اسپین ہمارا فردوسِ گم شدہ ہے اور مراکش فردوس بازیافتہ

تحریر: تابش سحر

تاجدارِ مدینہؐ نے ظلم و جبر سے آلودہ اس دھرتی پر امن و امان اور عدل و انصاف سے آراستہ ایک ریاست آباد کی۔ آپؐ کی نگاہِ کرم اور کاوشوں ہی کا ثمرہ تھا کہ اسلامی ریاست کا ایک ایک شہری تبدیلی اور انقلاب کا علمبردار ثابت ہوا۔ صدّیقِ اکبر نے اس ریاست کو استقامت بخشی اور فاروقِ اعظمؓ کے زمانے میں بڑے پیمانے پر فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسلامی لشکر شرق و غرب اور شمال و جنوب میں پیش قدمی کرنے لگے، ان کی پیش قدمی کے پیچھے زمین و زر کی ہوس نہ تھی وہ فقط ظلم کے اندھیروں میں ڈوبی انسانیت کو حق کی روشنی سے متعارف کروانا چاہتے تھے، ان کا مقصد بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر عبادتِ خداوندی کی طرف لانا تھا۔

فاروقِ اعظمؓ کے حکم پر مغربی سمت حضرت عمرو بن عاصؓ نے پیش قدمی کی اور افریقہ کے دروازے مصر کو کھول دیا اسی مناسبت سے آپ کو فاتحِ مصر کہا جاتا ہے بعد ازاں آپ نے لیبیا میں بھی اسلام کا پرچم لہرایا۔ حضرت عثمانؓ کے عہدِ حکومت میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اس سمت مزید آگے بڑھے، جنگجو قوم بَربَر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، رومیوں کے دانت کھٹے کردیے اور اس طرح افریقہ کے کئی علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوگئے، آپ کے لشکر کو عبداللہ بن عباسؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عمروؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کی موجودگی کے سبب "جیشِ عبادلہ” بھی کہا گیا پھر نور علیٰ نور حسنین کریمینؓ بھی سپاہ کو چار چاند لگا رہے تھے۔ جب فتنے برپا ہوے تو حیدرِ کرّار نے سیاسی مصلحت کے پیشِ نظر افریقہ کے علاقوں کو مرکز سے جدا کردیا تھا اس دوران عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ہر وقت دعا کرتے کہ "اے اللہ میرے اعمال کا خاتمہ صبح کی نماز پر فرما” اور پھر ایک دن فجر کی نماز کا سلام پھیرتے ہی آپؓ کی وفات ہوگئی۔ امیر معاویہؓ کے عہدِ امارت میں افریقہ کے محاذ پر معاویہؓ بن حدیج السکونی کو مامور کیا گیا۔ آپؓ نے اپنی فتوحات اور رفاہی کاموں کے زریعہ رعایا کا دل جیت لیا اور افریقہ میں مزید پیش قدمی کے لیے اس جنرل کا انتخاب کیا جس نے شمالی افریقہ میں شجاعت و بہادری کی عجیب داستان لکھ دی۔

یہ عقبہ بن نافع ہے، شمالی افریقہ میں علاقوں پر علاقے فتح کررہے ہیں اور دریافت کررہے ہیں "ھل من ورائکم احد؟” کیا تمہارے بعد بھی کوئی اور ہے؟ جواب ہاں ملتا تو یہ ادھر لپکتے اور سرکشوں کی سرکشی کو خاک میں ملا دیتے، افریقہ کا ہیبتناک جنگل انہیں مرعوب نہ کرسکا، زہریلے سانپوں کے مسکن اور درندوں کے ٹھکانے پر آپؓ نے آواز لگائی "اے سانپو اور درندو! ہم رسولِ خداؐ کے جاں نثار ہیں، ہم یہاں خیمہ زن ہورہے ہیں سو تم کوچ کرو، اس کے بعد ہم جسے پائیں گے قتل کردیں گے۔” افریقہ میں فتوحات کی تکمیل عقبہ بن نافع کی جبینِ ناز پر لکھی ہوی تھی سو آپ ہر رکاوٹ پار کرتے ہوے افریقہ کے آخری مغربی کنارے مراکش پہنچ گئے، مراکش کے ساحل پر بحرِ اوقیانوس میں گھوڑا ڈال دیا اور سمندر کو دیکھتے ہوے فرمایا "یا رب اگر یہ سمندر نہ ہوتا تو میں جہاد کرتا ہوا دوسرے علاقوں میں نکل جاتا۔” پھر آپ نے اپنی تمام فوج کو "قیروان” واپسی کا حکم دیا، {قیروان تیونس میں ایک شہر ہے جسے عقبہ نے ہی بسایا تھا} اور خود ۳۰۰ ساتھیوں کے ہمراہ پیچھے رہ گئے، باغیوں نے موقع کو غنیمت جانا اور چہار جانب سے حملہ آور ہوے، اللہ کے شیروں نے اپنی نیامیں توڑ دی بےجگری سے لڑے اور شرفِ شہادت حاصل کیا۔ {مراکش چونکہ افریقہ کا آخری مغربی کنارہ ہے اسی لیے اسے عرب "مغرب” کہنے لگے جبکہ انگریزی میں مراکو مشہور ہے۔}

عقبہ بن نافع کے بعد اس علاقے میں بڑا نام موسیٰ بن نُصیر کا آتا ہے جنہیں عبدالعزیز بن مروان نے افریقہ و مغرب کا والی مقرر کیا تھا، موسیٰ بن نصیر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نرمی، کشادہ ظرفی، سیاسی حکمتِ عملی اور دوراندیشی سے بَربَر قوم کی بغاوتوں اور سرکشی کا خاتمہ کردیا تھا۔ بَربَر جنگجو قوم تھی، ان جنگجؤوں کو جب شکست سے دوچار کیا جاتا تو اطاعت قبول کرلیتے اور جب کبھی موقع ملتا تو بغاوت کی آگ بھڑکا دیتے۔ رومیوں نے ایک عرصے تک شمالی افریقہ پر حکومت کی، بَربَر ان کے لیے بھی دردِ سر تھے اب شمالی افریقہ کے یہ علاقے مسلمانوں کی ریاست کا حصّہ تھے تو بَربَر اسلامی ریاست کے لیے بھی مسئلہ تھے اور اس مسئلے کا حل موسیٰ بن نصیر کے پاس موجود تھا لہذا افریقہ میں فتوحات کے بعد اب امن و امان قائم ہوگیا اور بن نُصیر’ بن زیاد کے ساتھ فتحِ اندلس کے خواب دیکھنے لگا۔

یہ خواب’ مراکش میں دیکھا گیا تھا، اس کی تعبیر ڈھونڈنے والے مراکش میں قیام پذیر تھے، تاریک صلیبی اندلس کو روشنی کا مینار بنانے کی یہ منصوبہ بندی اسی سرزمین پر کی گئی تھی اور بالآخر مجاہدوں نے سمندر کا غرور توڑ دیا، ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر کچھ فاصلے تک کشتیوں کو زمین پر گھسیٹا اور پھر جبل الطارق پہنچ کر طارق بن زیاد نے سپاہیوں کو مخاطب کیا "دشمن تمہارے سامنے ہیں اور سمندر تمہارے پیچھے، سو اب جائے پناہ کہاں؟” لشکرِ اسلام کا جوش و جنوں آسمان سے باتیں کررہا تھا، ان کے عزم و ہمّت کو دیکھ کر پہاڑ تھرتھرانے لگا، صلیبی سپاہی کٹ کٹ کر گرنے لگے اور یوں فتحِ اندلس کا آغاز ہوا۔ اندلس ایک اسلامی ریاست بن گئی، مسلمانوں نے اندلس کو دلہن کی طرح سجادیا، علم و حکمت کے موتیوں سے اسے آراستہ کیا، خوبصورت محلّات اور چشموں سے زینت بخشی، علوم و فنون کے ماہرین عطا کیے، خوشحالی اور فارغ البالی کا دور دورہ تھا مگر ہر عروج کا زوال مقدّر ہے سو جب حکمرانوں میں اوصافِ قیادت کا فقدان ہوا تو سلطنت کا چراغ بجھنے لگا اور صلیبیوں کا خطرہ منڈلانے لگا، اندلس باوجود اپنی کشادگی کے مسلمانوں پر تنگ ہوگیا تو مظلوم و بےبس اسی راستے سے واپس ہوے جس راستے سے طارق فاتحانہ داخل ہوا تھا۔ انہیں مراکش نے ٹھکانہ فراہم کیا، مراکشی عوام نے اپنے بھائیوں کو تسلّی دی اور یہ مظلوم’ مراکش میں آباد ہوگئے۔ حوادثِ زمانہ کے ستم جھیلے ہوے یہ مسلمان اپنے ساتھ اندلس کی بھولی بسری یادیں، روشن تہذیب اور رسم و رواج لائے تھے سو کچھ ہی عرصے بعد مراکش اندلسِ ثانی بن گیا اور تاحال اسی حالت پر قائم ہے اسی لیے مولوی شمس تبریز خان کہتے ہیں "اسپین ہمارا فردوسِ گم شدہ ہے اور مراکش فردوس بازیافتہ”
جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے