استاذ الاساتذہ مولانا محمد خالد بلگرامی کی رحلت ملت کا عظیم خسارہ ہے

  • جامعہ انوارالعلوم بلگرام میں منعقد تعزیتی نشست میں علماء نے کیا اظہار خیالات

بلگرام/ہردوئی (حافظ طریق احمد)
بلگرام قصبے کے جامعہ انوارالعلوم میں مدرسے کے ناظم اور سیکڑوں علماء کے استاذ مولانا محمد خالد بلگرامی کے انتقال پر آج ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا نشست کا آغاز مولانا محمد رضوان کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، نعت منقبت اور تعزیتی اشعار مدرسے کے طالب علم محمد آصف جلالی نے پیش کئے،
منعقدہ تعزیتی نشست میں مولانا محمد شریف جامعی سمیت دیگر علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، مولانا محمد شریف نے کہا موت برحق ہے، کارگاہ عالم کی ہر شے کیلئے فنا مقدر ہے، باقی رہنے والی ذات صرف اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی ہے، وہ ہر شے کا خالق ومالک ہے، تاہم کسی مایہ نازاور بزرگ عالم دین وعبقری شخصیت کی رحلت ملت اسلامیہ کا وہ عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی مشکل سے ہو پاتی ہے، ایسی ہی شخصیات میں ایک عظیم شخصیت حضرت مولانا محمد خالد بلگرامی کی تھی، یقینا قلب محزون، آنکھیں اشکبار ہیں، باری تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، انہوں نے سب سے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی بھی اپیل کی، مدرسہ کے استاذ مفتی محمد رضوان فرخ آبادی نے کہا دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا صرف اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہے گی، باقی سب فنا ہو جائیں گے، انہوں نے کہا ایک موقع پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیم وسلم نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا والدین کے سامنے اولاد کے اعمال ہفتہ میں پیش کئے جاتے ہیں اگر اعمال اچھے ہوں تو والدین کی روح خوش ہوتی ہے اس لیئے کوشس کریں زیاد سے زیادہ اچھے اعمال کریں، مدرسہ کے استاذ وامام عیدگاہ مولانا محمد اطہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان کیلئے تعزیت مسنونہ پیش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے