مولانا مستقیم احسن اعظمیؒ کے انتقال پرذمہ داران جمعیۃکا اظہار تعزیت

جمعیۃ علماء کے حلقے میں یہ خبر بہت ہی دکھ کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ آج فجر سے پہلے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر اور جمعیۃ علماء ہند کے اہم رکن حضرت مولانا مستقیم احسن اعظمی ؒ (84 / سال ) نےطویل علالت کے بعد اس عالم فانی کو الوداع کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
آج ہی قبل از عصر ناریل واڑی قبرستان ( رے روڈ ممبئی)میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا مرحوم کا آبائی وطن مشرقی یوپی کا مردم خیز ضلع اعظم گڑھ ہے۔آپ پچھلے چھ دہائیوں سے ممبئی میں بسلسلہ روزگار مقیم تھے۔قیام ممبئی کے دوران آپ مختلف اداروں ،تنظیموں ،رفاہی،سماجی اور فلاحی کاموں میں سرگرم عمل رہتےتھے ۔
مولانا کے انتقال پر جمعیۃعلماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند اورناظم عمومی مفتی سید معصوم ثاقب نے تعزیت مسنونہ پیش کی اور دعا کی کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ہم سب لواحقین جمعیۃعلماء کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین۔اور جمعیۃعلماء کے تمام متعلقین و متوسلین سےمولانا مرحوم کے بلندی درجات اور دعاء مغفرت کی درخواست کی ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی صاحب نے مولانا مرحوم کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کو اللہ نے بہت ساری خوبیوں سے نوازا تھا وہ صاحب طرز ادیب اور باکمال خطیب ،ہر دل عزیز،منکسر المزاج،متواضع انسان تھے۔مولانا نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے پلیٹ فارم سے ملک و ملت کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،مولانا کے اندر خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔مولانا کو اپنی سرگرم قومی و ملی خدمات کی وجہ سے بالخصوص مہاراشٹر میں نمایاں مقام حاصل تھا ،مولانا نے پچھلے دو دہائی سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے منصب صدارت پر فائز رہ کر جمعیۃ کو استحکام بخشا۔ مولانا کے انتقال سے جمعیۃ علماء ایک فعال اور مدبر قائد سے محروم ہوگئی ہے۔
جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ جناب الحاج گلزار احمد اعظمی صاحب نے مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم تقریبا پچپن سال سے جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ تھے اور ان کو پچھلے تین دہائیوں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر میں کلیدی حیثیت حاصل تھی، قحط الرجال کے اس دور میں مولانا جیسی شخصیت کا اٹھ جانا جماعت کا عظیم خسارہ ہے۔ مولانا اپنی گونا گوں خصوصیات کی وجہ سے مہاراشٹر کی سرکردہ شخصیات میں شامل تھے۔آپ ایک متحرک اور فعال صدر ہونے کے ساتھ جما عت کے اہم ستون تھے جس کے منہدم ہوجانے سے ہم وابستگان جمعیۃ یتیمی کا احساس کررہے ہیں،آپ کا انداز خطابت اپنے خاص رنگ وآہنگ کی وجہ سے عوام میں بے پناہ مقبول تھا آپ کو مختلف علوم و فنون پربے پناہ قدرت حاصل تھی آپ کی تاریخ پر بھی گہری نظر تھی۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے جمعیۃ علماء کی جملہ اکائیوں، جماعتی احباب، اور ائمہ مساجد سے مولانا مرحوم کے ایصال ثواب کے اہتمام کی درخواست کی ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے