بابری مسجد کی یاد میں

اک روز مرے خواب کی تعبیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

حق کو نہ دبا پائے تھے کل قیصر و کسریٰ
حق آج بھی غالب ہے، یہ غالب ہی رہے گا
مٹ جائیں گے جو بابری مسجد کے ہیں اعدا
اک روز مسلمانوں کی تنصیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

کس کو نہیں معلوم کہ وہ گھر تھا خدا کا
وہ خانۂ معبود تھا وہ در تھا خدا کا
جو شخص وہاں جاتا تھا نوکر تھا خدا کا
ظالم! ترے ہر ظلم کی تعزیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

تاریخ بتاتی ہے کہ ظالم کو فنا ہے
آباد وہی شخص ہے جو رب کا بنا ہے
سب خاک میں مل جائے گی جو تیری انا ہے
اس ارضِ خدا داد کی تطہیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

اس ملک کی پہچان تھی وہ بابری مسجد
اور جانِ مسلمان تھی وہ بابری مسجد
توقیر ِ ثنا خوان تھی وہ بابری مسجد
اُس شہر ستم کار کی تسخیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

پھر بند نظر آئیں گی شیطاں کی دکانیں
کچھ بول نہیں پائیں گی کل ان کی زبانیں
گونجیں گی وہیں بابری مسجد کی اذانیں
تاریک گلستان میں تنویر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

اُس خانۂ رب کے لیے کتنوں کی گئی جاں
اک روز تو رنگ لائے گا یہ خونِ شہیداں
اللہ کے گھر کا تو ہے اللہ نگہباں
اظہرؔ ترے اشعار کی تفسیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

از: آفتاب اظہرؔ صدیقی
کشن گنج، بہار
6/ دسمبر 2022ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے