مظفر حنفی: شخصیت اور فکر و فن

  • کتاب کا نام:- مظفر حنفی: شخصیت اور فکر و فن۔
  • مصنف کا نام:- جاوید اختر
  • ضخامت:- 199 صفحات
  • قیمت:- 300 روپے
  • ناشر:- ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی
  • مبصر – محمد انعام برنی

اردو زبان و ادب کی ہمیشہ سے یہ خوش بختی رہی ہے کہ اسے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے اپنے فن میں یگانہ روزگار شخصیات میسر آتی رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت جس کا اس مضمون میں ذکرِ خیر کرنا مقصود ہے وہ ہیں مرحوم پروفیسر مظفر حنفی ۔ آپ کی وسیع ترین علمی و ادبی خدمات کا غائر مطالعہ کرنے کے بعد گر آپ کو ایک شخصیت کہہ کر دامن بچا لیا جائے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہ ہوگا۔ آپ کی شخصیت مختلف الجہات اوصاف سے متصف ہونے کی مالک ہے ، کیونکہ آپ بیک وقت ایک معلم، مدیر، شاعر، ادیب، مرتب، محقق، نقاد اور افسانہ نگار جیسی ادبی اصناف کے سر خیل جو ہیں۔

زیرِ مطالعہ کتاب بعنوان مظفر حنفی شخصیت اور فکر و فن جناب ڈاکٹر جاوید اختر صاحب کی ادب کے تئیں بے لوث محبتوں کا نذرانہ ہے۔ یہ کتاب اپنی ضخامت کے اعتبار سے 199 صفحات کو محیط ہے۔ جسے صاحب کتاب نے اپنی آسانی اور قارئین کے لیے پر لطف بنانے کے لیے سات ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ وہیں تمام ابواب میں بہت سارے ضمنی ابواب کا اہتمام بھی بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے جن کا ہم باری باری اگلے صفحات میں مختصراً ذکر کرنے والے ہیں۔ مگر اس سے پہلے کچھ باتیں خالقِ کتاب کے حوالے سے کرنا ضروری ہیں کیونکہ متعلقہ کتاب کے علاوہ ان کی دیگر کتب اور خدمات کا اعتراف نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

جاوید اختر صاحب کا شمار عہد حاضر کے ان چند نوجوان اسکالرس میں ہوتا ہے جو تدریسی مصروفیات کے باوجود ادب کے ایسے چنندہ موضوعات پر کام کرنا اپنا اولین فرض گردانتے ہیں جس کی طرف بیشتر ادیب اور قلم کار بغیر توجہ دیے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی 2015 میں آپ کا ادبی مضامین پر مشتمل ایک مجموعہ بعنوان تحقیقی و تنقیدی مضامین کے نام سے منصہ شہود پر آ کر ادبی حلقوں میں خوب خوب داد و تحسین پا چکا ہے اور یہ سلسلہ روز دراز ہوتا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل قریب اور بعید میں مزید اس طرح سے اور ادبی کام منظر عام پر آئیں جو اردو زبان کے لیے فال نیک ثابت ہوں۔ جبکہ میری اپنی ذاتی رائے بھی یہ ہے کہ جن لوگوں نے اردو زبان و ادب کے لیے اپنی زندگی کا نصف حصہ یا نصف سے زیادہ حصہ وقف کر دیا ہو ان لوگوں پر تحقیقی کام سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ مگر ہو کیا رہا ہے یا تو ایک ہی ادیب اور شاعر پر بار بار کام ہو رہا ہے یا پھر جامعات میں جو حضرات ظلی الہی بنے ہوئے ہیں ان کے اپنے لوگوں پر تحقیقی مقالات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔ جو کہ اس طرح کی روایت حق گوئی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔

کتاب کی ابتدا میں جاوید صاحب کا مختصر اور جامع انداز میں تحریر کیا گیا پیش لفظ ہے جس میں موصوف نے جہاں کتاب کی ابواب بندی کے حوالے سے سرسری گفتگو کی ہے وہیں اس کتاب کی تکمیل میں جن حضرات کی کسی بھی طرح سے معاونت رہی ان تمام کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ جو ایک مستحسن روایت ہے۔

باب اول کو شخصیت اور فکر و فن کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جس کے تحت دو ضمنی ابواب شامل کتاب ہیں۔ پہلا توقیت نامہ کے نام سے جیسا کہ آپ تمام کو معلوم ہے کہ توقیت کے لغوی معنی ہوتے ہیں (تعین وقت یا وقت کا مقرر کرنا) اس میں مظفر حنفی کی پیدائش یکم اپریل 1936 سے لے کر 1999 ء تک کا حساب ضبط تحریر لایا گیا ہے جو کچھ بھی اس اثناء میں ہوا اس میں آپ کی تعلیم، آپ کا ازدواجی زندگی سے منسلک ہونا، اولاد کی پیدائش، ملازمت میں آنا، ملازمت کے لیے ادھر سے ادھر منتقل ہونا تلاش معاش کے سلسلے میں الگ الگ جگہوں کا سفر کرنا ، ڈگری و انعامات کا ملنا اور ملازمت سے سبکدوش ہونا سب سن بہ سن صفحہ قرطاس پر اتارے گئے ہیں ۔ دوسرا کتابیں کے نام سے ہے اس میں مظفر حنفی کی ان تمام کتب کی فہرست سازی کی گئی ہے جن کا تعلق اصناف ادب کی الگ الگ صنفوں سے ہے جن میں خاص طور پر شاعری، تحقیق و تنقید، ترتیب و تدوین، بچوں کا ادب، تراجم اور انعامات و اعزازات سے نوازی گئی کتابوں کے نام قابل ذکر ہیں۔

باب دوم کو شعری تخلیقات کے عنوان سے معنون کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پانچ ضمنی ابواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلا غزلیں کے نام سے ہے اس میں جاوید صاحب نے ایک اور جہاں جدید غزل کے آغاز و ارتقاء کے حوالے سے گفت و شنید کی ہے وہیں دوسری اور مظفر حنفی کی غزلیہ شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ان کے معاصرین کے کلام سے بھی موصوف کے کلام کا تقابلی مطالعہ کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔بطورِ نمونہ کچھ اشعار پیش خدمت ہیں:-

(1) آج پھر مجھ سے کہا دریا نے
کیا ارادہ ہے بہا ، بہا لے جاؤں
(محمد علوی )
(2) تھپیڑے نے کہا بہہ چل شہابی
جزیرہ ہے ادھر کیا دیکھنا ہے
(مظفر حنفی)
(3) آسماں دل کا پڑا ہے خالی
زخمی یادوں کے کبوتر سے اڑاؤں
(مخمور سعیدی)
(4) اک خلاۓ بیکراں ہے اور بازو مارنا
درمیان ہے رات چھتری سے کبوتر دور ہے
(مظفر حنفی)

دوسرا نظمیں کے نام سے ہے اس میں صاحب کتاب نے مظفر حنفی کا نظمیہ شاعری کی طرف مائل ہونے سے لے کر اس کی اہم اہم نظموں کا مشاہیرِ ادب کے مستند حوالوں کے ساتھ بھر پور جائزہ لیا ہے جس سے مظفر حنفی کا فن ہم تمام قارئین کی آنکھوں کے سامنے رقص کرتا ہوا معلوم پڑتا ہے۔
تیسرا باب طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے عنوان سے قلم بند کیا ہے۔ اس میں موصوف نے مظفر حنفی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کا تنقیدی جائزہ لیا ہے جس سے یہ اندازا لگانا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ مرحوم مظفر حنفی طنزیہ و مزاحیہ ادب میں بھی اپنی ذات کا اپنے پیش رؤں اور ہم عصر شعراء کی طرح ہونے کا احساس نہ کرا رہے ہوں ۔ ملاحظہ فرمائیں چند اشعار:-
بڑی بہن ہم جولی کے خط میں ایک شعر
نہ کاغذ کی گرانی ہے نہ سیاہی بیش قیمت ہے
اسی صاف ظاہر ہے کہ ہم سے کم محبت ہے
چوتھا طنزیہ غزلیں کے لیے مختص کیا گیا ہے جس میں مظفر حنفی کی ان غزلوں کو مطمح نظر بنایا گیا ہے جو شوخی اور شرارت سے مملو ہیں اور یہ تمام غزلیں آپ کے دو شعری مجموعوں (تیکھی غزلیں اور صریر خامہ) میں شامل کتاب کی گئی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:-
(1) مجھے اداس دیکھ کر قریب آ گیا ہے وہ
فریب کھا گیا ہے وہ فریب کھا گیا ہے وہ
(2) اس کھردری غزل کو نہ یوں منہ بنا کے دیکھ
کس حال میں لکھی ہے مرے پاس آ کے دیکھ
اسی لیے تو ڈاکٹر فرمان فتحپوری تیکھی غزلیں شعری مجموعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں مظفر حنفی کی طنزیہ غزلوں کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں:-
"غزل کی شاعری سے شعوری طور پر طنز کے نشتروں کا کام لینے کا آغاز اردو میں مظفر حنفی کے اساتد شاد عارفی نے کیا تھا۔ مظفر حنفی نے ان نشتروں کو کچھ اور آبدار بنانے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں وہ ہر طرح کامیاب ہوئے ہیں-” (نگار مارچ اپریل 1969)

پانچواں بچوں کے لیے نظمیں کے نام سے ہے۔ جس میں جاوید صاحب نے مظفر حنفی کی ان چیدہ چیدہ نظموں کا ذکر کیا ہے جو بچوں کی عین نفسیات سے مناسبت رکھتی ہیں اور ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ان کا براہ راست مثبت اثر بھی دکھائی پڑتا نظر آتا ہے۔ یہاں پر سبھی کے بارے میں تفصیل سے بتانے کی تو گنجائش نہیں ہے مگر ان سب کے عناوین کا آپ تمام ادب دوست حضرات کے ساتھ اشتراک کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جیسے فٹ بال، گھی شکر، ناچ میرے بندر، چنوں ماموں، مداری کا بندر، مزدور کا نغمہ، برابری کا گیت، چار پھول، گیند کھو گئی نالی میں، شرارتیں اور بھولا رام گۓ بازار میں کے نام پیش پیش ہیں۔

باب سوم : نثری تخلیقات کے نام سے مختص کیا گیا ہے۔ جس کے تحت چار ضمنی ابواب ضبط تحریر لاۓ گئے ہیں، افسانے، بچوں کے لیے کہانیاں، مکتوب نگاری اور سفرنامہ ۔ مذکورہ بالا ضمنی ابواب کے حوالے سے جناب جاوید اختر صاحب نے جہاں مظفر حنفی کی افسانہ نگاری پر سیر حاصل گفتگو کی ہے وہیں دوسرے ، تیسرے اور چوتھے باب میں آپ نے موصوف کے قلم سے نکلی بچوں کے لیے کہانیوں خطوط اور سفرنامے کا بھی بھرپور تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ آپ نے جہاں اردو شعر و ادب کو تین افسانوی مجموعوں سے مالا مال فرمایا ہے وہیں چل چنبیلی باغ میں جیسا منفرد معلوماتی سفرنامہ دے کر نثری ادب میں اضافے کا کام کیا ہے۔

باب چہارم تحقیق و تنقید کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ضمنی ابواب سپردِ قلم کیے گئے ہیں جن میں تحقیق و تنقید، تبصرے اور پیش لفظ پیش پیش ہیں۔ تحقیق و تنقید والے باب میں مظفر حنفی کی نقد ریزے، شاد عارفی شخصیت اور فن، جہات و جستجو، مضامین تازہ، تنقیدی نگارشات اور لاگ لپیٹ کے بغیر جیسی کتابیات میں شامل مشمولات کی ادبی و علمی اہمیت کا تعین کرتے ہوئے حوالہ ذات کے ساتھ مدلل طریقے سے بیان کیا ہے۔ دوسرے باب یعنی تبصرے کے تحت صاحب کتاب نے مظفر حنفی کے ذریعے مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابیات پر کیے گئے تبصروں کو شامل کتاب کیا ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفی صاحب نے جتنے تبصرے شعری مجموعوں پر لکھے اتنے نثری کتب پر نہیں جس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آپ کی رغبت ہمیشہ شعری اصناف کی طرف زیادہ رہی۔ تیسرے میں پیش لفظ کو قرطاس قلم کیا گیا ہے آپ کی شخصیت طالب علمی کے زمانے ہی سے اردو زبان و ادب میں کبھی بھی محتاج تعارف نہیں رہی اسی لیے ہر لکھنے والے کی خواہش ہوتی کہ ہم اپنی کتاب کا پیش لفظ مظفر حنفی سے قلم بند کرائیں وجہ تاکہ ہمارا اور ہماری کتاب کا قد ادبی حلقوں میں کوہ ہمالیہ کی طرح بڑھ جائے۔ یہی وجہ تھی کہ جو لفظوں کا پیراہن، شیشے کی چٹان، آئینہ در آئینہ، دشت آرزو، زرد موسم کی ہوا، سمندر آشنا اور ثبات جیسے عناوین کے تحت لکھی گئیں کتب آپ کے پیش لفظ سے آراستہ و پیراستہ ہوئیں۔

باب پنجم شاد عارفی پر کتابیں کے نام موسوم کیا گیا ہے۔ اس حصے میں جاوید اختر صاحب نے مظفر حنفی کی ان چھ کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے جو انہوں نے شاد عارفی کے حوالے سے سپردِ قلم کی تھیں۔

باب ششم : مدیرانہ صلاحیت کے عنوان سے شامل کتاب کیا گیا ہے اس میں خالق کتاب نے مظفر حنفی کے دست مبارک سے جس نۓ چراغ نام کے رسالے کا اجراء سن 1959 میں کھنڈوہ ضلع مدھ پردیش سے اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کیا گیا تھا اس کا ذکر کیا ہے حالانکہ وہ رسالہ 17 شمارے نکالنے کے بعد سن 1960 ء میں ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا لیکن اردو ادب میں اس کی مسلم حیثیت سے کسی بھی ادب دوست شخص کو انکار نہیں۔ مختلف کتابیات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جتنی کم مدت میں ادبی حلقوں میں نۓ چراغ نامی رسالے کو مقبولیت حاصل ہوئی ایسا خال خال رسائل کے ساتھ ہی ہوا ہے وجہ مظفر حنفی صاحب کی نپی تلی آراؤں کا دخل۔

باب ہفتم : ترتیب و تدوین و تراجم کے نام سے مختص کیا گیا ہے۔ اس میں موصوف نے جہاں مظفر حنفی کے ذریعے ترتیب دی گئی کتب پر سیر حاصل علمی و ادبی گفتگو کی ہے وہیں مختلف زبانوں اور موضوعات پر لکھی گئیں کتابوں کے تراجم کے حوالے سے معلوماتی باتیں بھی کی ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ جاوید اختر صاحب نے جس عرق ریزی اور دل جمعی سے مظفر حنفی پر اس کتاب کو قلم بند کیا ہے وہ واقعی ایک عظیم کارنامہ ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ نو جوان قلم کار اور ریسرچ اسکالرس کو چاہیے کہ وہ متعلقہ کتاب کو مظفر حنفی کے حوالے سے اپنے مطالعہ کا محور و مرکز بنائیں۔ قوی امید ہے کہ یہ کتاب آپ کے لیے حنفی صاحب کے حوالے سے بہت کچھ گمان سے زیادہ عطا کر پاۓ۔ کتاب کی حصولیابی کے لیے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی آفس میں رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ: محمد انعام برنی
ریسرچ اسکالر: دہلی یونیورسٹی، دہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے