دہشت گردی کے الزام میں گرفتار گیارہ مسلمانوں کی ضمانت عرضداشت لکھنؤ ہائی کورٹ میں داخل

  • متعینہ مدت میں چارج شیٹ داخل نہ کرنے پر ضمانت طلب کی گئی

لکھنؤ21/ جون
اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت دو مختلف مقدمات میں گرفتارگیارہ مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست لکھنؤ ہائی کورٹ میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان پٹھان اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی ہیں۔
القاعدہ برصغیر نامی دہشت گرد تنظیم کے مبینہ رکن ہونے کے الزامات کے تحت یو پی اے ٹی ایس نے ملزمین لقمان احمد، محمد حارث، آس محمد، محمد علیم، محمدنوازش انصاری،مدثر، محمد مختار، قاری شہزاد اور علی انور کو گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینا چاہتے تھے جبکہ یو پی اے ٹی ایس نے ہی جیش محمد نامی تنظیم سے مبینہ تعلق کے الزام محمد ندیم اور حبیب السلام کو گرفتار کیا تھا۔
ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں ٹیکنیکل گراؤنڈ پر داخل کی گئی ہیں کیونکہ تفتیش کے لیئے متعین مدت پوری ہونے کے باوجود تفتیشی ایجنسی نے عدالت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی اس کے برخلاف عدالت نے تفتیشی ایجنسی کی مدت میں اضافہ کی عرضداشت کو ملزمین کے علم میں لائے بغیر اور انہیں اپنے موقف کا اظہار کرنے کا موقع دیئے بغیر تفتیشی ایجنسی کو تفتیش مکمل کرکے چارج شیٹ داخل کرنے کے لیئے مزید نوے دنوں کی مہلت دے دی۔
ضمانت عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ شروعاتی نوے دن مکمل ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ نے پولس کی گذارش پر ملزمین سے تفتیش کرنے کے لیئے مزیدنوے دنوں کا اضافہ کردیا اور ٹرائل کورٹ نے جس دن آرڈر پاس کیا اس دن ملزمین کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیاتھا اور نہ ہی ملزمین کے وکلاء کو مطلع کیا گیا۔ پولس کی جانب سے داخل عرضداشت کے ساتھ ضروری حلف نامہ بھی عدالت میں داخل نہیں کیا گیا تھا لہذا عدالت کی جانب سے پولس کو تفتیش کی مزید مہلت دینا غیر قانونی ہے لہذا قانون کی خلاف ورزی پر ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔متعینہ وقت پر چارج شیٹ داخل نہ کرنا ملزمین کو حاصل بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہے۔عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران مزید تفتیش کے لیئے وقت طلب کرنے پر عدالت کو تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے نا کہ پولس کی ایماء پر یوں ہی تفتیش کی مدت میں اضافہ کردیا جائے۔
عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتارملزمین بے قصور ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے لہذا انہیں مشروط ضمانت پر رہا کیا جائے۔ملزمین کی گرفتاری مختلف ایام میں عمل میں آئی تھی لہذا ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں بھی علیحدہ علیحدہ داخل کی گئیں ہیں جس پر لکھنؤ ہائی کورٹ سماعت کریگی۔
واضح رہے کہ یو اے پی اے قانون کی دفعہ 43(d) اورکریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 167(2)کے تحت تفتیشی ایجنسی کو نوے دنوں میں چارج شیٹ عدالت میں داخل کرنا ہوتا ہے اور اگر تفتیشی ایجنسی کو چارج شیٹ داخل کرنے کے لیئے مزید مہلت کی ضرورت ہو تو عدالت نوے دنوں کامزید اضافہ کرسکتی ہے لیکن اس کے لیئے تفتیشی ایجنسی کو عدالت میں بذریعہ حلف نامہ یہ بتانا ضروری ہوتا ہیکہ انہیں مزید مہلت کی ضرورت کیوں ہے، تفتیشی ایجنسی کو عدالت میں تفتیش کی فائل پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اسی کے ساتھ ساتھ ملزمین کو بھی موقع دیا جانا ضروری ہے کہ وہ تفتیشی ایجنسی کی عرضداشت کی مخالفت کرسکیں لیکن متذکرہ دونوں مقدمات میں ملزمین کے علم میں لائے بغیر تفتیش کی مہلت میں تین مہینوں کا اضافہ کردیا گیا۔
نوے دن مکمل ہوتے ہی ملزمین نے جمعیۃ علماء کے توسط سے خصوصی عدالت میں ڈیفالٹ ضمانت عرضداشت داخل کی تھی کیونکہ تفتیشی ایجنسی نے چارج شیٹ داخل نہیں کی تھی، عرضداشت داخل کرنے بعد عدالت نے یہ کہتے ہوئے ان کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی کہ تفتیشی ایجنسی نوے دن مکمل ہونے بعد مزید نوے دن کی مہلت طلب کرسکتی ہے لہذا عدالت نے انہیں مزید تین مہینوں کی مہلت دے دی ہے۔ نچلی عدالت سے ضمانت عرضداشت مسترد ہونے کے بعد ملزمین نے جمعیۃ علماء کے توسط سے تکنیکی بنیادوں پر لکھنؤ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کی ہے جس پر جلد سماعت متوقع ہے۔ ماضی میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائیکورٹس نے اس طرح کے معاملات میں ملزمین کے حق میں فیصلہ دیا ہے، تفتیش کے لیئے متعینہ مدت میں تفتیشی ایجنسی کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنا ہی ہوتا ورنہ تاخیر کا فائدہ ملزمین کو دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے