھی تھی کہ گاڑی رکواکر کچھ وقت اسکے سحر انگیز مناظر سے قلب کو فرحت وانبساط ا ور دماغ کو تازگی وسکون بخشا جائے ، جو دلکش قدرتی مناظر راستہ میں گزرے اسکی تصویر کشی کیلئے کسی ادیب کا قلم چاہئے ، میرا سیدھا سادہ قلم انکی خوبصورتی و رعنائی کا ایک فیصد بھی آپکو نہیں دکھا سکتا ، درمیان میں انتھائی حسین پہاڑی راستہ آیا ، پہاڑ کو کاٹ کر سڑک نکالی گئ ھے کہیں کہیں تیس تیس پینتیس پینتیس فٹ یا اس سے زیادہ پہاڑکو کاٹا گیا ھے ، کہیں کہیں ایسا لگتا ھے جیسے دونوں طرف اونچی اونچی دیوار کھڑی کردی گئ ھے اور ان دیواروں پر سبزہ بچھا دیا گیا ھو ، گاڑی جب کسی ایسی جگہ سے گزرتی تولگتا کسی سرنگ میں ھم گھس رھے ہیں ، کبھی نشیب تو کبھی فراز ، قدرت کی صناعیوں کے بیچ میں کہیں کہیں انسانی کاریگری بھی دیکھنے کو ملتی ، لیکن انسانی ھاتھوں اور مشینوں کا استعمال صرف پہاڑوں کا سینہ چیر کر راستہ بنانے ہی کیلئے ھواھے ،اسی طرح کے خوبصورت ، پرکشش ، ولولہ انگیز اور فرحت بخش مرغزاروں سے گزرتے ھوئے کئ بار بے تابانہ گاڑی سے اتر کر قدرت کے لگائے ھوئے چمنستانوں سے لطف اندوز ھونے کا جی چاہا ، میرے دوست ڈاکٹر ابو رضا ء محمد نظام الدین ندوی کے اس دعوی کو کسی نہ کسی درجہ میں ماننا پڑا کہ بنگلہ دیش کے بعض خطے سوئیزر لینڈ سے زیادہ خو بصورت ہیں ، انسان قدرتی مناظر کی نقل اتارنے کی کتنی کوشش کرتا ھے ، کتنا خرچ کرتا ھے اور کیسے کیسے جتن کرتا ھے پھر بھی قدرتی مناظر کے سامنے مصنوعی مناظر کوئی قیمت نہیں رکھتے ، ایک کمرہ کو آرام دہ اور ٹھنڈا بنانے کیلئے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا ھے ،لیکن سخت گرمی ، لو اور امس میں اللہ منٹوں میں ھواکے ایک جھونکے سے موسم کو خوشگوار اور فرحت بخش بنادیتے ہیں ، ،
ان مناظر کو دیکھ کر مجھے جھارکھنڈ کے بہت سے علاقے نگاہوں کے سامنے آگئے ، ریاست جھارکھنڈ کو بھی قدرت کی فیاضیوں سے وافر حصہ ملا ھوا ھے ، خوبصورت ڈیم ، قدرت کی صناعیوں کے شاہکار جھرنے ، ہرے بھرے جنگلات ، بلند سرسبز شاداب پہاڑ اور پہاڑیاں اور ان پر بل کھاتی اوپر چڑھتی ںیچے اترتی صاف شفاف سڑکیں ، جہارکھنڈ میں ایسی بل کھاتی سڑکوں کو جلیبیا روڈ کہا جاتا ھے ، میں نے سوچا اگر جھارکھنڈ سرکار مار کیٹنگ کرتی اور جھارکھنڈ کی وزارت سیاحت اسکا پرپیگنڈہ کرتی تو ریاست کی آمدنی کے ذرائع میں سیاحت ایک اہم ذریعہ ھوتی ، ساؤتھ انڈین کھانوں کی ساری قسمیں جھارکھنڈ میں پائی جاتی ہیں ، انکے نام صرف الگ ھیں ، لیکن اس حوالہ سے جھا رکھنڈ کا کہیں نام نہیں آتا ھے ، جھارکھنڈ میں امن وامان کی صورت حال اگر سدھر جائے اور یہاں موجود خوبصورت مقامات کی تشہیر کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست جھارکھنڈ سیرو سیاحت کا ایک اہم مرکز نہ بنے ، امن وامان کی صورتحال بہتر نہ ھونے کا لیکن ایک فائدہ بھی ھے کہ اس طرح کی جگہیں پکنک اسپاٹ بن جانے کے بعد بہت سی خرابیوں اور سماجی برائیوں کا اڈہ بن جاتی ہیں ، جھارکھنڈ اس طرح کا سینٹر بننے سے بہت حد تک بچا ھوا ھے ، ، مشہور وممتاز وبزرگ عالم دین مولانا سید محمد رابع صاحب حسنی ناظم ندوۃ العلماء وصدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک مرتبہ جھارکھنڈ میں اسی طرح کے قدرتی مناظر کو دیکھ کر کہنے لگے کہ شائد جنت میں اسی طرح کے مناظر ھونگے ، اس دورہ میں مولانا مدظلہ کے برادر خورد مشہور عربی صحافی اور ماھر تعلیم مولانا واضح رشید ندوی بھی ساتھ میں تھے ،، جمشید پور میں ایک خوبصورت علاقہ سے گزرتے ھو ئے کہنے لگے ایسا محسوس ھورھا ھے جیسے ھم لوگ سوئزر لینڈ میں ہیں ،،

جاری۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے