اورنگ زیب کا نام لینا کیا قانونی جرم ہے ؟

قومی انتخاب ہوں یا ریاستی بھاجپا کے پاس صرف ایک ایجنڈا ہے جو اس نے اپنے آقاؤں سے سیکھا ہے کہ تفریق ڈالو اور راج (عیش) کرو ۔ حالانکہ اس نفرتی ایجنڈے نے حالیہ تین الیکشن میں اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکا مگر کتے کی ٹیڑھی دم کے مصداق وہ اسی فارمولے پر عمل پیرا ہے ۔ اب اس کی نظر مہاراشٹر پر ہے جہاں اس کی حالت خستہ ہے ۔ مہاراشٹر میں بھی ہندو مسلم کا کھیل شروع کردیا گیا ہے ۔ اسی کا ایک نمونہ اورنگ زیب کا معاملہ اچھال کر پیش کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں فساد کرانے میں کامیابی نصیب ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اورنگ زیب کا نام لینا یا ان سے اظہار عقیدت جتانا دستور ہند کے خلاف ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو عدلیہ کو چاہئے کہ اس پر ان نفرتی ٹولے کی سرزنش کریں اور حکومت کو اس بات کا پابند بنائیں ۔
اورنگ زیب کا مسئلہ اس مکاری سے اچھالا گیا تاکہ شیوسینا (نئی پرانی دونوں) اس میں ملوث ہو کر متحد ہوجائیں کیونکہ شیوسینا شیواجی مہاراج کو اپنا آئیڈیل مانتی ہے ان سے عقیدت رکھتی ہے اور تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ شہنشاہ اورنگ زیب اور شیواجی کے درمیان جنگیں ہوئیں ، اورنگ زیب نے شیواجی کو قید بھی کیا وغیرہ

جب غیر جانب داری سے اورنگ زیب اور شیواجی کے درمیان ہونے والی لڑائیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو بات واضح ہوتی ہے کہ یہ جنگیں کوئی مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ اس دور کے رواج کے مطابق ہر حکمراں اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے یا اپنی سلطنت بچانے کے لیے اپنے اطراف کے ان حکمرانوں سے لڑتا تھا جو اس کے دوست نہیں ہوتے تھے یا جن سے مستقبل میں کوئی خطرہ ہوتا تھا ۔ کیا آج کے دور میں جب جمہوریت کا شور ہے ایک سیاسی جماعت دوسری پر حملہ آور نہیں ہوتی ؟ جب آج کے انتخابات کو ہندو مسلم کر دیا گیا ہے جس میں ساری پارٹیوں کے زیادہ تر امیدوار ہندو ہوتے ہیں اور ان کے عہدے دار بھی زیادہ تر ہندو ہوتے ہیں اور کسی ہندو چہرے پر ہی انتخاب لڑا جاتا ہے ان پارٹیوں کے ایجنڈے بھی اسلامی قانون نافذ کرنے والے نہیں ہوتے اس کے باوجود چالاکی کے ساتھ بھاجپا ہر الیکشن کو ہندو بنام مسلم بنا کر پیش کرتی ہے تو دو سو سال سے زیادہ پرانی تاریخ کو مسخ کرکے ہندو مسلم چپقلش میں تبدیل کردینا کون سا مشکل کام ہے ؟
اورنگ زیب اگر ہندو دشمن ہوتا تو وہ صرف ہندو راجاؤں سے لڑتا لیکن اس نے تو پہلی لڑائی ہی اپنے بھائیوں کے خلاف لڑی اور باپ کو قید کر لیا ۔ اس کے بعد جب 1680ء میں شیواجی کی موت واقع ہوگئی اور اورنگ زیب کے بیٹے نے بغاوت کردی تو اورنگ زیب نے اپنے بیٹے کے خلاف بھی محاذ کھولا ۔ شہزادہ اکبر کی دکن کو فراری اور سنبھاجی سے اتحاد کی وجہ سے اورنگ زیب نے دکن جانے کا ارادہ کیا۔ 1681ء میں دکن پہنچنے پر شہزادہ اکبر کی بغاوت فرو کرنے اور مرہٹوں کی سرکوبی کے بعد اورنگ زیب نے بیجاپور اور گولکنڈہ کی جانب توجہ دی۔

اورنگ زیب کی رواداری جاننے کے لیے غیر جانب دار مورخین کی کتابیں پڑھیں اور آر ایس ایس کی من گھڑت کہانی جس کو وہ تاریخ کا نام دیتے ہیں جو مضحکہ خیز ہے جس میں دہشت گرد گوڈ سے کو دیش بھکت اور گاندھی جی کو ملک کا غدار اور ساورکر جیسے بزدلوں کو بہادر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ نیچے ایسے ہی غیرجانب دار مورخ کے چند اقتباس پیش کرتا ہوں ۔

بعض مورخین اور مضمون نگار اورنگ زیب کو غیرروادار، تنگ نظر، جانبدار اور غیرمعقول ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ یا تو دانستہ اور شعوری کوشش ہے یا معاصر تاریخ کی کتابوںمیں درج واقعات اور بیانات کی غلط تشریح اور توضیح کا نتیجہ ہے۔ علاوہ ازیں وہ معتبر اور مستند حوالوں کو اپنی تحریروں کی بنیاد نہیں بناتے ہیں۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہیکہ عام طور پر حقیقت کو مسخ کرنے والوں کا بنیادی مقصد ملک کی ہندو اکثریت کے دلوں میں اس حکمرانی اور مسلم اقلیت کے لئے نفرت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔

ڈاکٹر بشمبھر ناتھ پانڈے سابق گورنر اڑیسہ کے ایک تحقیقی مقالے کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ پانڈے جی کا یہ مقالہ ’’ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین‘‘ کے زیرعنوان مختلف رسالوں اور اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ اس مستند تحقیقی مقالے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر مولانا آزاد اکیڈیمی، نئی دہلی نے اسے کتابچے کی صورت میں شائع کیا۔ اس مقالے کے مطالعے سے اورنگ زیب کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔ پانڈے جی مقالے کی ابتداء میں لکھتے ہیں کہ جب وہ 1948ء تا 1953ء کے دوران الہ آباد میونسپلٹی کے صدر تھے، ایک کارروائی ان کے زیرغور آئی۔ یہ تنازعہ ایک جائیداد کے بارے میں تھا جو سومیشور ناتھ مہادیو مندر کو وقف کی گئی تھی۔ مندر کے مہنت کے مرنے کے بعد اس جائیداد کے دو فریق دعویدار ہوئے۔ ان میں سے ایک نے اورنگ زیب کے چند فرامین پیش کئے جو اس کے خاندان کے قبضے میں تھے۔ پانڈے جی ان فرامین کو دیکھ کر کر شش و پنج میں پڑ گئے۔ انہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ اورنگ زیب جو مندروں کے انہدام میں بڑا دبدنام تھا وہ مندروں کو جاگیریں عطا کرنے کے سلسلے میں کس طرح احکام جاری کرسکتا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ فرامین اصل نہیں ہیں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل انہوں نے سرتیج بہادر سپرو سے جو فارسی اور عربی کے بہت بڑے عالم تھے، مشورہ کرنا مناسب سمجھا۔ سپرو صاحب نے فرامین کے مطالعے کے بعد کہا کہ اورنگ زیب کے یہ فرامین بالکل اصل ہیں۔ اورنگ زیب کی یہ نئی شبیہ جب پانڈے جی کے سامنے آئی تو انہیں سخت تعجب ہوا۔ سپرو صاحب کے کہنے پر انہوں نے متعدد اہم مندروں کے مہنتوں کو خط لکھے کہ اگر ان کے پاس مندروں کو جاگیر عطا کرنے کے سلسلے میں اورنگ زیب کے فرامین ہوں تو انہیں ان کی فوٹو کاپیاں بھیجی جائیں۔ ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ جب بڑے مندروں جیسے مہاکالیشور مندر (اجین)، بالاجی مندر (چترکوٹ)، امانند مندر (گوہاٹی) اور شمالی ہند کے دوسرے کئی مندروں اور گردواروں سے اورنگ زیب کے فرامین کی نقلیں وصول ہوئیں۔ یہ فرامین 1065ھ تا 1091ھ م 1669ء کے دوران جاری کئے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہیکہ ہندوستان ایک وسیع اور عریض ملک ہے جہاں ہزارہا مندر موجود ہیں۔ اگر مناسب انداز میں تحقیقی کام کیا جائے تو اور بہت ہی مثالیں سامنے آئیں گی جو اس بات کا ثبوت فراہم کریں گی کہ اورنگ زیب کی مذہبی غیر رواداری کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا وہ محض تعصب کی بنیاد پر تھا اور حقیقت یہ ہیکہ غیر مسلموں کی جانب اورنگ زیب کا طرزعمل مخیرانہ تھا۔ پانڈے جی نے اپنے مقالے میں کئی مندروں کے لئے جاری کردہ اورنگ زیب کے فرامین کے متن اور ان کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ اسٹیٹ آرکائیوز میں عہد اورنگ زیب سے متعلق تقریباً دیڑھ لاکھ کاغذات Docoments محفوظ ہیں۔ یہ کاغذات مغل صوبۂ دکن کے فوجی اور منصب داری نظم و نسق سے متعلق ہیں۔ اس آرکائیوز میں اورنگ زیب کے عہد سے متعلق سرکاری ریکارڈ کا جتنا بڑا ذخیرہ محفوظ ہے اتنا بڑا ذخیرہ ملک کی کسی اور ریاست کے آرکائیوز حتیٰ کہ نیشنل آرکائیوز آف انڈیا، نئی دہلی میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ اس مضمون میں اس آرکائیوز کے مغل ریکارڈ سے چند کاغذات پیش کئے جارہے ہیں۔ اسٹیٹ آرکائیوز کے مغل ریکارڈ کے ذخیرے میں اورنگ زیب کا حسب ذیل فرمان مورخہ 27 شعبان 1098ھ م 28 جون 1687ء موجود ہے۔ یہ فرمان اس اعتبار سے اہم ہیکہ اس سے اس مغل حکمران کی مذہبی رواداری کا ایک واقعہ منظرعام پر آتا ہے جو اپنی مذہبی عصبیت اور تنگ نظری کی وجہ سے تاریخ میں کافی بدنام ہے۔
قصبہ جالنہ پور اورنگ آباد کے مہادیو بھٹ ولد گنگادھر بھٹ نامی ایک برہمن نجومی نے ایک درخواست پیش کی تھی جس میں اس نے استدعا کی تھی کہ اسے اپنے مکان میں اپنے افراد خاندان کے ساتھ گنیش جی کی مورتی کی پوجا کے لئے رکاوٹ نہ ہو۔ اس درخواست سے یہ بات ظاہر ہوتی ہیکہ حکام گنیش جی کی مورتی کی پوجا کے لئے رکاوٹ پیدا کررہے تھے۔ مہادیو بھٹ کی درخواست پر اورنگ زیب نے مذکورہ بالا فرمان کے ذریعہ یہ احکام دیئے کہ مہادیو بھٹ اور اس کے افراد خاندان کے احوال و معاملات میں حکام کسی وجہ سے معترض نہ ہوں اور انہیں کوئی اذیت نہ پہنچائی جائے۔

اورنگ زیب پر نظم و نسق اور انتظامی معاملات میں جانبداری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ آرکائیوز میں محفوظ عہد اورنگ زیب کے کاغذات سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اورنگ زیب کو دیگر حکمرانوں کی طرح ملک اور مالک کے وفادار اور کارکرد عہدیدار عزیز تھے۔ اگر کسی فوجی مہم میں کوئی اونچے درجے کا مسلمان منصب دار شاہی حکم کی تعمیل نہ کرتا اور اس فوجی مہم کا سربراہ ہندو منصب دار مسلمان منصب دار کی جانب سے عدول حکمی کی اطلاع دیتے ہوئے کوئی سزاء تجویز کرتا تو اورنگ زیب کو تجویز کردہ سزاء کو منظوری دینے میں کوئی تامل نہ ہوتا۔ اس آرکائیوز میں محفوظ حسب ذیل یادداشت، احکام مقدس سے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔مرزا راجا جے سنگھ کو دکن کی مہم پر سربراہ بنا کر بھیجا گیا تھا اور اس کے ساتھ جن دیگر منصبداروں کو دکن کی مہم پر جانے کے احکام دیئے گئے تھے ان میں سرافراز خان بھی شامل تھا جو اعلیٰ درجے کا منصب دار تھا مگر سرافراز خان، راجا جے سنگھ کے ہمراہ دکن نہیں آیا۔ اس پر جے سنگھ نے اورنگ زیب کی خدمت میں ایک یادداشت روانہ کی جس میں اس نے لکھا کہ سرافراز خان جو پانچ ہزار ذات اور چار ہزار سوار کا منصب دار ہے، شاہی احکام کے باوجود اس کے ہمراہ دکن نہیں آیا۔ اس لئے خان مذکور کی منصب سے ایک ہزار ذات اور ایک ہزار سوار کم کردیئے جائیں۔ اورنگ زیب نے راجا جے سنگھ کی مجوزہ سزاء کو منظوری دیتے ہوئے سرافراز خان کی منصب سے ایک ہزار ذات اور ایک ہزار سوار تخفیف کرنے کے احکام دیئے۔

کسی کی ظلم و زیادتی کے خلاف شکایت وصول ہونے پر اورنگ زیب کی جانب سے معتبر عہدیدار کی جانب سے تحقیقات کرانے کے احکام دیئے جاتے تھے۔ اگر اس مقام پر ملزم کا کوئی قریبی رشتہ دار اہم سرکاری عہدے پر فائز ہوتا تو اس کا وہاں سے تبادلہ کرکے کسی اور عہدیدار کو اس کی جگہ مامور کرنے کا بھی حکم دیا جاتا تاکہ تحقیقات پر اثر نہ پڑے۔ آرکائیوز میں عہد اورنگ زیب سے متعلق جو کاغذات محفوظ ہیں، ان میں سے ایک کاغذ (حقیقت) سے اس بیان کی تائید ہوتی ہے۔ اس کاغذ میں یہ لکھا گیا ہیکہ ناروجی دیسمکھ، رسکو دیشپانڈیا و مقدم اور تجکلا تھانہ ضلع باسم صوبہ برار کی رعایا نے فتح جنگ فوج دار کے بیٹے نصرت کے ظلم و ستم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انصاف رسانی کی درخواست کی۔ یہ شکایت اورنگ زیب کے احکام کے لئے پیش کی گئی جس پر اورنگ زیب نے وزارت پناہ شفیع خان کو حکم دیا کہ امینِ معتبر کو بھیج کر تحقیقات کروائی جائیں اور تحقیقات کے دوران ملزم کے باپ (فتح جنگ فوج دار) کی جگہ کسی اور کا تقرر کیا جائے۔

جادو ناتھ سرکار نے اپنی کتاب History of Aurangzeb میں لکھا ہیکہ حاجی شفیع خان دیوان دکن ان اشخاص کو جو بیجاپور کی ملازمت چھوڑ کر مغلوں سے آملے تھے۔ جاگیرات تفویض کرنے میں اعتراض اور تاخیر کررہا تھا۔ مرزا راجا جے سنگھ صوبہ دار نے جاگیرات سپرد کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے دیوان کی شکایت اورنگ زیب کے پاس روانہ کی جس پر اورنگ زیب نے حاجی شفیع خان کو صوبۂ دکن سے ہٹانے کے احکام دیئے۔
بہر حال اس موضوع کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر قانونی کارروائی کی بھی ضرورت ہے ۔ زعفرانی بریگیڈیئر کی پوری کوشش ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی کو توڑا جائے یا کم از کم شیوسینا کے ورکرز کو برگشتہ کیا جائے تاکہ وہ مہا وکاس اگھاڑی سے الگ ہو کر ایکناتھ شندے کے ساتھ ہو جائیں ۔ مسلمانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ متنازعہ باتوں میں الجھ کر اپنی قوت اور وقت دونوں ضائع نہ کریں اور اپنے کسی بھی عمل سے بھگوا ٹولے کو نفع نہ پہنچائیں ۔

تحریر: مرزا انور بیگ
میرا روڈ ۔ تھانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے