سونار بنگلہ (قسط نمبر 9)

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک سفر

گزشتہ سے پیوستہ

ازقلم: آفتاب ندوی دھنباد، جھارکھنڈ

آج اسلامی یونیورسٹی میں لندن سے تشریف لائے ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی کے دو لیکچر تھے ،یہ دونوں لیکچر حدیث سے متعلق تھے ،ایک کا عنوان تھا حدیت کے نقد وجرح میں محدثین کا منہج جبکہ دوسرا لیکچر حدیث نبوی بحیثیت ماخذ قانون اسلامی کے موضو ع پر تھا ، طلبہ اور طالبات نے بڑی دلچسپی سے دونوں لیکچر سنے ،سامعین کی طرف سے کثرت سے سوالات آئے ،
یونیورسٹی سے سیدھے ھم لوگوں کو جامعہ اسلامیہ پٹیہ جانا تھا ، وھاں مغرب بعد ھم لوگوں کیلئے استقبالیہ پروگرام رکھا گیا تھا ،‌ یونیورسٹی سے پٹیہ تقریبا پچاس کیلو میٹر ھے ، ڈاکٹر ابو رضاء ندوی ، مولانا عبید الرحمان نسیم خاں ندوی ، ڈاکٹر نجم الحق ندوی اور مولانا عبید القادر ندوی کے ساتھ ھم لوگ ( ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفوڑڈ لندن ، مولانا سید خلیل حسنی لکھنؤ اور راقم ) مغرب بعد پٹیہ پہنچے ، مدرسہ کے جواں سال مہتمم مولانا عبیداللہ حمزہ صاحب اور متعدد اساتذہ نے استقبال کیا ، آفس میں چائے پی گئ ، اس دوران متعدد اساتذہ سے ملاقات ھوئی ، جامعہ کے بزرگ شیخ الحدیث مفتی احمد اللہ صاحب دامت برکاتہم بھی تشریف لے آئے ، ڈاکٹر اکرم صاحب جہاں بھی جاتے ہیں حدیث سے تعلق رکھنے والے علماء کی تلاش میں رہتے ہیں ، معلوم ھواکہ شیخ الحدیث صاحب قبلہ ایک واسطہ سے شیخ الہند کے شاگرد ہیں ، اسی طرح مولانا ادریس صاحب کاندھلوی سے بھی انہوں نے حدیث پڑھی ھے ، ڈاکٹر صاحب نے بخاری شریف کی پہلی حدیث پڑ ھکر سنائی ، موصوف نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ھم لوگوں کو بھی اپنی سند سے حدیث روایت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ، اللہ شیخ کی عمر وصحت میں برکت اور ھم لوگوں کو حدیث پر عمل کرنے اور اسکی نشرو اشاعت کی توفیق عطاء فرمائے ،
درجۂ علیا کے طلبۂ حدیث نے صدر شعبہ کے ذریعہ ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی سے اجازت طلب کی تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں اجازت عطاء کی ،
خدا طلبی کاذوق ، حصول علم دین کا شوق ،‌ مذھب سے وابستگی کا جذبہ ، زندگی کے ھر شعبہ میں دین کو غالب رکھنے کی آرزو ، اصلاح نفس وتزکیۂ قلب کیلئے کسی اللہ والے سے باقاعدہ ربط وتعلق بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا عمومی مزاج ھے ،‌یہی وجہ ہیکہ یہاں عام مسلمانوں کے تعاون سے چلنے والے مدارس دینیہ بڑی تعداد میں ہیں ، خانقاہیں بھی کثرت سے ہیں ، اگرچہ اکثریت اب ،،رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رھی ،، کے مصداق ہیں ، بلکہ ھندوستان ہی کی طرح بہت سی خانقاہیں بدعات وخرافات کے اڈے اور مال وزر جمع کرنے کا ذریعہ بنے ھوئے ہیں ، وہ مدرسے بھی کم نہیں ہیں جنہیں حکومت کا مالی تعاون حاصل ھے ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے