سونار بنگلہ (قسط نمبر 5)

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا ایک سفر

گزشتہ سے پیوستہ

ازقلم: آفتاب ندوی، دھنباد، جھارکھنڈ

29 اکتوبر بروز سنیچر صبح دس بجے یونیورسٹی کی کانفرنس ھال میں جلسۂ افتتاحیہ کا آغاز بنگلہ دیش کے عالمی شہرت کے مالک قاری سعید الاسلام اسد کی تلاوت سے ھوا ، یہ جلسہ ایک بجے کے بعدختم ھوا ،
،تلاوت کے بعد یونیورسٹی ٹرسٹ کے چیرمین پروفیسر ابو رضاء محمد نظام الدین ندوی نے فصیح وبلیغ عربی میں خطبۂ استقبالیہ پیش کیا ، دنیا کے مختلف ملکوں سے تشریف لائے مہمانوں کو اپنی طرف سے اور یونیورسٹی کے تمام ذمہ داران ، اساتذہ ، طلبہ اور اسٹاف کی طرف سے خوش آمدید کہتے ھوئے انہوں نے ھدیۂ تشکر پیش کیا ، یونیورسٹی کے قیام سے ابتک کے حالات اورجس نشیب وفراز سے یونیورسٹی گزرکر یہانتک پہنچی اس سے بھی حاضرین کو واقف کرایا ، برما کے مظلوم مسلمانوں کا بھی تذکرہ آیا ، یونیورسٹی کے عربی ترانہ کے ساتھ ملک کا بنگلہ قومی ترانہ بھی پڑھاگیا ،، امر شونار بنگلہ ،،( سونا جیسا میرا بنگال ) ، بنگلہ دیش کے تین نامور حفاظ وقراء سے تلاوت بھی سنی گئی اور انہیں انعامات دئیے گئے ، مہمانوں کو ایوارڈ اور شیلڈ دیکر تکریم وعزت افزائی کی گئ ، یونیورسٹی ٹرسٹ کے وائس چئیرمین جناب قاضی دین محمد صاحب نے یونیورسٹی کے قیام اور اسکے ابتدائی دنوں کی داستان سنائی ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انور عارف صاحب نے بھی مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ھوئے نذرانۂ تشکر پیش کیا ،، دنیا کے مختلف ملکوں سے آیے ھوئے مہمانوں سے بھی تأثرات سنے گئے ،، انگلش یا عربی میں لوگ اپنی بات رکھ رھے تھے ، البتہ ترکی کے ڈاکٹر قدرت بلبل نہ انگلش جانتے تھے نہ عربی اور نہ بنگلہ ، ترکی جاننے والے ایک بنگلہ دیشی نوجوان نے انکی تقریر کا ترجمہ کیا ، کار میں ایک مرتبہ انکا ساتھ ھوا تو میں نے کہا زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم تو اشارہ سے انھوں نے جواب دیا میں کچھ نہیں سمجھ رھا ھوں ، ڈاکٹر اکرم صاحب بھی تھے ، میں نے انہیں بتایا کہ ترکی کے سفر میں بار بار یہ مثل زبان پر آیا ،

ڈاکٹر اکرم صاحب نے اپنی تأثراتی گفتگو میں اسلام سے بنگلہ دیش کے تعلق اور دینی علوم کی نشرو اشاعت میں یہاں کے علماء اور قدیم اداروں کی خدمات کا تذکرہ کیا ، انھوں نے بتایا کہ مشھور محقق صوفی شیخ مخدوم شرف الدین یحی منیری کے استاد اور خسر شیخ شرف الدین ابو توامہ کا سونار گاوں مدرسہ حدیث اور دوسرے علوم کی تعلیم کیلئے دنیا بھر میں شہرت رکھتا تھا ، نیز انہوں نے بتایا کہ حدیث کی مشہور کتاب مسلم شریف شیخ ابو توامہ ہی کے ذریعہ برصغیر میں پہنچی ،،،
اخیر میں ایک بار پھر ڈاکٹر ابو رضاء ندوی کے پاس مائک لایا گیا ، انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ھوئے کہا : آپ حضرات کی آمد کی وجہ سے ھمارا یہ جشن ایک یادگار اور تاریخی جشن بن گیا ھے ، ظہرانہ کا نظم یونیورسٹی کیمپس ہی میں تھا ،مہمانوں نے کیمپس کا معائنہ بھی کیا ،
جاری۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے