یکساں سیول کوڈ مسلمانوں کے علاوہ ہندو قبائل بھی مسترد کردیں گے (قسط 2)

  • دفعہ 44کو نافذ کرنا بھارتی باشندوں کو ذہنی کشاکش میں مبتلا کرنا ہے

تحریر: محمد عبدالحفیظ اسلامی
9849099228
mahafeez.islamic@gmail.com

مسلمانوں میں معاشی پسماندگی پیدا کرنا بھی ایک اہم مقصد رہا ہے کہ مسلم اُمت کو ملک میں روزی روٹی کے لئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے پوری طرح کشادہ نہ کئے جائیں۔ اگر کہیں ووٹوں کے حصول کے لئے سرکاری ملازمتیں دیئے بھی جائیں تو صرف آٹے میں نمک کے برابر ہی ہونا چاہئے۔ مسلمان جب اپنی روزی روٹی پیدا کرنے کے لئے ذاتی طور پر کچھ چھوٹی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے اور دوکانات قائم کرکے اپنی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کے لئے کوشش کی تو اسے فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ تباہ و تاراج کرنے کے لئے ان کے کاروباری مراکز کو لوٹا گیا، نذر آتش کیا گیا اور ان کے گھروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا۔ نتیجہ کے طور پر معاشی لحاظ سے مسلمان جہاں سے اُٹھے تھے وہیں پہنچائے جاتے رہے۔ اور یہ کھیل پچھلے چھ سات دہوں سے کھیلا جارہا ہے اور ملک میں اب تک جتنے فسادات رونما ہوئے۔ اس میں غالب چیز یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کردیا جائے تاکہ یہ ’’قوت لایموت‘‘ فراہم کرنے میں ہی اپنا وقت اور صلاحیت صرف کرتے رہیں اور اقتدار میں حصہ داری کی طرف ان کی توجہ ہرگز نہ جائے، ملک کے شہری کی حیثیت سے دستور نے جو حقوق مقرر کئے ہیں اس کی حصولیابی کے لئے کوئی جدوجہد ہی نہ کرسکیں۔
مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے وزن کرنے کے لئے بھی مکروہ سازشیں کی جاتی رہیں۔ ان کا سیاسی مقاطعہ اس طرح کیا گیا کہ انتخابی حلقے بناتے وقت مسلم اُمت کے اکثریتی علاقوں کو ایسا تقسیم کردیا گیا کہ وہ کئی کئی حلقوں میں بٹ کر رہ گئے اور جہاں مسلم اکثریتی ووٹروں کو تقسیم نہ کیا جاسکا وہ حلقے ریزرو کانسٹی ٹیونسی بناکر (خواہ پارلیمانی حلقے ہوں یا ریاستی اسمبلیاں ہوں) مسلم نمائندگی سے محروم کرنے کے لئے اکثر جگہ کوششیں کی گئیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جو پارٹیاں اپنے آپ کو غیر فرقہ پرست باور کراتی ہیں اور سیکولر ہونے کا دم بھرتی ہیں۔ یہ بھی مسلمانوں کو انتخابات کے موقع پر ٹکٹ دینے میں انصاف نہیں کرتیں، جو پارٹیاں سیکولرازم کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، اگر یہ لوگ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں انصاف سے کام لیتے تو آج پارلیمنٹ میں کم و بیش 100 مسلم ممبران مسلمانوں کے علاوہ دیگر پسماندہ گروہوں کی اچھی نمائندگی کرتے اور ان کے مسائل حل کرتے۔
کانگریس پارٹی دو بیلوں کی جوڑی سے لے کر گائے بچھڑے تک اور اس کے بعد ’’ہاتھ نشان‘‘ کے اپنے دور اقتدار میں ایسی ایسی غلطیاں کیں جس میں بہت بڑا دانستہ جرم فرقہ پرستوں اور جنونی قسم کے لیڈروں کے ساتھ نرم رویہ اور فسادات کا ننگا ناچ کرنے والوں کو قابو میں نہ لینا، مسلمانوں کا قتل کرنے اور ان کی عورتوں کی عصمتیں لوٹنے اور ان کے کاروباری اداروں کو جلانے اور ان کے گھروں کو تباہ و تاراج کرنے والے مجرمین کو قانون کے عین مطابق سزائیں نہ دلانے اور ملزمین و مجرمین کو کھلی چھوٹ دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لوگ پچھلے 60 65- برسوں میں آہستہ آہستہ بے خوف ہوگئے، اور ان کی ہمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ یہ لوگ قانون کے رکھوالوں کے سامنے دن کے اُجالے میں 400 سالہ مسجد کو شہید کردیا۔ اس طرح قانون کا مذاق اُڑانے والوں پر نہ گولی چلی، نہ آنسو گیاس کے شل برسے اور نہ آج تک خاطیوں کو سزائیں ہوئیں، بلکہ یہ سب بری کردئیے گئے۔ اس طرح کانگریس پارٹی کی اپنی غلط پالیسی اور حکمت عملی اور اس کی صفوں میں شامل فرقہ پرستوں کی مسلم دشمن فکر و نظر پر روک نہ لگانا اسے اتنا مہنگا پڑا کہ آج سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے گروہ کو اقتدار حاصل ہوگیا اور یہاں تک کہ کانگریس پارٹی اپوزیشن کے وزن دار رول کے موقف میں بھی نہ رہی۔ آزادیٔ ہند سے کچھ پہلے، مسلم دشمنی پر مبنی جو بیچ بویا گیا تھا وہ آزادی کے فوری بعد اور تقسیم ہند کے دوران میں ایک پودے کی شکل اختیار کرگیا اور برسراقتدار لوگوں کی دانستہ غفلت اور اس کی غلط پالیسیوں نے اس پودے کو خوب سیراب کیا اور آج ایک خاردار درخت کی شکل اختیار کرتے ہوئے آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ گویا کانگریس کے ہندو لیڈر پنڈت شردھانند کا بویا گیا بیج تناور درخت بن کر کڑوے کسیلے پھل ملک کے باشندوں کو خصوصاً مسلم اقلیت کے لئے تیار کردئیے گئے۔ اس طرح مسلمانوں کا جہاں پر سیاسی استحصال کیا جاتا رہا، معاشی طور پر پسماندگی کا شکار بنایا گیا، اور ان کی جان و مال کو ضائع کرنے کی مستقل سعی کی گئی، ان کی عبادت گاہوں اور درسگاہوں پر بُری نظریں ڈالی گئیں۔ اس طرح ہر موقع پر مسلمانوں کو زک پہنچائی جاتی رہی، لیکن جب سے (RSS کا سیاسی بازو) BJP کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو فرقہ پرست لوگوں کے عزائم کھل کر سامنے آگئے گویا گلی کے لیڈر سے لے کر دِلّی کے لیڈروں تک کی زبانیں بے قابو ہوگئیں۔ کانگریس دور میں بھی مختلف نعرے لگائے جاتے رہے لیکن اب جو نعرے لگائے جارہے ہیں وہ ہندو راشٹرا کو روبہ عمل لائے جانے کی تیاری معلوم ہوتے ہیں۔ خواہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستوں میں اس کی پائی جانے والی حکومتیں ہوں ان میں ایک بات مشترک ہے وہ یہ کہ قانون کی بالادستی، ضابطہ اخلاق اور قانون کی محافظت اور اس کا نفاذ ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بدولت جب جی چاہے جہاں چاہے، جنونی اور فرقہ پرست لوگ مسلمانوں کو اپنا نوالہ تر بنالیتے ہیں اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پر مامور محکمہ کے کارکن اکثر موقع پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ایسے موقع پر جانوں اور املاک کے تلف کئے جانے پر اعلیٰ پیمانے پر کوئی بازپرس نہیں کی جاتی جیسے کہ گجرات، ممبئی اور ہاشم پورہ و دی گر مقامات پر مسلمانوں سے متعلق ہوا، علاوہ ازیں پسماندہ طبقات کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کچھ حال ہے، البتہ طریقے بدلے ہوئے ہیں۔
شرپسند عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے آزاد ہیں، گاؤ رکھشا کے نام پر گائے کا گوشت کھانے اور اس کا ذخیرہ کرنے اور گائے کو ذبح کرنے کے الزام میں کسی کو بھی جان سے مار ڈالنا اور گھر کو تباہ کرنا یا کسی کو بھی اس سلسلہ میں پھانسی پر لٹکا دینا اب کوئی جرم نہیں رہا۔ کیوں کہ ہندو فرقہ پرست لوگ اپنے عقیدے کی دہائی دے کر دستور اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ ہم ابتداء میں تحریر کرچکے کہ دستور کی دفعہ 44 کے سلسلہ میں اب تک اشاروں ہی اشاروں میں اس کے نفاذ کے لئے آوازیں اُٹھا کرتی تھیں لیکن اب سنگھ پریوار کے برسر اقتدار آجانے کے بعد اس مطالبہ میں شدت پیدا کردی گئی۔ اگر یہ لوگ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اِس سے مسلمانانِ ہند کی انفرادیت ختم ہوکر رہ جائے گی۔ اور دیگر ہندو مذہبی گھرانے بھی اپنے رسم و رواج جس پر وہ صدیوں سے کاربند ہیں ذہنی اذیت سے دوچار ہوں گے۔ غرضیکہ اپنا دین بچانا شرعی احکامات کی محافظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
یکساں سیول کوڈ مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت تو ہے ہی لیکن ملک میں پائے جانے والے مختلف ہندو قبائل بھی اس سے سخت متاثر ہوں گے۔ ملک میں اگر دفعہ 44کو نافذ کردیا گیا تو مذہب پر چلنے والا ہر آدمی ایک عجیب و غریب کیفیت سے دوچار ہوگا اور اپنے مذہبی اقدار کا پابند شخص ذہنی الجھن میں مبتلا ہوکر اپنے اندر بے چینی و بے قراری محسوس کرے گا۔ مذہبی طور پر ہر شخص کے اپنے شخصی قوانین ہیں جسے کسی بھی طرح سے چھوڑا نہیں جاسکتا، کیونکہ یہ اس کے ایمان و مذہب سے تعلق کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن اکثر صورتوں میں تو لوگ اپنی روایات کے پابند ہوتے ہیں، جو کسی بھی طرح سے چھوڑے نہیں جاتے، بعض چیزیں علاقائی ہیں اور بعض آبائی طور طریقوں پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن دنیا میں ہر ایک ملک اپنی ضرورت اور ملک کی ترقی و حفاظت کے لئے کوشاں رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے اپنے قوانین میں ترمیم یا نیا قانون بنانا بھی ناگزیر ہوتا ہے اور یہ سارے کام ملک کے مفاد کے لئے کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ملک بھی جو کہ دنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے، اس نے بھی حسب ضرورت اپنے دستور میں قوانین کو شامل و ترمیم کرتا رہا اور ملک کی ترقی و خوشحالی اور اس کی حفاظت کے لئے آگے بھی اس جانب کوشش ہوتی رہے گی، لیکن اب اس وقت یونیفارم سیول کوڈ کی طرف ہمارے صاحب اقتدار لوگ آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے نہ تو ملک کا مفاد وابستہ ہے اور نہ ہی موجودہ شخصی قوانین کی وجہ سے ملک کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی اپنے پرسنل لا پر عامل رہتا ہے اور اسے اس کی آزادی رہتی ہے تو وہ روحانی طور پر لیس ہوکر ملک کی ترقی کے لئے ہمہ تن رہتے ہوئے شب و روز گزارتا ہے اور یہی جمہوریت کی خوبی ہے۔
سنگھ پریوار کے اقتدار میں ہندوستانی مسلمان سخت اضطراب و تشویش میں مبتلا ہیں اور مسلمانوں کی یہ تشویش ایک حقیقت بھی ہے اس لئے کہ جب ملک میں سارے مذاہب کے لوگوں کے لئے یکساں سیول کوڈ نافذ ہوجائے تو لازماً مسلمان بھی اس کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بظاہر یکساں سیول کوڈ کی یہ تجویز ملک میں پائے جانے والے ہر شہری کیلئے ہے لیکن اس کا اصل حدف اور نشانہ ملت اسلامیہ ہند ہے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کا یہ اضطراب اور ان کی بے چینی کی کیفیت حق بجانب ہی معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ جب ملک میں یکساں سیول کوڈ قائم کردیا جائے تو مسلمانوں کے پرسنل لاء میں ایک بہت بڑی مداخلت پیدا ہوجائے گی جس کی شریعت اسلامی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہوں ہوگا۔ اس سلسلہ میں مولانا صدر الدین اصلاحیؒ نے جو تحریر فرمایا ہے اس کا کچھ خلاصہ درج ذیل ہے:
مثلاً نکاح کو لے لیجئے، کسی بھی شخص کے نکاح کے جائز ہونے اور قانونی موقف اختیار کئے جانے کا سارا انحصار اس کوڈ میں پائی جانے والی دفعات پر ہوگا۔ اس سلسلہ میں قرآن حکیم کی ہدایات اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاداتِ گرامی نے کیا کیا پابندی اور ضابطہ مقرر فرمایا ہے اس سے ملک کے قانون کو کوئی سروکار نہیں ہوگا اور ٹھیک اِسی طریقہ سے طلاق (ثلاثہ) و حلالہ وغیرہ کو لیجئے، طلاق بھی ان ضابطوں کے عین مطابق دی جاسکے گی اور واقع ہوسکے گی جس کا اس قانون میں ذکر کیا گیا ہو۔ علاوہ ازیں وراثت کے حق دار وہی لوگ قرار پائیں گے اور ان کے حصے بھی اتنے ہی مقدار میں ملیں گے جن کا تعین اس کامن سیول کوڈ میں کیا گیا ہوگا۔
مذکورہ بالا خلاف اسلام قانون میں یہ چیزیں بھی شامل رہیں گی جیسے کہ مہر، شہادت، نفقہ، زوجین کے حقوق، ثبوت نسب، خلع، ایلا، عدت، وصیت، متبنیٰ (گود لینا)، وقف اور ہبہ وغیرہ کے اسلامی قوانین اور ضابطے مذکورہ بالا تمام چیزیں اسلامی قانون سے تعلق رکھتی ہیں جس پر عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
(جاری)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے