حامد اللہ افسر بچوں کے ایک ممتاز شاعر

از قلم : مجاہد عالم ندوی
استاد : ٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ
رابطہ نمبر : 8429816993

سر زمین میرٹھ کو کئی اعتبار سے اور کئی معاملوں میں سبقت حاصل ہے خواہ وہ جدو جہد آزادی کے آغاز کا دور ہو، علمائے دین کی تصنیفات کا ذکر ہو یا پھر شعرا و ادبا کی فہرست۔

اس وقت ان ادبا و شعرا کا ذکر خیر موضوع بحث ہے جنھوں نے گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ کلچر کی علمبردار زبان اردو کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اردو زبان و ادب کی عمومی خدمت کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر تعلیمی نصابات اور ادبِ اطفال کی طرف پوری توجہ دی۔ ان اکابرینِ زبان اور اساتذہ میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی اور حامد اللّٰہ افسر کا نام بطور خاص لیا جانا چاہیے ۔

افسر میرٹھی 29 نومبر 1895 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔اصل نام حامد اللّٰہ تھا ، ان کے والد کا نام مفتی محمد عصمت اللّٰہ جو خاندانی روایات اور انوارِ علم و فضل سے آراستہ تھے ۔ چنانچہ انھوں نے اپنے بیٹے افسر کو خود ہی فارسی اور اردو کی تعلیم دی۔ مفتی عصمت اللّٰہ صاحب نے اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت بچوں کی نفسیات کے عین مطابق کیا ۔

مدرسہ عالیہ میرٹھ سے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول میرٹھ میں داخل ہوئے پھر ہائی اسکول سے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے منازل طے کرنے کے بعد انھوں نے میرٹھ کالج سے بی۔ اے کیا ۔

مزید اعلیٰ تعلیم کی غرض سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا پھر بیماری کی وجہ سے علی گڑھ سے میرٹھ واپس آئے ۔ والد کی سفارشی محنت کی وجہ سے حامد اللّٰہ نائب تحصیلدار نامزد کیے گئے تھے ۔ لیکن حامد اللّٰہ نے تعلیم کو سرکاری ملازمت پر ترجیح دی ۔ چالیس روپے مشاہرہ پر انگریز افسر نِکسَن کو اردو فارسی پڑھایا پھر ان سے انگریزی پڑھنے کی وجہ سے دونوں کا علمی تبادلہ ہوا ۔
حامد اللّٰہ نے نِکسن کو فارسی زبان و ادب میں اس قدر ماہر کیا کہ ہندوستان سے واپس جانے پر فارسی کے استاد مقرر ہوئے ، یہی نہیں انہوں نے حامد اللّٰہ افسر کی کئی نظموں کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ۔

متعدد بار والد اور کئی بہی خواہوں نے ان کی سرکاری ملازمت کے لیے کامیاب کوششیں کیں ، لیکن حامد اللّٰہ کی ایک ہی ضد تھی کہ وہ یا تو نشر و اشاعت کا کام کریں گے یا پھر درس وتدریس کا۔چنانچہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کی یہ خواہش پوری کی’گورنمنٹ جبلی کالج‘ لکھنؤ میں بحیثیت اردو استاد مقرر ہوگئے اور پھر بعد میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے ۔

انھوں نے درس وتدریس کے فرائض کو اس ایمانداری سے انجام دیا کہ نور الحسن ہاشمی ، عبادت بریلوی ، حیات اللّٰہ انصاری ، علی جواد زیدی اور ولی الحق انصاری جیسے نامور ادبا و شعراء پیدا کیے ۔ انہی میں سے ایک شاگرد ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی نے افسر صاحب کی شخصیت اور فن سے متعلق ایک کتاب ’بچوں کے افسر‘ نام سے تصنیف کی ۔

حامد اللّٰہ افسر نے اردو زبان و ادب کی ہر نقطئہ نظر سے آبیاری کی ، تنقیدی نقطئہ نظر سے ان کی تین کتابیں بہت معروف ہیں جن میں اردو زبان کے شعر و ادب کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا اور اردو زبان و ادب کو مغربی اور مشرقی دونوں طرز فکر سے پرکھنے کی کوشش کی گئی ۔

تنقید پر ان کی پہلی کتاب ’نقد الادب‘ کے نام سے جب کہ دوسری کتاب ’نورس ‘ کے نام سے شائع ہوئی ۔ افسر صاحب کی تنقیدی بصیرت کا پوری طرح احاطہ ان کی تیسری تنقیدی تصنیف ’تنقیدی اصول و نظریے‘ کرتی ہے جس میں انھوں نے تنقید کے تمام تاریخی اور تدریجی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اس کے اصول و نظریات پر کھل کر بحث کی ہے ۔ بارہ ابواب میں منقسم یہ کتاب ادب اور فنون لطیفہ ، تنقید یونان قدیم میں ، تنقید ہند قدیم میں ، تنقید زمانہ ما بعد میں ، شاعری ، بت تراشی اور مصوری ، جمالیات اور فنون لطیفہ ، اصول تنقید کی تشکیل ، تنقید کا مقصد اور عمل ، ادب کا مطالعہ ، اردو کے چند اصناف سخن پر ایک نظر اور نیا ادب جیسے عنوانات کے تحت کھل کر بحث کی گئی ہے۔

حامد اللّٰہ افسر صاحب نے اردو زبان و ادب کی تقریباً ہر صنف میں کامیاب طبع آزمائی کی لیکن وہ بچوں کے ادب کے لیے زیادہ جانے جاتے ہیں ۔ ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے مثلاً ’ڈالی کا جوگ‘ اور افسانوی مجموعہ کے ساتھ ’پرچھائیاں‘ ان کا آخری افسانوی مجموعہ شائع ہوا ۔

حامد اللّٰہ صاحب کے ڈراموں کا مجموعہ ’ہفت منظر‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ افسر صاحب کے کئی شعری مجموعے بھی یکے بعد دیگرے شائع ہوتے رہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’پیام روح‘ کے نام سے شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ ’جوئے رواں‘ کے نام سے شائع ہوا ۔

حامد اللّٰہ افسر میرٹھی نے بنیادی طور نئی نسل خصوصاً بچوں کی درسیات کے لیے موضوعاتی نفسیاتی اور ضروریات کو پوری کرنے کے لیے ایسی نظمیں لکھیں جن کا تعلق بچوں کی ذہنی ہم آہنگی، اخلاقیات اور معاشرتی اقدار پر مبنی ہیں ۔ ان کی ایک نظم ’خضر کا کام کروں‘ کے نام سے ہے ۔ یہ نظم بھلائی تیمارداری ، اخوت و ہمدردی اور نیکی جیسے اقدار کے فروغ کے لیے واقعی نمونہ ہے ۔ اس کے چند بند ملاحظہ کریں ؎

درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤں

کوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤں

روشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیں

میں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤں

جب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئی

خضر کا کام کروں راہنما بن جاؤں

ان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤں

خدمت خلق کا ہر سمت میں چرچا کر دوں

مادر ہند کو جنت کا نمونہ کر دوں

گھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدا بن جاؤں

ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ دانشوروں ، فن کاروں ، ادیبوں اور شاعروں کے آخری ایام اکثر و بیشتر کسمپرسی میں گزرتے ہیں ، حامد اللّٰہ افسر میرٹھی بھی انہیں میں سے ایک تھے ، انہوں نے بھی مناسب اسباب معیشت نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آخر ایام بہت ہی مشکل سے گزارے ، انہیں تپ دق لاحق ہو گیا ، لکھنؤ میڈیکل کالج میں داخل کرائے گئے ، لیکن مرض معالجے کی حد سے آگے نکل گیا اور مریض اس دار فانی سے چلا گیا ، 1974 کو افسر میرٹھی کا انتقال ہو گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے