درد سے درد کا رشتہ کیا ہے

تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

9224599910

اسلام نے خدمت والدین کو جنّت کے حصول کا راستہ بتایا ہے۔ والدین بچّے کی پیدائش سے لے کر اس کی شیر خوارگی، بچپن، لڑکپن عنفوان شباب ،جوانی تک کرتے ہیں ۔ اس کے کیرئیر کے لیے اپنا سکھ، چین، سرمایہ بلا شرط وبے غرض اس پر صرف کرتے جاتے ہیں۔اس کی صحت، تعلیم پر کھل کر خرچ کرتے ہیں ۔ اولاد سے محبت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی والدین کو تلقین نہیں کی گئی وہ اس لیے کہ دراصل ہمارے رب نے اولاد کی محبّت میں یہ سب کچھ فطرتاً رکھ دیا ہے۔

تذکیر و تعلیم
تفہیم و تلقین۔۔۔۔۔۔

"تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ!
تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرومگر صرف اس کی۔والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انھیں اُف تک نہ کہو نہ انھوں جِھڑک کر جواب دو، بلکہ ان کے ساتھ جھک کر نرمی سے بات کرو۔ ماں باپ کے ساتھ اچھّا سلوک کرو”-(بنی اسرائیل:23)
ماں باپ کے ساتھ بد سلوکی کرنا ان کی بات ان سنی کرنا، ان کے ساتھ نوکروں، عام لوگوں کی طرح بات کرنا، ان کے ادب واحترام میں کمی کرنا، عزت وتکریم نہ کرنے کو جہنم کا راستہ کہا گیا ہے ۔

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے

چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے

سلیقہ جن کو سکھایا تھا ہم نے چلنے کا

وہ لوگ آج ہمیں دائیں بائیں کرنے لگے

خوئے النوازی

صحابہ نے پوچھا
اے الله کے رسول صلی الله عليه وسلم!
"سب سے زیادہ حُسن سلوک کا مستحق کون ہے۔”؟
آپ صلعم نے اشادفرمایا
"تمہاری ماں”۔تکرار سے اس سوال کے پوچھنےپر آپ نے تین مرتبہ ” تیری ماں” اور پھر "تیراباپ” فرمایا (بخاری الآداب)

ایک مرتبہ فرمایا
تین شخص جنّت میں نہ جائیں گے
(1) ماں باپ کا نا فرمان (2) دیّوث (3) مَردوں کی وضع بنانے والی عورت ۔
فرمایا
پروردگار کی خوش نودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ( ترمذی)
ماں کی خدمت اور باپ کا حکم ماننا مقدم ہے۔والدین کی خدمت تہجد سے افضل ہے ۔والدین عظیم نعمت ہیں۔

اس کو ناقدری عالم کا صلہ کہتے ہیں

مرچکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

خاندان میں سب سے زیادہ مشقت، قربانی دینے اور پھرمجروح ہونے والی ذات باپ کی ہے ۔ماں جنم دینے سےجوان کرنے تک دُکھ درد سے گذرتی اور اپنا سُکھ چین بچّوں پر نچھاور کردیتی تو باپ خون پسینہ ایک کر کے بچوں کے لیے گھر، پرورش، تعلیم، شوق، مشغلے، تفریح، ڈگری ملازمت پھر شادی بیاہ کرنے میں اپنی جوانی کا سرمایہ بے غرض، خوشی خوشی لٹتا رہتا ہے۔

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ

میرے بچّے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

تلخ، ترش، شیریں

بڑھتے ہوئے بچّوں پر کُھلتی ہوئی دنیا ہے

کُھلتی ہوئی دنیا کا ہر رنگ نرالا ہے

پچیس تا تیس برس پرورش، پیار، مال کی قربانی،تعلیم تربیت کےبعد بہو کو رخصتی کرکے گھر لائے تو اب بیٹا اسیر زلفی، زن مریدی ,مادیت پرستی Materialism،خودغرضی Selfishness کے زیر اثر والدین کو چھوڑ کرگھر سے رخصت ہونا چاہتا ہے ۔والدین چڑچڑے، ان سے بدتمیزی، ان کی سوچ بوڑھی ،قدامت پسند، ان کی کفایت شعاری کو کنجوسی، ان کی روایت پسندی کو دقیانوسی طریقے کے طعنے دینے لگا ہے۔بحث ومباحثہ، ترکی بہ تر کی جواب، بد زبانی، والدین کے بہو سےکچھ کہنے کو معاملات میں دخل اندازی کہنے لگا ہے۔نئی نویلی بیوی اور بھی سرکش ہو گئی ہے۔میکے کا غرور، اپنی ڈگری کا زعم، joint Family سےالگ رہنے کی بات اور پھر پولس اور کورٹ میں کیس کی دھمکی ۔بیٹا کہتا ہے کہ اگر وہ الگ رہنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔اّمی ابّا کیوں نہیں مانتے۔؟ حوالہ دیتے ہیں کہ عرب دیس میں تو بہو لاتے ہی ان کی گرہستی الگ کردی جاتی ہے۔
بعض نالائق، بے ادب اپنی بیوی اور ساس کے سامنے والدین کو ذلیل کرتے ہیں ۔ان سے بات بات پرصفائی مانگی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ گستاخی کی جاتی ہے۔۔۔۔
سوچیے!
بڑھاپے میں بے سہارا کرنے والو!
چراغ نیم شب کو بجھانے والو!
اس پیرانہ سالی اور تھکے جسم سے جنہیں خدمت، محبت، ہمدردی، دواؤں اور آرام کی ضرورت ہے ۔تم انھیں بے یار ومدد گار چھوڑ کر ان سے جھگڑ کر ،ان کا دل دکھا کر، کس جسمانی اور نفسیاتی بیماری کے حوالے کر نے پر تلے ہو۔

اپنے نزدیک باغ میں تجھ بن

جو شجر ہے سو نخل ماتم ہے

احوال دوستاں

مسلم سماج کے پانچ فیصد لوگ بھی ایسے نہیں کہ آخری زندگی میں کمانے سے فارغ البال ہوں۔ایک سے زائد مکان نہیں،آمدن کے ذرائع نہیں، بیماری علاج کا انتظام نہیں، نوکر خادم رکھنے کی حیثیت نہیں۔ عرب دیس میں تو پیٹرول ڈالر کی روانی ہے ۔باپ مال دار ہے ۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ اگر دو بیٹےہیں تو ایک ماں کو دوسرا باپ کو رکھتا ہے۔جس کی بیوی ملازمت کرتی اور گھر میں چھوٹے بچے ہیں اور کھانا پکانا ہے تووہ ماں کواور جسے باہر کا سودا لانا، کام کاج دیکھنا، بچّوں کو اسکول چھوڑنا ہوتا ہے وہ باپ کو رکھتا ہے۔ یا پھر سب ہاتھ اُوپر اٹھا لیتے ہیں ۔
اس عمر میں افسردگی Depression,Tension, تناؤ Stress, اکیلا پن،علاج، تیمار داری، اٹھانا، بٹھانا، ساتھ لے جانا، اخلاقی سپورٹ، حوصلہ دینا، خوشیوں میں شریک کرانا ، رشتے نبھانا، پوتے پوتیوں کے لاڈ، دلار کلکاریوں سے کیوں محروم کرتے ہو؟؟؟؟کیوں غیر بناتے ہو؟ کس کے سہارے انھیں بے آسرا کرتے ہ
و؟؟

اس بھیڑ میں کچھ میری حقیقت نہیں لیکن

دب جاؤں گا مٹّی میں تو سب یاد کریں گے

دعاکیا کروکہ پروردگار!

ان پر رحم فرما، جس طرح انھوں نے رحنت، شفقت کےساتھ بچپن میں مجھے پالا تھا۔
اے جوان بیٹو!
والدین کے دُکھی دل آبگینوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ تمہاری خوشی سے خوش اور تمہارے دکھ سے غمگین ہوتے ہیں ۔ وہ شجر ہائے سایہ دار ہیں ۔کبھی ٹوٹ جاتے اور کبھی توڑ دیے جاتے ہیں ۔

تعظیم کیا کریں گے خدا اور رسول کی

جواپنے والدین کی عزّت نہیں کرتے

دو گزارشیں والدین سے
بکھرنا، ٹوٹنا اور انا کے ساتھ بھی رہنا
(1) اپنی سوچ اور نقطہء نظر میں لچک پیدا کیجیے۔ بدلتے حالات کے اعتبار سے مزاج میں تبدیلی اور درگزر کی روش اپنائیے ۔ اس لیے بھی کہ ہم عہد زوال اور دور منافقت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں ۔

حالات کے قدموں پر قلندر نہیں گرتا

لکین کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

(2) بہو بیٹے کے معاملات میں بے جا دخل نہ دیجیے۔ ان کی خلوت کو بلاوجہ متاثر مت کیجیے ۔اپنی حدوں میں رہتے ہوئے نصیحت کیجیے اگر نصیحت نافع ہو۔
(3) کسی حد تک بہو کے مزاج کے مطابق اسے آزادی دیجیے۔خواہ مخواہ کی تنقید کی بجائے صلاحیتوں اور خوبیوں کی قدر کیجیے۔الھڑپن پر گرفت نہ کیجیے۔سنبھلنے کا موقع دیجیے۔
(4) میکے آنے جانے پر روک ٹوک اور میکے کے رشتہ داروں کی برائ نہ کیجیے ۔ میکے سے ملے تحفوں میں نقص نہ نکالیے۔
(5) بیٹے کی شادی کے بعد اس کے دو قطبین میں بٹے ہوئے پیار، ارمان، شوق، دلچسپی، جھکاؤ پرگرفت کی بجائے اسے تسلیم Accept کیجیے۔ جہاں ضروری ہو صَرف نظر اور احسن طریقے سے عمومی انداز میں اصلاح کیجیے۔

کوئل نے آکے کوک سنائی بسنت رت

(6)اپنی بچت، پراپرٹی، مکان ،زیورات کے اختیار اپنے پاس رکھیے۔جذبات کی شدّت میں آکر اپنے حق سے دست بردار نہ
ہو جائییے ۔اپنےپُرانے چھوٹےمکان کو بیچ کر نئے بڑے مکان کی خریداری بیٹے بہو کے نام پر ہرگزنہ کیجیے۔
پیارے بیٹے!
تم اور تمہارا مال سب تمہارے باپ کا ہے۔ان کے رخصت ہونے کے بعد ان کے مال اور نام کے تم وارث ہو۔

پیاری بہو!
نکاح کے بعد سسرال تمہارا گھر اور ساس سسر کی حیثیت ماں باپ کی ہے ۔یہ رشتہ شوہر کی وجہ سے تمہیں ملا ہے ۔اس رشتہ کی قدر کرو، اپنے آپ کو تھوڑا Adjust کرو، یہاں کے اطوار سیکھو، اپنے والدین کی تربیت اپنی تعلیم اور اخلاق حسنہ ،خدمت سے سب کا دل جیتو ۔یہی خاندان کو جوڑے رکھنے کا علاج Family Therapyہے۔یہ تمیزدارAccomplish لڑکیوں کی خوبی ہے۔اگر ایساہےتو سب تمہارا ہے۔ ۔

اگر تمہارے اندر سچی خواہش پیدا ہوجائے تو سنورنے، دل جیتنے اوراصلاح کی ہزاروں تدبیریں سمجھ میں آنے لگیں گی۔

یہ روشنی افراء ہے انکھین کو لگاتی جا

(عبدالعظیم رحمانی کی زیر تصنیف کتاب پرورش Pearanring سے ایک مضمون)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے