یہی درس دیتا ہے ہر شام کا سورج

سال گزشتہ کچھ محاسبہ، کچھ عزائم

ازقلم: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

7061674542

خداے لم یزل نے ازل سے ہی رات و دن کا الٹ پھیر ، وقت کا آواگون ، موسموں کا اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور الی الأبد جاری رہے گا ، وقت کی رفتار کبھی رک نہیں سکتی ، مہینوں کے اختتام کی روک تھاما نہیں ہوسکتی ، سال کا آنا اور جانا کبھی بند نہیں ہوسکتا ،۔ کیوں کہ یہ تکوینئ کائنات کے نظام کا حصہ ہے ، ان میں کسی ایک کا بھی اگر الٹ پھیر ہو جائے تو نظام کائنات درہم برہم ہو جائے ، قیامت صغریٰ کا منتظر کھینچ دے ،
یہی حال انسان کی عمروں کا ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی کمی آتی رہتی ہے جبکہ انسان اس خام خیالی میں رہتا ہے کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے ،
اسی زیادتی کو سوچتے سوچتے وقت موعود آپہںچتا ہے اور انسان ہمیشہ کی نیند سجائے سو جاتا ہے،
در اصل زندگی گزارنے کے کچھ طور طریق ہوتے ہیں اور اسی لئے کامیاب بھی وہی ہو تے ہیں جو کسی اصول کے تحت اپنی زندگی گزارتے ہیں، ورنہ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا تو جانوروں کو بھی اتا ہے،
سب سے پہلی بات یہ ذہن نشین رہے کہ ہر لمحہ ہر سکینڈ جاتے جاتے یہ صدا لگاتا ہے کہ اب میرا ہمیشہ کیلیے وقت ختم ہوا دوبارہ میں میسر نہیں آؤں گا ، اب دوسری گھڑی آئے گی اور اس میں سارا منظر بدلا ہوا رہے گا لہذا ۔۔ عقلمندوں مجھسے فائدہ اٹھا لو تاکہ حسرت ہاتھ نہ آئے ،
اسی کو حدیث پاک میں کہا گیا ہے کہ ۔۔۔ حاسبو قبل ان تحاسبو ۔۔۔ ایک ایک وقت کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے ،
دوسری جگہ فرمایا ۔۔۔۔ بروز محشر آدمی کا پاؤں نہیں اٹھے گا جب تک وہ چار سوالوں کے جوابات نہ دے دیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ۔۔ زندگی دی تھی کہاں گنوایا ۔۔۔۔
ایک جگہ اور فرمایا گیا کہ جنت میں مؤمنوں کو صرف اس بات کی حسرت رہے گی ہم نے فلاں سکینڈ یاد خدا سے غافل ہوکر کیوں برباد کر دیا تھا ،
اس تناظر میں اگر غور کریں اور اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ہم صفر نظر آتے ہیں ، وقت برق رفتاری کے ساتھ گزر جاتا ہے مہینہ و سال ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر یوں ہی برباد کردیتے ہیں ،اور پھر کامیابی کامیابی کی رٹ لگاتے ہوئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں ،
ابھی ہم ایک نئے سال کا آغاز کرنے جارہے ہیں ، ایک جنوری کی شروعات کرتے ہی خوشیوں کا سماں ہوجاتاہے ایسا کوئی بڑا تہوار اگیا ہو ، صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں ، نہادھوکر عمدہ لباس زیب تن کرتے ہیں ، عمدہ کھانوں سے دسترخوان سجایا جاتا ہے ، نئی نئی امنگیں نئے منصوبے نئے نئے خواب بنتے ہیں طرح طرح کے خرافات گھڑتے ہیں ، ایک دوسرے کو نیا سال کی مبارکباد پیش کرتے ہیں ، لیکن حقیقت پر غور کیا جائے تو خوشی کا دن نہیں ہوتا بلکہ احتساب کا دن ہوتا ہے ، زندگی سے ایک سال ختم ہوا اب حساب یہ کرنا ہے کہ ماضی میں یعنی سال گذشتہ ہم نے کتنا کچھ کیا ، کونسی کامیابی ہاتھ آئی ، کونسی کیسی ترقی ہماری زندگی میں آئی ،اور پھر نئے سال میں کیا کرنا ہے ،
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ماضی کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتے اس لیے جس طرح یہ سال گزر گیا یہ سال بھی گزر جائے گا اور ہم پھر نئے سال کی مبارک باد دیں گے ،
لیکن ہماری عقل نے فنائیت کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے ہمارے قدم موت کی اور بڑھ رہے ہیں اور ہم خوشیوں میں مست و مگن ہیں ،
کوشش ہو کہ وقت کو کار آمد بنائیں ماضی کی کوتاہیوں کو دور کریں اور بے جا رسوم و رواج سے اجتناب کریں تاکہ ہمیں کبھی حسرت کا اوربپشیمانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے