امن و امان کی برقراری کیلئے حکومت سماج دشمن عناصر سےسختی سے پیش آئے

  • فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ ، ملت سے مشتعل نہ ہونے کی اپیل

ممبئی : فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس ریاست مہاراشٹر کے تقریباً تمام مسلم جماعتوں ، تنظیموں اور بااثر شخصیات پر مشتمل متحدہ محاذ ہے، جس کا بنیادی مقصد ریاست و ملک کے مختلف مسائل میں ملت کی بروقت رہنمائی ہے اور حکومت سے موثر نمائندگی بھی کرتی ہے ۔
ریاست و ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایک آن لائن میٹنگ لی گئی جس کی صدارت ریاست کے مشہور و معروف تعلیمی ادارے اور انجمن اسلام ممبئی کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے فرمائی اجلاس میں مشہور شیعہ عالم مولانا ظہیر عباس رضوی، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری ومسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر مولانا ڈاکٹر محمود دریابادی، خوجہ شیعہ اثنا عشری جماعت کے امام مولانا سید آغا روح ظفر، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر حافظ اقبال چونا والا، جماعت اسلامی ہند ممبئی کے ناظم عبدالحسیب بھاٹکر اور فیڈریشن کے کوآرڈینیٹر شیخ عبدالمجیب جالنہ و شاکر شیخ ممبئی نے میٹنگ میں شرکت کی ۔
میٹنگ میں متفقہ طور پر ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ کچھ دنوں سے مذہبی تہواروں کے نام پر پر نفرت پھیلانے کی پالیسی پر تشویش اظہار کیا گیا۔ مسلم حکمرانوں کی تصاویر کو بنیاد بنا کر منظم فساد کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر نفرت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ ان سماج دشن عناصر کی کوششوں کوبے اثر بنانے کیلئےمسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کو صبر و تحمل اور حکمت کے ساتھ پرامن طریقے سے اپنے کاموں کو انجام دینا ہوگا۔
مہاراشٹر مسلمس فیڈریشن کی اس آن لائن میٹنگ میں ذمہ داران نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ یہ تمام ہتھکنڈے 2024 کے الیکشن جیتنے کے لئے سماج کے اندر پولرائزیشن کو بڑھاوا دینے کےمقصد سے مسلم نوجوانوں کو اشتعال دلاکر امن کی فضا بگاڑنے کی کوشش ہے ۔ذمہ داران نے ان حالات میں بہترین حکمت عملی کے ساتھ اور سیاسی طور پر اس کا جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
میٹنگ میں طئے کیا گیا کہ ان تمام امور کو لے کر ارباب حکومت سے بات کی جائے گی اور مطالبہ کیا جائے گا کہ سماج دشمن عناصر سے سختی سے نمٹا جائے، ریاست کے ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ کولہاپور ، اکولہ ،ضلع جلگاؤں ، ضلع احمد نگر میں جو بے گناہ جیل میں ڈال دیئے گئے ہیں ان کی فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ذمہ داران نے میٹنگ میں یکساں سول کوڈ کے سلسلہ میں حکومت کی پیش قدمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔واضح ہو کہ بھارت کے 22ویں لا کمیشن میں 14 جون 2023 کو یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں ملک گیر سطح پر مشاورتی عمل شروع کیاگیا ہے۔ جوابات درج کروانے کے لیے انتہائی کم وقت دیا گیا ہے۔ جس سے حکومت کی منشا صاف نظر آتی ہیں۔ 2018 میں لا کمیشن نے 182 صفحات پرمشتمل رپورٹ تیار کی تھی اور حکومت سے صاف کہا تھا کہ ملک کے کسی طبقے کو یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا پھر سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جانب قدم بڑھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کے جذبات و احساسات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلم نے یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں طئے کیا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی گائیڈ لائن میں کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ ساتھ ہی دیگر کمیونٹی اور مذاہب کے لوگوں سے جو یکساں سول کوڈ کے حق میں نہیں ہے ان سے ملاقات کی جائے گی۔
میٹنگ میں عیدالاضحیٰ کے پیش نظر یہ بات طئے کیا گیا کہ پوری ریاست اور بطور خاص ممبئی میں عیدالاضحیٰ سے قبل سماج دشمن عناصر متحرک ہو جاتے ہیں اور غیر ضروری طور پر قربانی کے جانوروں کو پکڑنا ان کے تاجروں کو ہراساں و پریشان کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،فیڈریشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سماج دشمن عناصر سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔ ریاست کا امن خراب نہ ہو اس کے لیے ضروری اقدام کیے جائیں۔ ساتھ ہی فیڈریشن مسلمانوں کیلئے عید الاضحیٰ سے قبل قربانی سے متعلق ریاست کی تنظیموں، تحریکوں کے ذمہ داران کی دستخط سے گائیڈ لائن جاری کرے گا۔
مولانا سید آغا روح ظفر کی دعا پر پر میٹنگ کا اختتام عمل میں آیا۔

شاکر شیخ
پریس سیکرٹری
فیڈریشن آف مہاراشٹرمسلمس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے