استاذ الاساتذہ مولانا محمد خالد بلگرامی کا انتقال، نماز جنازہ میں‌ہزاروں افراد نے کی شرکت

  • سوگوار ماحول میں ہوئی تدفین، علماء و معزز شخصیات نے کیا اظہار تعزیت

ہردوئی (یاسر قاسمی)
محسن الامت حضرت مولانا عبد الغنی جامعی رحمۃ اللہ علیہ کے برادر خورد، جامعہ انوارالعلوم بلگرام کے ناظم اور سینکڑوں علماء کے استاذ مولانا محمد خالد بلگرامی کے انتقال کی خبر ملتے ہی دینی و علمی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی، آج بعد ظہر نماز جنازہ کے بعد غمگین ماحول میں تدفین عمل میں آئی، نماز جنازہ میں سیکڑوں تلامذہ و دیگر علماء سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مولانا مرحوم 75 برس کے تھے ، طویل عرصے سےمسلسل بستر علالت پر تھے، جسم میں نقاہت بہت تھی، کانپور کے ایک ذاتی شفاخانے سے علاج چل رہاتھا، تاہم جانبر نہ ہوسکے، گزشتہ 7 دسمبر کی شب تقریبا 9:30 بجے دار فانی سے رحلت فرماکر مالک حقیقی سے جا ملے۔ واضح ہو گذشتہ 8 نومبرمولانا مرحوم کی اہلیہ بھی اچانک انتقال ہوگیا تھا، ابھی یہ صدمہ مندمل بھی نہ ہوا تھا کہ مولانا بھی راہی عدم ہو گئے، مولانا نے طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں، سیکڑوں علماء وحفاظ نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، آپ کے خرمن بافیض کے خوشہ چنندگان کی ایک طویل فہرست ہے جو آج ملک بھر میں آب وتاب کے ساتھ دینی خدمات میں مصروف عمل ہیں، آپ کے دینی کارنامے ، سر گرمیاں اور جہد مسلسل سے عبارت زندگی ان شاء اللہ آپ کو ہمیشہ زندہ رکھے گی، مولانا مرحوم کے 4 صاحبزادے مولانا محمد طارق جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع ہردوئی ، حافظ محمد راشد ، حافظ محمد عاصم ، محمد عاقل اور تین صاحبزادیاں ہیں، علماء کرام نے پسماندگان سے اظہار تعزیت کے دوران مشترکہ طور پر کہا یقینا موت کا ایک دن معین ہے، ایک دن سب کو اسی راہ عدم کا راہی ہونا ہے، تاہم کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی سے زمانہ اشک بار ہوتا ہے، ابھی ایک صدمے کا زخم مندمل بھی نہ ہوا تھا کہ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد خالد بلگرامی بھی داغ مفارقت دے گئے ۔ مولانا کے انتقال کی خبر پا کر دل صدمے سے چور ہے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر و استقامت عطا فرمائے، تعزیت کنندگان اور شرکائے نماز جنازہ میں جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کانپور کے استاذ مولانا محمد اکرم جامعی ، مولانا عبدالجبار قاسمی، مولانا محمد نعیم جامعی، قاضئ شہر کانپور حافظ عبدالقدوس ، قاری طاہر بیگ، مولانا محمد غفران، مولانا محمد حسان، مولانا محمد خبیب لکھنؤ ، حافظ محمد زید لکھنؤ، مولانا محمد سہیل لکھنؤ، مولانا عبداللطیف مظاہری قنوج، مولانا محمد طلحہ سانڈی، قاضی شہر قنوج مولانا محمد شمیم، مفتی محمد مجیب سمدھن، جمعیۃ علماء اناؤ کے صدر مولانا مختار عالم ، مولانا محمد سفیان سینتہ، مفتی محمد جنید قاسمی، حافظ فخرالدین ملاواں، اچھن سیٹھ گرسہائے گنج، مولانا عبدالقدوس رومی، حافظ طریق احمد، حافظ محمد احمد، مفتی عبدالتواب اناوی، مفتی عبدالمتین قاسمی کنہری، خلیل احمد وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے