قاری محمد طیب قاسمی

تحریر: نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

قاری محمد طیب قاسمیؒ دیوبندی مکتب فکر کے ایک مشہور عالمِ دین، ایک بہترین محدث، ایک مایہ ناز مصنف، ایک قابلِ قدر خطیب اور ہندوستان کی مشہور اسلامک یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی آپ کے دادا تھے۔ آپ کی پیدائش اترپردیش میں 1898ء میں ہوئی۔ سات سال کی عمر سے دارالعلوم دیوبند میں پڑھنا شروع کیا اور مشہور علمائے دین سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد علومِ دینیہ میں اچھی مہارت پیدا کرلی۔ علامہ انور شاہ کشمیری اور مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا حبیب الرحمن عثمانی اور مولانا شبیر احمد عثمانی جیسی عظیم ہستیوں کا آپ کے اساتذہ میں شمار ہوتاہے۔
فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند ہی کے اندر تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیں، پھر 1924ء میں نائب مہتمم کا عہدہ سنبھالا۔ اس کے بعد 1929ء میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بنائے گئے اور اس عہدے پر تقریباًنصف صدی تک قائم رہے اور دارالعلوم دیوبند کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیا۔ یہی نہیں 1972ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا جب قیام عمل میں آیا تو آپ اس کے پہلے صدر بنائے گئے۔ آپ کی صدارت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی شاندار خدمات انجام دیں اور قاری محمد طیب قاسمیؒ نے ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں جو رول ادا کیا وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارہ کے مہتمم ہونے کے باوجود اور اپنی تدریسی علمی اور سماجی امور میں مصروفیت کے ساتھ ساتھ قاری محمد طیب قاسمیؒ نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی عظیم کارنامے انجام دیے۔ آپ کی مشہور کتابیں ہیں: التشبہ فی الاسلام، مشاہیرِ امت، سائنس اور اسلام، تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام، دین و سیاست، اسباب عروج و زوال، الاجتہاد والتقلید، اصول دعوت اسلام وغیرہ وغیرہ۔
1980ء میں جشن آغاز دارالعلوم دیوبند کے بعد آپ کی صحت گرنے لگی، اور بالآخر دارالعلوم دیوبند کا یہ روشن ستارہ17/جولائی1983ء کو ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہوگیا اور اپنے جدِ امجد دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پاس ہی آپ کی تدفین عمل میں آئی۔اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور آپ کی قبر کو نور سے منور کر دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے