سونار بنگلہ (قسط نمبر 7)

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک سفر

گزشتہ سے پیوستہ

ازقلم: آفتاب ندوی، دھنباد، جھارکھنڈ

مغرب سے پہلے ھوٹل واپسی ھوئی ، سات بجے شام سے ھوٹل ہی کے میزبان ھال میں یونیورسٹی کی جنرل کمیٹی کی میٹنگ تھی ، اس کمیٹی کے صدر حجاز کے شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز مصلح ہیں ، انہی کی صدارت میں میٹنگ منعقد ھوئی ، تلاوت اور شیخ کی تمہیدی گفتگو کے بعد ڈاکٹر ابو رضاء ندوی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ، جبکہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور مولی نے تعلیمی اور ڈاکٹر رشید احمد چودھری نے مالی رپورٹ پیش کی ، اسی نشست میں سید خلیل حسنی نے دانشگاھوں کیلئے حضرت مولانا علی میاں رح کا ایک اہم پیغام پڑھکر سنایا ، میٹنگ شیخ مصلح کی اختتامی گفتگو پر ختم ھوئی ، ،
اس ھال سے متصل ایک دوسرا بڑا ھال تھا ، اس میں میٹنگ کے ختم ھونے سے پھلے ہی
کھانا لگا دیا گیا تھا ، ، کھانے سے فارغ ھوکر سارے مہمان سونے کیلئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے،
30اکتوبر بروز اتوار ،،
اگرچہ آج کے پروگرام میں یونیورسٹی کا چاٹگام سیٹی آفس ، میڈیکل اور ڈینٹل کالج کا معائنہ شامل تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے معائنہ کا یہ پروگرام کینسل کردیا گیا ،‌
صبح ھوٹل سے براہ راست ہم لوگوں کو گولف کلب لے جایا گیا ، سلور جبلی کا اختتامی جلسہ یہیں ھونا تھا ، یہ مقام ھوٹل سے پچیس تیس کیلو میٹر دور تھا ، انتہائی پرفضا ، دلکش ، شاداب علاقہ میں آم کے باغات کے بیچ میں یہ کلب ھے ، قدرت کی کا ریگری اور اسکی فیاضیوں کے ساتھ انسانی ہاتھوں کی کاری گری بھی یہاں دیکھنے کو ملی ، برطانیہ سے تشریف لائے محترم ڈاکٹر اکرم صاحب کہنے لگے اہل ثروت اور امراء کے طرز زندگی ، انداز تعیش ، انکی مرغوبات وترجیحات پوری دنیا میں یکساں ہیں ، یہاں بھی چائے کافی اور ہلکے ناشتہ سے مہمانوں کی تواضع کی گئی ، یہاں لوگوں نے کچھ مشورے اور تجاویز پیش کیں ، بہت سے مہمانوں اور این جی اوز کے ذمہ داروں نے انتظامیہ کی طرف سے پیش کئے گئے تعلیمی و تعمیری منصوبوں کیلئے تعاون کی پیش کش کی ، اخیر میں اتفاق رائے سے تجاویز اور قراردادیں منظورکی گئیں ،، ظہرانہ کا انتظام یہیں تھا ، کلب میں آنیوالوں کیلئے کلب سے متصل ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ھے ، اسی میں مہمانوں نے ظہر اور عصر کی نماز اداکی ، سلور جبلی کا یہ آخری پروگرام تھا،،، اتنے بڑے پروگرام کا انعقاد او ر بحسن و خوبی اختتام آسان نہیں ، اتنے اتنے مہمانوں کا استقبال ، اور مختلف مقامات میں میٹنگوں کا انعقاد ، ھرجگہ وقت پر وی ائی پی مہمانوں کو لے جانا ، انکے کھانے پینے اور چائے پانی کا نظم کتنا مشکل ھے اس بات کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس سے چھوٹا بھی کبھی کوئی پروگرام کرایا ھو ، جس آدمی کے ذمہ جو کام تھا پوری ذمہ داری سے انجام دے رھا تھا ، خصوصا ڈاکٹر امین ندوی ، ڈاکٹر نجم الحق ندوی ، ڈاکٹر مظفر ندوی ، ڈاکٹر عطاء الرحمان ندوی اور بہت سے وہ حضرات جنکے نام سے ھم واقف نہیں ہیں ، شروع سے اخیرتک مستعدی سے یہ سارے حضرات اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے رھے ، کبھی ایسا ھوتا ھے کہ ذمہ دار اعلی توخوب محنتی اور نشیط ھوتا ھے لیکن دوسرے لو گوں کی طرف سے سپوٹ نہیں ملتا ھے ، یہ بھی حقیقت ھے کہ ذمہ دار اعلی کی اسپرٹ سے عملہ کچھ نہ کچھ ضرور متأثر ھوتا ھے ، ، وہ ذمہ دار بہت خوش نصیب ھے جس کے رفقاء اور ماتحت والوں میں بھی وہی مقصدیت ، وہی فکر مندی اور وہی روح ہو جو ذمہ دار کو متحرک اور مضطرب رکھتی ھے ، ڈاکٹر ابو رضاء ندوی اس اعتبار سے بھی خوش قسمت اور قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں ںے اچھے رفقاء کا انتخاب کیا ، ، یہی وجہ ھیکہ سلور جبلی میں ٹیم ورک بھی قابل تحسین نظر آیا ، تمام رفقاء میں پوری ھم آہنگی دیکھنے کو ملی ، کسی بھی بڑے کام کی انجام دہی کیلئے یہ اولین شرط ھے ، تمام لوگوں میں اپنی یونیورسٹی کو نیک نام ا ور ھر اعتبار سے اسے آگے لے جانے کا جذبہ کارفرما دیکھا ، اللہ انکی کوششوں کو قبول اور کامیابی سے ہمکنار کرے,,
ڈاکٹر ابو رضاء ندوی ذہین ، محنتی ، پختہ صلاحیت واستعداد کے مالک ایک ممتاز عالم دین ہیں ، انکی بعض علمی تصنیفات نے اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ،علامہ فضل اللہ فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر ہیں ، یہ فاؤنڈیشن ایک مثالی این جی او۔ ھے ، اسکے ذریعہ پورے بنگلہ دیش میں اربوں ٹکا کے کام ھوئے ،اور یہ سلسہ جاری ھے ، چاٹگام سے دو مرتبہ ایم پی چنے گئے ، انکی کارکردگی ، ایما نداری اور انکی خدمات اور ملت کی تعلیم وتربیت کیلئے انکی فکر مندی کو دیکھتے ھوئے 2021میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ٹرسٹ کے چیئرمین متعین کئے گئے ، انکے چارج لینے کے بعد یونیورسٹی کو ھر طرح کی ترقی کے جیسے پنکھ لگ گئے ، چند دنوں میں یونیورسٹی نے جس طرح ظاھری و تعلیمی ترقی کی ھے اسکی نظیر بر صغیر کی عام مسلمانوں کے تعاون سے چلنے والی یونیورسٹیوں کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی ، دعاء ھے کہ اللہ مزید ترقیوں سے نوازے اور ھر طرح کے شرور وفتن سے حفاظت کرے،

مغرب سے پہلے ھوٹل واپسی ھوئی ، سات بجے شام سے ھوٹل ہی کے میزبان ھال میں یونیورسٹی کی جنرل کمیٹی کی میٹنگ تھی ، اس کمیٹی کے صدر حجاز کے شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز مصلح ہیں ، انہی کی صدارت میں میٹنگ منعقد ھوئی ، تلاوت اور شیخ کی تمہیدی گفتگو کے بعد ڈاکٹر ابو رضاء ندوی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ، جبکہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور مولی نے تعلیمی اور ڈاکٹر رشید احمد چودھری نے مالی رپورٹ پیش کی ، اسی نشست میں سید خلیل حسنی نے دنشگاھوں کیلئے حضرت مولانا علی میاں رح کا ایک اہم پیغام پڑھکر سنایا ، میٹنگ شیخ مصلح کی اختتامی گفتگو پر ختم ھوئی ، ،
اس ھال سے متصل ایک دوسرا بڑا ھال تھا ، اس میں میٹںگ کے ختم ھونے سے پھلے ہی
کھانا لگا دیا گیا تھا ، ، کھانے سے فارغ ھوکر سارے مہمان سونے کیلئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ،،،
30اکتوبر بروز اتوار ،،،
اگرچہ آج کے پروگرام میں یونیورسٹی کا چاٹگام سیٹی آفس ، میڈیکل اور ڈینٹل کالج کا معائنہ شامل تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے معائنہ کا یہ پروگرام کینسل کردیا گیا ،‌
صبح ھوٹل سے براہ راست ہم لوگوں کو گولف کلب لے جایا گیا ، سلور جبلی کا اختتامی جلسہ یہیں ھونا تھا ، یہ مقام ھوٹل سے پچیس تیس کیلو میٹر دور تھا ، انتہائی پرفضا ، دلکش ، شاداب علاقہ میں آم کے باغات کے بیچ میں یہ کلب ھے ، قدرت کی کا ریگری اور اسکی فیاضیوں کے ساتھ انسانی ھاتھوں کی کاری گری بھی یہاں دیکھنے کو ملی ، برطانیہ سے تشریف لائے محترم ڈاکٹر اکرم صاحب کہنے لگے اہل ثروت اور امراء کے طرز زندگی ، انداز تعیش ، انکی مرغوبات وترجیحات پوری دنیا میں یکساں ہیں ، یہاں بھی چائے کافی اور ہلکے ناشتہ سے مہمانوں کی تواضع کی گئی ، یہاں لوگوں نے کچھ مشورے اور تجاویز پیش کیں ، بہت سے مہمانوں اور این جی اوز کے ذمہ داروں نے انتظامیہ کی طرف سے پیش کئے گئے تعلیمی و تعمیری منصوبوں کیلئے تعاون کی پیش کش کی ، اخیر میں اتفاق رائے سے تجاویز اور قراردادیں منظورکی گئیں ،، ظہرانہ کا انتظام یہیں تھا ، کلب میں آنیوالوں کیلئے کلب سے متصل ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ھے ، اسی میں مہمانوں نے ظہر اور عصر کی نماز اداکی ، سلور جبلی کا یہ آخری پروگرام تھا،،، اتنے بڑے پروگرام کا انعقاد او ر بحسن و خوبی اختتام آسان نہیں ، اتنے اتنے مہمانوں کا استقبال ، اور مختلف مقامات میں میٹنگوں کا انعقاد ، ھرجگہ وقت پر وی ائی پی مہمانوں کو لے جانا ، انکے کھانے پینے اور چائے پانی کا نظم کتنا مشکل ھے اس بات کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس سے چھوٹا بھی کبھی کوئی پروگرام کرایا ھو ، جس آدمی کے ذمہ جو کام تھا پوری ذمہ داری سے انجام دے رھا تھا ، خصوصا ڈاکٹر امین ندوی ، ڈاکٹر نجم الحق ندوی ، ڈاکٹر مظفر ندوی ، ڈاکٹر عطاء الرحمان ندوی اور بہت سے وہ حضرات جنکے نام سے ھم واقف نہیں ہیں ، شروع سے اخیرتک مستعدی سے یہ یہ سارے حضرات اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے رھے ، کبھی ایسا ھوتا ھے کہ ذمہ دار اعلی توخوب محنتی اور نشیط ھوتا ھے لیکن دوسرے لو گوں کی طرف سے سپوٹ نہیں ملتا ھے ، یہ بھی حقیقت ھے کہ ذمہ دار اعلی کی اسپرٹ سے عملہ کچھ نہ کچھ ضرور متأثر ھوتا ھے ، ، وہ ذمہ دار بہت خوش نصیب ھے جس کے رفقاء اور ماتحت والوں میں بھی وہی مقصدیت ، وہی فکر مندی اور وہی روح ہو جو ذمہ دار کو متحرک اور مضطرب رکھتی ھے ، ڈاکٹر ابو رضاء ندوی اس اعتبار سے بھی خوش قسمت اور قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں ںے اچھے رفقاء کا انتخاب کیا ، ، یہی وجہ ھیکہ سلور جبلی میں ٹیم ورک بھی قابل تحسین نظر آیا ، تمام رفقاء میں پوری ھم آہنگی دیکھنے کو ملی ، کسی بھی بڑے کام کی انجام دہی کیلئے یہ اولین شرط ھے ، تمام لوگوں میں اپنی یونیورسٹی کو نیک نام ا ور ھر اعتبار سے اسے آگے لے جانے کا جذبہ کارفرما دیکھا ، اللہ انکی کوششوں کو قبول اور کامیابی سے ہمکنار کرے,,
ڈاکٹر ابو رضاء ندوی ذہین ، محنتی ، پختہ صلاحیت واستعداد کے مالک ایک ممتاز عالم دین ہیں ، انکی بعض علمی تصنیفات نے اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ،علامہ فضل اللہ فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر ہیں ، یہ فاؤنڈیشن ایک مثالی این جی او۔ ھے ، اسکے ذریعہ پورے بنگلہ دیش میں اربوں ٹکا کے کام ھوئے ،اور یہ سلسہ جاری ھے ، چاٹگام سے دو مرتبہ ایم پی چنے گئے ، انکی کارکردگی ، ایما نداری اور انکی خدمات آور ملت کی تعلیم وتربیت کیلئے انکی فکر مندی کو دیکھتے ھوئے 2021میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ٹرسٹ کے چیئرمین متعین کئے گئے ، انکے چارج لینے کے بعد یونیورسٹی کو ھر طرح کی ترقی کے جیسے پنکھ لگ گئے ، چند دنوں میں یونیورسٹی نے جس طرح ظاھری و تعلمی ترقی کی ھے اسکی نظیر بر صغیر کی عام مسلمانوں کے تعاون سے چلنے والی یونیورسٹیوں کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی ، دعاء ھے کہ اللہ مزید ترقیوں سے نوازے اور ھر طرح کے شرور وفتن سے حفاظت کرے

جاری ۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے