"تُم ہی غالب رہوگے اگر تُم مومن ہو” کے عنوان پر خطاب عام

  • اللہ تعالیٰ جنّت کا حقدار اُن ہی کو بنائے گا جو اُس کی راہ میں ہر حال میں استقامت اور پامردی دکھائیں گے : ڈاکٹر سلیم خان (معاون امیرِ حلقہ، جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرا)
  • جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر نے کیا وائے ایم سی اے جھولا میدان پر جلسہ عام – مختلف علماء و دانشوران نے مختلف واقعات پر کیا اظہارِ خیال

4، دسمبر 2022

آج اُمتِ مسلمہ انتہائی سخت حالات سے گزر رہی ہے۔ سماج کی تعمیر کے تئیں اپنی ذمے داریوں سے غافل بھی نظر آتی ہے اور کہیں نہ کہیں باطل نظریہ سے مرعوب ہو کر دل شکستگی کی کیفیت سے بھی دوچار ہے۔ایسے میں مناسب حکمتِ عملی کا تدارک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ لہٰذا مُلک کی موجودہ صورتحال اور ہمارے رول کی انجام دہی کے ضمن میں جماعت اسلامی ہند ممبئی کی جانب سے ایک خطاب عام بعنوان "تُم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو” منعقد کیا گیا ۔ یہ خطاب عام بتاریخ 4 دسمبر بعد نمازِ مغرب تا 9 بجے تک بمقام ymca گراؤنڈ جھولا میدان میں منعقد کیا گیا ۔
آغاز حافظ ہاشمی عمران کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ پھر شیخ انور نے حمد پیش کی۔ ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے عبد الحسیب بھاٹکر (ناظم شہر جماعت اسلامی ہند ممبئی) نے خطاب کے اغراض ومقاصد کو واضح کیا اور کہا کہ اللہ کہ دین اس دنیا پر غالب ہونے کے لئے آیا ہے ایسے میں میری اور آپ کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس کے دین کی سربلندی کے لئے کلیدی رول انجام دیں ۔اپنے کردار اور عمل سے لوگوں کے سامنے خیر اور بھلائی کا شیوہ اختیار کریں۔ اُسوا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو رہتی دنیا تک ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اُس کو اپنانے کی کوشش میں لگے رہیں۔ اگلی تقریر مولانا عبد الجلیل انصاری (سیکریٹری صوبائی جمعیت اہل حدیث) نے کی جس میں انہوں نے باہمی اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر توجہ مبذول کروائی۔ مسلمانوں کی زبوں حالی اور اس کے سد باب پر بھی مفصل بات کی۔ "مسلم معاشرے کی تعمیر میں ہمارا کردار” اس موضوع پر مولانا امیرِ عالم قاسمی(اِمام، مسجد عرب) نے گفتگو کی جس میں انہوں نے ہمارے اسلاف کے کردار اور صفات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا احتساب لینے پر خصوصی زور دیا۔ ہماری زبوں حالی اور پسپائی کا سبب بھی یہی ہے کہ ہم نے نبی اور صحابہ کی تعلیمات کو فراموش کر دیا ہے۔ اگلی گفتگو ڈاکٹر مولانا محمود خان دریابادی (جنرل سیکریٹری، علماء کونسل) نے "برادرانِ وطن کے ساتھ ہمارے تعلقات کیوں اور کیسے؟” پر کی۔ دعوتِ دین کی اہمیت کو واضح کیا اور کہا کہ یہ ہماری بنیادی ذمے داریوں میں سے ہے۔ دعوت دین کے حوالے سے اسلامی عقیدے کے تین اصول (انسانی برادری و تکریم اِنسانیت، وطنیت کا احترام، اپنی شناخت و شعار کا قیام) پر روشنی ڈالی ۔اس حوالے سے آپس میں ہونے والی چند غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کیا۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی (جنرل سیکریٹری جمعیت العلماء مہاراشٹرا) نے "موجودہ صورتحال اور علماء وائمہ کی زمہ داری” کے تحت ملکی و عالمی صورتحال کا جائزہ لیا اور ذمے داری کے حوالے سے کہا کہ آج ہمیں وہی ذمے داری ادا کرنی ہے جو انبیاء اکرام نے انجام دی تھی۔جس حوصلے،جذبے،ہمت، استقامت اور جدوجہد سے وہ کھڑے رہے آج ائمہ اکرام کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ حق کی تلقین ہر حال میں کرتے رہیں۔مزید کہا کہ خدارا مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر اُمت کو رسوا نہ کریں۔
صدارتی خطبہ "تُم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو” پر ڈاکٹر سلیم خان (معاون امیرِ حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرا) نے قرآن کریم کی آیتوں اور اُسوہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی گفتگو پیش کی ۔ آزمائشی حالات اور اُن حالات میں استقامت اللّٰہ کے تقرب کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت اور اس کے اسلوب پر بات کی۔بدر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح سخت اور سنگین حالات میں اقلیت کے باوجود اللّٰہ کے رسول نے اپنے ساتھیوں کو نفسیاتی و جسمانی اعتبار سے ہمّت اور حوصلہ دیا تھا جس سے اُن کا ایمان اور مضبوط ہوگیا تھا ایسا ہی حوصلہ، عزم اور ہمّت ہمیں اُمتِ مسلمہ کو دینا ہوگا تاکہ وہ ڈر ،خوف اور مرعوبیت کی نفسیات سے باہر آ سکیں۔ نظامت کے فرائض محفوظ احمد (امیرِ مقامی ملت نگر) نے انجام دیے۔ خطاب عام میں تقریباً 1600 افراد نے شرکت کی۔مولانا محمود دریابادی کی دعا پر خطاب عام کا اختتام ہوا۔

جماعت اسلامی ہند
ممبئی شہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے