جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں۔۔۔

تحریر: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

7061674542

ہمارے پیارے ملک بھارت پر ایک دور وہ بھی گزرا ہے کہ جب یہاں انگریزوں کا تسلط تھا ، یہاں کے باشندوں کی آزاد زندگی چھین لی گئی تھی اور ذہن و دماغ پر بھی انگریز قابض ہو گئے تھے ، لیکن یہاں کے غیور اور باحمیت لوگوں نے اس غلامی کو قبول کرنے سے انکار کیا اور آزادی کی جد و جہد چھیڑ دی جس کیلیے ان کو بڑی بڑی خون آشام قربانیاں دینی پڑیں آخر کار ایک لمبے جد وجہد کے بعد انگریزوں کا تسلط ختم ہوا اور ملک بھارت میں آزاد فضا قائم ہوئی۔
آزادی کے بعد ضرورت تھی ایک دستور کی ایک قانون کی جو تمام انسانوں کیلئے بہتری ہو سب کو حقوق دئیے جائیں چنانچہ قانون ساز اسمبلی کی بنیاد رکھی گئی اور ایک نظام قائم کیا گیا جس کو ( جمہوریت) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

جمہوریت کیا ہے ؟؟

جمہوریہ، طرز حکومت، حکومت کی ایک حالت ہے جس میں لوگ یا لوگوں کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے، اس طرز حکومت میں سربراہ حکومت منتخب کیا جاتا ہے، اس کو بادشاہت عطا نہیں ہوتی، یہ اصطلاح جمہوریہ انگریزی اصطلاح Republic کا ترجمہ ہے جو لاطینی زبان کی اصطلاح res publica سے اخذ ہوا ہے اور اس کا مطلب عوامی معاملہ کے ہیں۔
جدید و قدیم جمہور نظریات اور طرز حکومت میں انتہائی مختلف ہیں۔ جمہوریہ کی سب سے عام تعریف یہ ہے کہ کسی ریاست میں ایسی حکومت جس کا سربراہ حکومت کوئی بادشاہ نہیں بلکہ منتخب شدہ عوامی نمائندہ ہو۔ دنیا کی مشہور جمہوریہ جیسے امریکا، فرانس میں سربراہ حکومت کو نہ صرف آئین کے تحت بلکہ عوامی رائے عامہ کے بعد ہی منتخب کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں جیمز میڈسن نے جمہوریہ کی تعریف “نمائندہ جمہوریت“ کے تحت کی ہے جو “راست جمہوریت“ کا تضاد مانا جاتا ہے، اور امریکا میں اب بھی اپنے آپ کو جمہوریت پسند کہلوانے والے اس تعریف اور امریکا میں جمہوریت کے بارے میں یہی نظریہ اپناتے ہیں، عام طور پر جمہوریہ میں طرز حکومت مختلف ہو سکتی ہے، یعنی کہ سیاسی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوریت میں یا تو تمام عوام کی حکومت ہوتی ہے یا پھر عوام کی بڑی آبادی کی جانب سے اکثریت والی سیاسی جماعت یا افراد حکومت چلانے کے فرائض دینے کے اہل ہوتے ہیں، دونوں صورتوں میں حکومت عوام یا جمہور کی رہتی ہے اور اس لیے دونوں طرز حکومتوں کو جمہوریہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ جدید سیاسیات میں جمہوریت اس مخصوص نظریے کا نام ہے جو مجموعی عوامی رائے عامہ پر پروان چڑھتا ہے اور اس کو دوسرے عوامی نظریات جیسے آزاد خیالی یا روشن خیالی سے منفرد سمجھا جاتا ہے۔
عمومی طور پر جمہوریہ ایک خودمختار ریاست کا دوسرا نام ہے، لیکن خود مختار ریاست میں ذیلی انتظامی و سیاسی اکائیاں وجود رکھتی ہیں جو جمہوریہ کے ماتحت رہتی ہیں یا کئی مواقع پر ان انتظامی و سیاسی اکائیوں کو بھی ضرورت کے مطابق آزاد یا پھر وفاقی جمہوریت کے طرز پر ڈھال دیا جاتا ہے۔
کئی سیاسی ماہرین نے فلاح کو کسی بھی ریاست میں بنیادی جمہوری نکتہ گردانا ہے، یعنی کہ سب سے قابل قبول اور عمل جمہوریہ وہ گردانی جائے گی جس کی بنیاد عوامی فلاح اور بہبود پر رکھی گئی ہو۔

عام طور سے جمہوریت جس کو لوگ سمجھ سکیں وہ یہ ہے کہ عوام اپنی راۓ دہی کا بھر پور استعمال کرسکتا ہے، اپنے حقوق کا پرزور مطالبہ کرسکتا ہے، دین و مذہب پر عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا اختیار ہوتا ہے، کسی بھی دھرم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو قطعاً برداشت نہیں کیا جاتا، ایک مکمل ازادی کی فضا قائم کی جاتی ہے،
اس کے برخلاف اگر کوئی ماحول پیدا ہو جائے تو عوام کو یہ حق ہے کہ وہ برسراقتدار پارٹی سے سوال کرے،
اور برسراقتدار پارٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی سے گریز نھ کرتے ہوئے مسموم ہوا کے جھونکوں کے رخ کو پلٹنے کی حتی الامکان کوشش کرے۔

موجودہ حکومت جمہوریت کے ڈھانچے کو مسمار کرنے پر تلی ہے، بیانوں میں بھاشنوں میں جمہوریت کی دہائی دی جاتی ہے لیکن عمل باغیانہ ہے، جمہوریت کے وہ تمام اصول ختم ہونے کو ہے جس سے ایک انسان ملک میں باعزت شہری بن کر زندگی گزار سکے۔
ایسے میں ضرورت ہے ایک ایسی طاقت کی جو جمہوریت کی روح کو برقرار رکھے اس کے تشخص کو بحال کرے اور مسموم ہواؤں کے جھونکے کو باد نسیم میں تبدیل کرے، علامہ اقبال نے خوب کہا تھا

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جسمیں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے