مٹر گرے

مٹر گرے،کہیں دور سے آتی ہوئی دروازوں سے ہوکر گھرو میں گھستی یہ آواز بچپن سے لے کر آج تک کی مکمل کہانی کہہ دیتی ہے ،یہ آواز چھوٹے بڑے ہر ایک کے چہرے پر ایک الگ سی خوشی لانے کی وجہ بن جاتی ہے گلی کا ہر بچہ مہارا کی ایک آواز پر کہتا بھاگتا ہے مہارا آگئے مہارا آگئے، مہارا بہت دور ہوتے ہیں اور ہم آپس میں لڑ پڑتے ہیں ایک کہتا ہے جلدی پیسے نکالو تو دوسرا کہتا ہے ارے جاو جلدی مہارا کو روکو، اور اس خوشی والی ہڑبڑاہٹ میں روپیے بھی جلدی ملنے کا نام نہیں لیتے اور پھر کوئی تیسرا کہتا ہے جب تک وہ چلے نا جایں پیسے تھوڑی نا ملیں گے اور اس بات پر جواب ملتا ہے تو آو خود ہی ڈھونڈ لو،اور بات کہنے والا بس آنکھیں دکھا کر چپ ہو جاتا ہے آخر اتنی فرصت کہاں ہے کی کوئی آپس میں لڑے اگر مہارا چلے گئے تو؟ تو پھر کیا کسی ایک کی طرف سے صلاح دی جاتی ہے کہ جب تک ہم پیسے نکال رہے ہیں ایک جا کر باہر مہارا کو روکے اور یہ مشورہ سبھی خوشی خوشی مان لیتے ہیں اور گھر کا سب سے چھوٹا فرد مہارا کو دیکھنے باہر چلا جاتا
ہے اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر بتاتا ہے کہ ابھی مہارا تو بہت دور ہیں ، وہ کیا ہے نا کہ مہارا کی آواز تو ہے ہی بہت بھاری اوپر سے وہ لگاتار اپنا چمچہ اپنے توے پر کھٹکھٹایا کرتے ہیں ارے نہیں وہ چمچ توے پر مار کر آواز نہیں نکالتے ہیں بلکہ وہ اپنا مٹر جو بڑے سے توے پر گرم ہو رہا ہوتا ہے اسے چلایا کرتے ہیں لیکن ہاں خالی توے پر چمچ کھٹکھٹانے کی انکی عادت ہے ،اور انکے چمچ سے نکلنے والی آواز بہت دور تک جاتی ہے اتنی دور تک کی محلے میں گھستے ہی انکے آنے کا پتہ محلے کے آخری گھر تک ہوجاتا ہے اور وہ ساتھ- ساتھ بہت بھاری آواز میں کہتے ہیں مٹر گرے اور یہی ان کی پہچان ہے ،لیکن یہ جان کر مہارا تو ابھی بہت دور ہیں سب کی بےچینی بڑھ سی جاتی ہے دس منٹ کا راستہ دس مہینے جتنا لگنے لگتا ہے ‘صبر’ مہارا کے آنے پر صبر نام کی چیز ختم ہو جاتی ہے پھر کیا ایک بار پھر سے صلاح کار بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں اور اس بار صلاح یہ بنتی ہے کہ ایسا کرو مہارا کے آنے میں ابھی بہت وقت ہے تو جاو جہاں وہ کھڑے ہیں وہیں چلی جاو، یہ ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ محلے کے ہر گھر کی کہانی ہے ادھر مہارا کا چمچ کھٹکھٹاتا ہے ادھر ہر گھر کے باہر بچے موجود، اور جب مہارا محلے میں لگی نیم کے پاس ہوتے ہیں تو مہارا غائب ہوجاتے ہیں کیونکہ چھوٹے بڑے بچو کی بھیڑ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے اور اس بھیڑ میں وہ دکھائی ہی نہیں دیتے، اور پھر کیا سب کے منہ سے ایک ہی بات مہارا پکوڑی دینا، مہارا پانچ روپے کا مٹر دینا ،مہارا ٹکی بنا دو ،مہارا مرچی ذیادہ کردو، مہارا میٹھی چٹنی ڈال دو،مہارا کی پکوڑی بہت اچھی ہوتی ہیں پانچ کی پانچ پکوڑی، اب جب ایک طرف پورا محلا پکوڑی مٹر کھا رہا ہے تو بھلا نانی دادی کیوں پیچھے رہتیں؟ تو پھر کیا جاو پانچ روپے کی پکوڑی امی کے لئے لے آو، اور ہاں چچی کے لئے بھی لیتی آنا ،اور پھر جاکر بوڑھی نانی اور خالہ جان کے لیے بھی لے آنا،لو بھیڑ تو بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ دوسرے محلے کے بچے بھی آگئے ہیں ان کو ڈر تھا کہ مہارا کی پکوڑی، ٹکی یہیں پر ختم ہو گئیں تو؟ اور جو پہلے سے کھڑے تھے وہ تو ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہے وہ بات یہ ہے کہ مہارا کے ٹھیلے سے خوشبو ہی ایسی اڑتی ہے جو پاوں باندھ لیتی ہے، آج سب کی جمع پونجی ختم ہوگئی لیکن دل نہیں بھرا بھلا ایک دو پتے پکوڑی یا مٹر کھا لینے سے دل بھی بھرتا ہے کیا،؟لیکن انکا بھی تو کوئی غم پوچھے جن کے آنے تک مہارا کا ٹھیلا خالی ہو چکا ہے اور وہ خالی توے پر چمچ کھٹکھٹاتے واپس جا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ۰۰۰۰مٹر گرے

تحریر: صدف جمال، محموداباد بارہ بنکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے